باکسر محمد علی کی نماز جنازہ جمعہ کو ادا کی جائیگی ، دنیا بھر سے مداحوں کو شرکت کی دعوت

باکسر محمد علی کی نماز جنازہ جمعہ کو ادا کی جائیگی ، دنیا بھر سے مداحوں کو ...

 واشنگٹن (اے این این )لیجنڈ باکسر محمد علی کے نماز جنازہ میں دنیا بھر کو شرکت کرنے کی دعوت دے دی ہے۔ ان کا جنازہ جمعے کے روز امریکی ریاست کینٹکی میں واقع ان کے آبائی قصبے لوی ول میں ہو گا۔محمد علی کے خاندان کے ترجمان باب گنیل نے کہا کہ ان کا بہت بڑا جنازہ ہو گا تاکہ دنیا بھر کے لوگوں کو انھیں خداحافظ کہنے کا موقع مل سکے۔انھوں نے کہا وہ ساری دنیا کے شہری تھے اور ہم چاہتے ہیں کہ ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد ان کے جنازے میں شرکت کر سکیں۔سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے ایک تقریب میں محمد علی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ساری زندگی مذہبی اور سیاسی اعتقاد کے ساتھ گزاری جس کی وجہ سے انھیں چند کڑے فیصلے بھی کرنے پڑے اور انھیں ان کے نتائج برداشت کرنا پڑے۔مشہور فٹبالر پیلے نے کہا کہ کھیل کی دنیا کو عظیم نقصان ہوا ہے۔باکسنگ کے سابق لیجنڈ محمد علی کے انتقال پر انھیں دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات ملنے کا سلسلہ جاری ہے اور کھیلوں کی دنیا کی اس عظیم شخصیت کو خراج تحسین پیش کرنے والوں میں امریکی صدر براک اوباما اور عظیم باکسر جارج فورمین شامل ہیں۔صدر براک اوباما کے بقول علی نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔دوسری جانب جارج فورمین کا کہنا تھا کہ محمد علی آپ کو مجبور کر دیتے تھے کہ آپ ان سے پیار کرنے لگیں۔محمد علی کو خراج تحسین پیش کرنے والوں میں برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرن، معروف موسیقار سر پال میکانٹی، باکسنگ کی دنیا کے مشہور نام مائیک ٹائسن اور فلوئڈ میویدر کے علاوہ گالف کے عالمی چیمپئن ٹائیگر وڈز بھی شامل ہیں۔وائٹ ہا ؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں صدر براک اوباما نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ مشیل اوباما دعاگو ہیں کہ دنیائے باکسنگ کی عظیم شخصیت کی روح ابدی سکون میں رہے۔اس کرہ ارض کے ہر انسان کی طرح میں اور مشیل اس موت پر سوگوار ہیں لیکن ہم خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں محمد علی کو جاننے کا موقع دیا چاہے ان کے ساتھ یہ تعلق ایک لمحے کا ہی تھا۔ ہم اسے خدا کی طرف سے اپنی خوش بختی سمجھتے ہیں کہ اس نے اِس عظیم کھلاڑی کو ہماری زندگیوں، ہمارے وقت میں بھیج کر اس دور کو جلا بخشی۔صدر اوباما کا مزید کہنا تھا کہ محمد علی اس صف میں کھڑے تھے جس میں مارٹن لوتھر کنگ اور نیلسن منڈیلا جیسی سیاہ فام لوگوں کے حقوق کی علمبرداراور بڑی بڑی شخصیات کھڑی تھیں کیونکہ یہ لوگ اس وقت سیا ہ فاموں کے حقوق کے لیے کھڑے ہوئے جب ایسا کرنا بہت مشکل تھا، انھوں نے اس وقت آواز بلند کی جب باقی اس کی ہمت نہیں کر پائے۔ یہاں تک کہ باکسنگ رِنگ کے باہر کی جنگ کی وجہ سے محمد علی کو اپنے اعزازات اور عوامی پزیرائی کی قیمت بھی ادا کرنا پڑی۔امریکی صدر کے بقول ویتنام کی جنگ میں جانے سے انکار کی وجہ سے دائیں بازو اور بائیں بازو کے حامیوں، دونوں میں کئی لوگ محمد علی کے دشمن ہو گئے، انھیں برا بھلا کہا اور یہاں تک کہ یہ لوگ محمد علی کو جیل بھیجنے پر تیار ہو گئے تھے، لیکن وہ اپنے پاں پر کھڑے رہے۔ اور پھر ان لوگوں پر محمد علی کی فتح سے ہمیں اس امریکی معاشرے میں رہنے کا حوصلہ ملا جو آج امریکہ کی شناخت ہے۔یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ محمد علی میں کوئی خرابی نہیں تھی۔ باکسنگ رِنگ میں اپنے تمام جادو کے باوجود، وہ اپنے لفظوں کے انتخاب میں احتیاط نہیں کرتے تھے اور ان کی باتوں میں کئی تضادات نظر آتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آخر کار یہ ان کی معصوم روح اور شاندار اور پر اثر شخصیت کا کمال ہی تھا جس کی بدولت دنیا میں ان کے دوستوں کی تعداد دشمنوں سے کہیں زیادہ ہو گئی۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم سب کو محمد علی کی شخصیت میں خود اپنے آپ کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔محض ایک باکسر نہیں امریکہ کے سابق پروفیشنل باکسر جارج فورمین نے محمد علی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا محمد علی آپ کو ان سے پیار کرنے پر مجبور کرتے تھے۔جارج فورمین کا مزید کہنا تھا،وہ ایک بہترین شخص تھے، آپ باکسنگ کو بھول جائیں، وہ ٹی وی اور میڈیا پر آنے والے دنیا کی بہترین شخصیات میں سے ایک تھے۔

باکسرمحمد علی

مزید : راولپنڈی صفحہ اول