جیل جانے سے نہیں ڈرتے، مطالبات کی منطوری تک دھرنا جاری رہے گا: اساتذہ تنظیمیں

جیل جانے سے نہیں ڈرتے، مطالبات کی منطوری تک دھرنا جاری رہے گا: اساتذہ تنظیمیں

لاہور(خبرنگار) صوبے بھر کے اساتذہ کے قائدین اللہ بخش قیصر،چوہدری تاج حیدر ،سعیدہ اقبال، چوہدری اللہ رکھاگجر، ڈاکٹر اسحاق رحمانی اور دیگر نے سرکاری سکولوں کی نجکاری کوتعلیم دشمن اور استاد دشمن پالیسی کی شکل قرار دیاہے۔ اور اعلان کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک پنجاب اسمبلی کے سامنے جاری دھرنے کو ختم نہیں کیا جائے گا ۔اساتذہ کے تیسرے روز احتجاجی دھرنے میں پیپلزپارٹی پاک سرزمین پارٹی ، مختلف مزدورتنظیموں وسول سوسائٹی کے ارکان نے اظہاریکجہتی کا اظہارکیا۔ تفیصلات کے مطابق پنجاب ٹیچر زیونین کے زیر اہتمام اساتذہ نے تیسرے روز بھی پنجاب اسمبلی کے سامنے سرکاری سکولوں کی نجکاری ،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے خلاف اور پے سکیلوں کی اپ گریڈ یشن سمیت دیگر مطالبات کی منظوری کے لئے احتجاجی مظاہرے اور دھرنے کو جاری رکھا ۔ دھرنے سے قائدین اساتذہ اللہ بخش قیصر مرکزی صدر ،رائے غلام مصطفی ریاض مرکزی چیئرمین ،چوہدری محمد ارشد گل مرکزی وائس چیئرمین ،صوفی محمد رمضان انقلابی مرکزی صدر ٹیچرز الائنس ،ملک عبداللطیف شہزاد مرکزی صدر پی ٹی یو ، چوہدری تاج حیدر مرکزی جنرل سیکرٹری ،مرزا طارق محمود مرکزی سیکرٹری نشرواشاعت ،رائے محمد عبداللہ سینئر نائب صدر، چوہدری محمد عارف سہو مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل،ملک انور قادری ،وحید مراد، اللہ رکھا گجر چیف آرگنائزر PTU، رانا نقیب الرحمن نے الگ الگ خطاب کرتے ہوئے حکومت پنجاب کے ارباب اختیار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر تعلیمی اداروں کی نجکاری اور PEFاور NGOsکو دینے کی تعلیم دشمن اور استاد دشمن پالیسی کو واپس نہ لیا گیا تو اساتذہ اس سازش کو ناکام بنانے کیلئے آخری حد تک جانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔قائدین نے اس سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ PEFاور NGOsکو تعلیمی ادارے سپرد کرنا نجکاری کی بدترین شکل ہے۔ گورنمنٹ سکولز ملک و ملت کی غریب عوام جو تعداد میں تقریباً90فیصد بنتی ہے ان کے بچوں کی تعلیمی مستقبل کی آخری امید کے طور پر اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ حکمرانوں میں موجود تدریسی ایجنڈے پر کام کرنے والے مفاد پرست عناصر اور تعلیمی بیوروکریسی میں موجود کالے انگریز قانون ایک سازش کے ذریعے ملک کی نظریاتی اساس کو کمزور کرکے ملک عزیز کے قومی اور اسلامی تشخص کو تباہ و برباد کرنے کی سازش کرچکے ہیں لہذا اساتذہ پنجاب اس سازش کو بے نقاب اور ناکام کرنے کیلئے میدان عمل میں کود چکے ہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب زمینی حقائق کے مطابق فوری نوٹس لے کر تعلیمی اداروں کو حسب سابق گورنمنٹ سیکٹر میں رکھ کر اصلاح احوال کریں۔ اساتذہ اپنے بھرپور تعاون کی پیشکش کرتے ہیں۔ اگر اساتذہ کے مطالبات حکومت وقت نے تسلیم نہ کیے تو اساتذہ پنجاب ٹیچرز یونین کے زیر اہتمام تاتسلیم مطالبات احتجاجی دھرنا جاری رکھیں گے۔ جس کی تمام تر ذمے داری حکومت وقت پر ہوگی۔ دوسری جانب سے اساتذہ کے تیسرے وز جاری احتجاجی دھرنے میں محکمہ تعلیم کے افسران مشتاق سیال اور دیگر نے مذاکرات کرنے کی کوشش کی ۔ تاہم ٹیچرریونین کے مرکزی صدراللہ بخش قیصر اور دیگر قائدین نے وزیراعلیٰ پنجاب یاپھرچیف سیکرٹری دونوں میں سے ایک سے مذکرات کرنے سے انکارکردیا۔ اس موقع پر اللہ بخش قیصر ،ڈاکٹراسحاق رحمانی ، سعید ہ اقبال ، اللہ رکھا گجر، اور روف پیرزادہ نے گزشتہ رات اساتذہ کے دھرنے سے خظاب کے دوران کیاکہ مطالبات کی منظوری تک احتجاجی دھرنا جاری رہے گااور اس سلسلہ میں اساتذہ جیل بھی جانے کو تیار ہیں۔

مزید : صفحہ آخر