ڈاکٹر سید عالم محسود اور سپریم کونسل کا سی پیک منصوبے پر بیگم نسیم ولی خان کو تفصیلی بریفنگ

ڈاکٹر سید عالم محسود اور سپریم کونسل کا سی پیک منصوبے پر بیگم نسیم ولی خان کو ...

چارسد(بیورورپورٹ) ولی باغ میں خیبر پختون نخوا سی پیک کمیٹی کے کنوینئر ڈاکٹر سید عالم محسود اور سپریم کونسل کا سی پیک منصوبے پر بیگم نسیم ولی خان کو تفصیلی بریفنگ ۔برہان سے پشاور تک سی پیک روٹ کے علاو ہ کوئی دوسرا روٹ کسی صورت قبول نہیں۔ خیبر پختون نخوا ہ کو کاریڈور میں مکمل حق دئیے بغیر مجوزہ منصوبے کو کسی صورت تسلیم نہیں کرینگے ۔ وفاقی حکومت تھاکوٹ اور خویلیاں کے درمیان سیکشن فور لاگو کرنے کرنے کی غلطی نہ کریں ورنہ اس کے خطرناک نتائج برآمد ہونگے ۔ تفصیلات کے مطابق خیبر پختون نخواہ کی تمام سیاسی پارٹیوں کی طرف سے نامزد سی پیک کمیٹی کے کنوینئر ڈاکٹر سید عالم محسود نے ولی باغ چارسدہ میں بیگم نسیم ولی خان کو سی پیک منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی ۔ اس موقع پر سپریم کونسل کے ممبران بھی موجود تھے جبکہ اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی ولی کے صوبائی صدر فرید طوفان ،لونگین ولی ، عوامی تحریک ورکر ز پارٹی ،تحریک صوبہ ہزار ہ کے نمائندوں سرفراز حسین ،سلطان خٹک ،حیدر،سجاد ملک،سردار گل زیب،جے یوآئی نظریاتی گروپ کے زبیر انجم ،سول سوسائٹی کے افتخاراور مزدور کسان پارٹی کے سالار امجد علی بھی موجودتھے ۔ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے خیبر پختونخوا سی پیک کمیٹی کے کنوینئر ڈاکٹر سید عالم محسود نے کہاکہ ہم سی پیک منصوبے کے حامی ہیں مگر دوسرے بجٹ میں بھی کاریڈور کا نام و نشان نظر نہیں آرہا ۔ خیبر پختون خواہ کو کاریڈور میں مکمل حصہ دئیے بغیر ہم کسی صورت اس منصوبے کو تسلیم نہیں کر سکتے ۔ صوبائی اور وفاقی حکومت اس حوالے سے سنجیدگی دکھائیں بصورت دیگر اس کے خطرناک نتائج برآمد ہونگے ۔ ہم گلگت بلتستان ،ہزارہ ،فاٹا ،بلوچستان اور گوادر کے لوگوں کو کاریڈور میں ان کا جائز حق دلانا چاہتے ہیں اور برہان سے پشاور روٹ کے علاوہ کوئی دوسرا روٹ قبول نہیں کر سکتے ۔ وفاقی حکومت تھاکوٹ سے حویلیاں کے درمیان سیکشن فور لاگو کرنے کی غلطی نہ کریں ورنہ اس کے خطرناک نتائج برآمد ہونگے ۔ صوبائی حکومت مجوزہ منصوبہ میں سیکشن فور کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور ہزارہ کے عوام کو اعتماد میں لیں۔ عید کے بعد سی پیک منصوبے کے حوالے سے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائیگاکیونکہ حکومت کاریڈور منصوبے سے محصوص طبقے اور محصوص علاقوں کو مستفید کرنے کی سازش کر رہی ہے جس سے ملک میں لسانی ،علاقائی ،طبقاتی تضادات پید ا ہونے کے شدید خدشات موجود ہیں ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر