پاکستان میں بکنے والے پٹرول کے بارے میں ایسا انکشاف کہ جان کر ہر کوئی اپنی گاڑی میں پٹرول ڈلوانے سے گھبرائے گا

پاکستان میں بکنے والے پٹرول کے بارے میں ایسا انکشاف کہ جان کر ہر کوئی اپنی ...
پاکستان میں بکنے والے پٹرول کے بارے میں ایسا انکشاف کہ جان کر ہر کوئی اپنی گاڑی میں پٹرول ڈلوانے سے گھبرائے گا

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ہمارے ہاں اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ پٹرول تو بس پٹرول ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ نہیں ہے۔ کوالٹی اور ترکیب کے لحاظ سے پٹرول کی کئی مختلف قسمیں ہیں اور ہر قسم کو اچھا پٹرول نہیں کہا جاسکتا ، خصوصاً اگر آپ پاکستان میں ہیں تو کوالٹی کو تو بھول ہی جائیے،کیونکہ ہمارے ہاں بدترین کوالٹی کا پٹرول فروخت کیاجارہا ہے۔

یہ افسوسناک انکشاف ویب سائٹ پرو پاکستانی کی ایک تازہ ترین رپورٹ میں کیا گیا ہے، جس کے مطابق ہمارے ہاں دستیاب عام پٹرول اور خصوصاً غیر قانونی طریقے سے درآمد کئے گئے پٹرول کی کوالٹی دنیا میں بدترین قرار دی جا سکتی ہے۔ یہ پٹرول ناصرف آپ کی جیب پر بھاری پڑ سکتا ہے آپ کی گاڑی کے انجن کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اس پاکستانی شہری نے صرف 20 منٹ میں ساڑھے چار کروڑ روپے کماڈالے، مگر کس طرح؟ ایسا طریقہ کہ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

گاڑی کا انجن پٹرول اور ہوا کے آمیزے کو جلا کر توانائی پیدا کرتا ہے۔ جب آمیزے میں موجود پٹرول وقت سے پہلے جل جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں انجن کے اندر بے قابو دھماکے پیدا ہوتے ہیں، جو انجن کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ دراصل ایسی صورت میں ایندھن ہموار طریقے سے جلنے کی بجائے دھماکے پیدا کرنا شروع کردیتا ہے جنہیں ”ناکس“ یا ”پنگز“ کہا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں انجن شور پیدا کرتا ہے ، یہ زیادہ پٹرول استعمال کرنے لگتا ہے ، رفتار بڑھانے میں مشکل پیش آتی ہے، انجن خودبخود بند ہو جاتا ہے، زیادہ سے زیادہ رفتار کی حد کم ہو جاتی ہے اور انجن سے زہریلی گیسیں بھی خارج ہوتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی پٹرول پمپوں پر 87Ron (ریسرچ آکٹین نمبر ) پٹرول فروخت کیا جارہا ہے۔ گزشتہ 20 سال سے یہی معیار استعمال ہو رہا ہے تاہم دنیا آگے جا چکی ہے اور جدید دور کی کاریں اور ٹیکنالوجی اس پٹرول کیلئے تیار نہیں کی جارہی ہیں۔

بعض پٹرول پمپوں پر بیچے جانے والے ہائی آکٹین کی ROn97 ہے جو کہ قدرے بہتر ہے۔ ایران سے درآمد کیے جانےوالے غیر قانونی پٹرول کی Ron ویلیو اور بھی کم ہے۔ کچھ پٹرول پمپ مالکان پٹرول میں جٹ فیول ، بینزین یا مٹی کا تیل بھی ملاتے ہیں، جو انجن کی خرابیوں کا سبب بنتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا میں بیچے جانے والے پٹرول کی اوسط Ron Value91 ہے ، چین میں 92 ، جرمنی میں 95 ، ہانگ کانگ میں 98 ، بھارت میں 91 ، ایران میں 92 ،روس میں 92، سعودی عرب میں 95 ،سری لنکا میں 92 ، ترکی میں 95 ، برطانیہ میں 95 اور امریکہ میں اوسط 90 ہے۔ واضح رہے کہ یہ ان ممالک میں ایندھن کی کم از کم RON ویلیو ہے۔ اکثر ممالک میں اس سے کئی درجے بہتر ایندھن دستیاب ہے۔

مزید : بزنس