ریپ کا نشانہ بننے والی لڑکی کا حملہ آوروں کے نام خط ، ایک ایسی بات لکھ دی کہ پوری دنیا سوچ میں پڑ گئی

ریپ کا نشانہ بننے والی لڑکی کا حملہ آوروں کے نام خط ، ایک ایسی بات لکھ دی کہ ...
ریپ کا نشانہ بننے والی لڑکی کا حملہ آوروں کے نام خط ، ایک ایسی بات لکھ دی کہ پوری دنیا سوچ میں پڑ گئی

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) جنوری 2015ءمیں امریکی ریاست کیلیفورنیا میں 23سالہ ایملی ڈو(فرضی نام) کو بروک ٹرنر نامی شخص نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ تب سے عدالت میں یہ مقدمہ چل رہا تھا۔ گزشتہ دنوں اس کا فیصلہ سنایا گیا جس میں عدالت نے مجرم کو 4ماہ قید کی سزا سنائی۔ جب عدالت مجرم کو سزا سنا چکی تو ایملی ڈوکھڑی ہو گئی اوراس نے سب کے سامنے ایک خط پڑھ کر سنایا جو اس نے خود سے زیادتی کرنے والے شخص کے نام لکھا تھا۔ایملی کے الفاظ نے عدالت میں موجود تمام افراد کو انتہائی متاثر کیا۔

خاتون ٹیچر کے 13سالہ لڑکے سے جنسی تعلقات،حاملہ ہونے پر والدین خوش

ایملی نے عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ”یورآنر!میں مجرم سے براہ راست مخاطب ہونا چاہتی ہوں۔ “ اس کے بعد ایملی بروک ٹرنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ”تم مجھے نہیں جانتے ہو لیکن تم مجھ سے زیادتی کر چکے ہو جس کی وجہ سے آج میں اور تم عدالت کھڑے ہیں۔ وہ 17جنوری 2015ءکی ہفتے کی رات تھی۔ میرے والد نے ڈنر تیار کیا اور میں ٹیبل پر اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ بیٹھی تھی۔ وہ ویک اینڈ پر مجھ سے ملنے آئی تھی۔ ہم نے چھٹی کے روز گھر پر رہنے کی منصوبہ بندی کی۔ ٹی وی دیکھا، کچھ مطالعہ کیا، گپ شپ کی۔ پھر وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ایک پارٹی میں جانے لگی تو اس نے مجھے بھی ساتھ چلنے کو کہا۔ مجھے ڈانس کرنا بالکل نہیں آتا تھا۔ میرے پارٹی میں براڈانس کرنے پر میرا مذاق اڑایا گیا جس پر دلبرداشتہ ہو کر میں نے بہت سی شراب پی لی ورپارٹی سے نکل گئی۔کچھ ہی دور جا کر میں بے سدھ ہو کر گر گئی۔ جب مجھے کچھ ہوش آیا تو میں نے خود کو سٹینفورڈ یونیورسٹی کے کیمپس میں پایا۔ میں مطمئن تھی اور سمجھ رہی تھی کہ چونکہ میںنشے میں بے سدھ ہو کر گر گئی تھی لہٰذا کوئی مجھے اٹھا کر کیمپس میں لے آیا ہے مگر مجھے ایک ڈپٹی نے بتایا کہ رات تم نے مجھے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا تھا۔ اس نے بتایا کہ مجھے دو خواتین یہاں چھوڑ کر گئی ہیں۔تم نے مجھے بے وقعت کر دیا، میری خلوت، میری توانائی، میرا وقت، میرا اعتماد اور میری آواز تک چھین لی۔ تم نے مجھے جو نقصان پہنچانا تھا پہنچا لیا، اب وہ واپس نہیں آ سکتا۔ اب ہم دونوں کے پاس دو راستے ہیں۔ ہم چاہیں تو اس واقعے کی وجہ سے خود کو تباہ کر لیں۔ میں اپنے نقصان کی وجہ سے ہمیشہ غصے میں رہوں اور تمہیں نقصان پہنچاﺅں اور تم اس الزام سے انکار کرتے رہو، یا پھر جو کچھ ہوا ہے ہم دونوں اس کو قبول کر لیں۔ میں اس تکلیف کو قبول کر لوں اور تم اپنی سزا کو۔ اور اس طرح ہم اپنی زندگی کو آگے بڑھاتے ہیں۔“ 12صفحات پر مشتمل اس طویل خط کے آخر میں ایملی ڈو لکھتی ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں کسی لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی ہوتی ہے، میں اس کے ساتھ ہوں۔ میں ہر اس لڑکی کے لیے لڑوں گی جو میری طرح زیادتی کا شکار ہوگی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس