پنجاب میں رمضان بازار غریبوں کیلئے سستی خریداری کا اچھا ذریعہ ثابت ہوں گے

پنجاب میں رمضان بازار غریبوں کیلئے سستی خریداری کا اچھا ذریعہ ثابت ہوں گے

تجزیہ:قدرت اللہ چودھری:

 رمضان المبارک کا آغاز تو 7 جون سے متوقع ہے۔ سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں میں رمضان کا چاند نظر آگیا ہے، وہاں آج 6 جون کو پہلا روزہ ہے۔ پنجاب حکومت کے زیر اہتمام سستے رمضان بازار شروع ہوچکے ہیں، 5 جون کا اتوار، رمضان سے پہلے آخری اتوار تھا، جب لاہور میں پارہ 46 درجے سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، روزے کے لئے سحری و افطاری وغیرہ کی خریداری کے لئے لوگ اس گرمی میں بھی باہر نکلے۔ پورے پنجاب میں رمضان بازاروں کے لئے حکومت نے 5 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے، جہاں بنیادی اشیائے خوراک سستے داموں میسر ہیں۔ ان بازاروں پر انتظامیہ کی خصوصی توجہ ہے اور اس کی کوشش ہے کہ تمام اشیا ہر وقت مقررہ نرخوں پر دستیاب ہوں۔ تاہم ان بازاروں کے مقابلے میں عام بازاروں میں مہنگی اشیا فروخت کرنے کی دوڑ لگی ہے۔ مسلمان تاجر کئی ماہ سے رمضان کا انتظار کر رہے تھے، اس لئے انہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت قیمتیں بڑھا دی ہیں، جو پورے رمضان جاری رہیں گی اور عیدالفطر کے دنوں میں بھی مہنگائی کا یہ تجارتی میکانیزم جاری رکھا جائیگا۔

رمضان المبارک میں کھجور سے روزہ افطار کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ سنت رسولؐ بھی ہے اور اس سے روزہ داروں کی توانائی بھی بحال ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں سال کے باقی مہینوں میں کھجور نہ زیادہ فروخت ہوتی ہے نہ کھائی جاتی ہے۔ جو کھجور چند روز پہلے تک معقول نرخوں پر عام دستیاب تھی اور اس کے زیادہ گاہک بھی نہیں تھے، اب اس کی قیمتوں میں یکایک دو تین گنا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ایک دکاندار سے استفسار کیا گیا کہ اچانک نرخ کیوں بڑھا دئے ہیں تو اس کا جواب تھا ’’منڈی میں مال کم ہے اس لئے قیمت زیادہ ہے۔‘‘ پاکستان کھجور پیدا کرنے والا دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے، اس کے باوجود رمضان میں ایران اور دوسرے ملکوں سے کھجور درآمد کی جاتی ہے۔ سعودی عرب سے بطور تحفہ بھی کھجور پاکستان بھیجی جاتی ہے، جو پاکستانی مارکیٹوں میں فروخت ہوتی ہے۔ اس کے باوجود اتوار کے روز کھجوریں مہنگی فروخت ہوتی رہیں، تاہم رمضان بازاروں میں مقررہ نرخوں پر وافر مقدار میں دستیاب تھیں۔ باقی تمام اشیا بھی مقررہ نرخوں پر فروخت ہو رہی ہیں، حتیٰ کہ چینی بھی بازار بند ہونے تک دستیاب تھی۔ رمضان میں چینی کا استعمال بڑھ جاتا ہے، اس لئے اس کی طلب میں بھی اضافہ ہونا قدرتی بات ہے۔ گزشتہ برس اس سلسلے میں یہ شکایات سامنے آئی تھیں کہ چینی صبح کے اوقات میں تو مل جاتی تھی لیکن شام کو عموماً دکانداروں کے پاس اس کا سٹاک نہیں ہوتا تھا۔ اب کی بار انتظامیہ خصوصی طور پر اس جانب توجہ دے رہی ہے۔ چنانچہ اتوار کے روز رمضان بازاروں میں چینی مقررہ نرخوں پر فروخت کی جا رہی تھی۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

پھل عام طور پر مہنگے دستیاب ہیں۔ اس کی بہت سی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پھل منڈیوں میں جو پھل فروخت کیلئے لایا جاتا ہے، اس کی پیٹیوں کی اوپر کی تہہ میں تو اچھا پھل لگایا جاتا ہے، لیکن نیچے والی تہوں میں گھٹیا کوالٹی کا پھل بھر دیا جاتا ہے، جو بھی پرچون فروش یہ پھل خرید کر لے جاتا ہے، وہ جب حساب لگاتا ہے تو اچھے اور گھٹیا پھل کو ملا کر اسے جو پیٹی ملتی ہے، وہ اسی کے حساب سے اپنی پرچون قیمت کا تعین کرتا ہے، اس لئے پھلوں کی گرانی ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پھل منڈی میں پھلوں کی چیکنگ کا کوئی نظام رائج کیا جائے اور پیٹیوں میں ناقص مال بھر دینے کی روش کی حوصلہ شکنی کے لئے مارکیٹوں میں مجسٹریٹوں کا تعین کیا جائے۔

آڑھتیوں کو اگر من مانی کی اجازت دی جائیگی تو پھلوں کی مناسب قیمت پر فراہمی کو ممکن نہیں بنایا جاسکے گا۔ رمضان سے قبل جو آلو بخارا اور خوبانی 200 روپے کلو میں فروخت ہو رہی تھی، ایک ہی دن میں ان کی قیمتوں میں ڈیڑھ گنا تک اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جو پھل رمضان سے پہلے نسبتاً سستے تھے، اب وہ بھی مائل بہ گرانی ہیں۔

ہمارے ملک میں رمضان کے پورے مہینے میں مہنگائی کا ایک طوفان آیا رہتا ہے جبکہ دنیا بھر میں کرسمس کا تہوار آنے سے کئی مہینے پہلے تاجر سستی اشیا کی پلاننگ کرلیتے ہیں۔ برطانیہ اور دوسرے یورپی ملکوں میں جہاں مسلمان اب بڑی تعداد میں آباد ہیں، کرسمس کے بعد خریداری کا سب سے بڑا موسم رمضان کا مہینہ ہوتا ہے، اور اس مہینے دولت کی گردش میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں رمضان کے مہینے میں 10 کروڑ پاؤنڈ کی خریداری کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ کرسمس کے سیزن کے سوا کسی دوسرے مہینے میں اتنی زیادہ خریداری نہیں دیکھی جاتی۔ برطانیہ کی سپر مارکیٹوں میں اب حلال اشیا بڑی مقدار میں فروخت کیلئے رکھی جاتی ہیں، وہ اشیا خوراک جو مسلمان رمضان میں استعمال کرتے ہیں، ہر سپر مارکیٹ میں وافر مقدار میں دستیاب ہیں۔ اس طرح عید کے دنوں میں بھی پورے برطانیہ میں مسلمانوں کی دلچسپی کی اشیا کی فروخت بڑھ جاتی ہے۔

سستے رمضان بازاروں میں البتہ ایک شکایت یہ سامنے آئی کہ بعض دکاندار اپنے گاہکوں کو تھوڑی مقدار میں سبزیاں فروخت کرنے میں لیت و لعل سے کام لیتے رہے۔ خصوصاً ادرک وغیرہ کی قسم کی سبزیاں زیادہ مقدار میں خریدنے پر اصرار کیا جاتا رہا، ایسی ہی شکایت گزشتہ رمضان میں یوٹیلیٹی سٹوروں پر بھی دیکھنے میں آئی تھی۔ جہاں سستا آٹا اور چینی فروخت کرنے کے ساتھ بعض دوسری ایسی اشیا فروخت کرنے پر اصرار کیا جاتا رہا جو عام طور پر رمضان کے مہینے میں زیادہ نہیں خریدی جاتیں۔ یوٹیلیٹی سٹوروں کے ذریعے وفاقی حکومت نے پونے دو ارب روپے کی سبسڈی دی ہے، اس لئے اسٹوروں پر ایسی شکایات نہیں ہونی چاہئیں۔ توقع ہے ان سٹوروں کی انتظامیہ اب رمضان میں سابقہ تجربات کا اعادہ نہیں کرے گی۔

سستے رمضان بازار

مزید : تجزیہ