رمضان المبارک کے گراں فروش

رمضان المبارک کے گراں فروش
رمضان المبارک کے گراں فروش

  



رمضان برکتوں اوررحمتوں کا مہینہ ہے۔لیکن ہمارے ہاں یہ بدقسمتی ہے کہ رمضان سے قبل روز مرہ کی اشیاء،خورد نوش اورفروٹ کی قیمتیں آسمانوں کو چھونے لگتی ہیں۔ماہ رمضان کے با برکت مہینے میں مہنگائی کا بوجھ عوام کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں۔ اگر آپ مشاہدہ کریں تو دنیا بھر کے اسلامی ممالک میں رمضان کے با برکت مہینے میں چیزوں کی قیمتیں کم کی جاتی ہیں اور بعض غیر مسلم ممالک میں اپنے مسلمان شہریوں کو اس ماہ رمضان کے دوران سبسڈی جاری کرتے ہیں۔مگر اسلام کے نام پربننے والے ملک میں ہمیں حکومت کوئی ریلیف نہیں دیتی ہے صرف اخباروں میں اور ٹی وی کی سکرین پر جھوٹے دعوے کرتے ہیں،عوام کو بے وقوف بناتے ہیں کہ ہم رمضان پیکج دے رہے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کو اس پر آنکھیں کھولنی چاہیے اور رمضان شریف کے تقدس کو برقرار رکھتے ہوئے جو روز مرہ کی بنیادی چیزیں ہیں ان کے ریٹ کم کریں۔

رمضان المبارک شروع ہوتے ہی ذخیرہ اندوز اور منافع خور بھی سرگرم ہو جاتے ہیں۔ یہ رمضان المبارک میں لوگوں کی مجبوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ بالکل سچ ہے کہ گزشتہ دور نے عام آدمی کا جینا دوبھر کر دیا ہے اب خودکشی کرنا آسان لگتا ہے اور زندہ رہنا بہت ہی مشکل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! یہ بات بالکل سچ ہے کہ مہنگائی کا جن صاحبان اقتدار کی بوتلوں سے جس طرح برآمد ہوا ہے اس کا واپس بوتلوں میں جانا ممکن نہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مہنگائی کی ذمہ دار 60فیصد حکومت ہے تو40فیصداس کے ذمہ دار خود عوام ہیں۔ حکمرانوں کو اس ملک کو کوئی فکر نہیں اور وہ تو بستر باندھ کر تیار رہتے ہیں۔1947ء سے لے کر آج تک حکمران اس ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے آئے ہیں لیکن مشرف دور سے مہنگائی نے ایسا پانسہ پلٹا کر غریب عوام سے روٹی کا نوالہ تک چھین لیا۔نواز شریف کی حکومت سے عوام کو بہت سی امیدیں وابستہ ہیں ابھی تک تو کوئی امید کی کرن نظر نہیں آرہی ۔ مہنگائی بہت تیزی سے پروان چڑرہی ہے۔ حکومت تو کہتی ہے کہ ہم پورے ملک میں ایک غریب نہیں رہنے دیں گے اس کی مہربانیوں سے کافی حد تک غریب اس دنیا سے جا چکے اور جو بچ گئے وہ جانے کی تیاری کر رہے ہیں کیونکہ کہ اس مملکت خداداد میں غریبوں کا کچھ نہیں ہے۔غریب آدمی نہ اپنے بچوں کو تعلیم دلواسکتا ہے اور نہ ہی علاج کرواسکتا ہے اور نہ ہی ضروریات زندگی پوری کر سکتا ہے ۔ خیر حکومت تو مہنگائی کی ذمہ دار ہے ہی لیکن اس میں ہم عوام کا کسی حد تک حصہ ہے میں سمجھتا ہوں اس کا ر خیر میں جتنا حصہ حکومت کا ہے اتنا ہی ہمارا ہے اس کی کئی مثالیں قارئین کی نظر کرتا ہوں کسی چیز کی قلت کی وجہ سے اس میں اضافہ ہو جائے تو بعد میں جب اس چیز کی فروانی آجائے تو ہم اس کی قیمتیں کم نہیں کرتے۔ گزشتہ سال جب چینی کی قلت کی وجہ سے اس کی قیمت 120روپے کلو ہو گئی تو مٹھائی کا ریٹ 200روپے فی کلوگرام سے بڑھ کر تین سو روپے فی کلو گرام کر دیا گیا۔جب چینی کی قیمت کم ہو گئی لیکن ایک سال بعد بھی مٹھائی کے ریٹ میں ایک روپیہ کمی نہیں کی گئی۔ گھی کی قیمت میں اضافہ ہونے کے بعد کم ہو جاتی ہے تو دوکاندار قیمت کم نہیں کرتا اسطرح بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن کی اگر پیدوار کم ہو تو ان کو دکانوں سے غائب کر کے گوداموں میں چھپا لیا جاتا ہے اور ان کی قیمتیں دو سے تین گناہ تک بڑھا لی جاتیں ہیں۔ اگر ایک پروڈکٹ میں 5چیزیں شامل کی جاتی ہیں تو ان میں سے ایک چیز کی قیمت میں اضافہ ہونے پر اس کا ریٹ بڑھا دیا جاتا ہے۔ چاہے دوسری چار چیزوں کی قیمت میں کمی ہو۔ دوسرا یہ کہ جس چیز کی مارکیٹ میں فراوانی ہو اس چیز کو تو ہم تنہا ہی خرید تے ہیں جتنی ہمیں ضرورت ہے اگر کسی چیز کی کمی بیشی ہو جائے تو ساری عوام پاگلوں کی طرح اس چیز کو تلاش کرتی ہے اور کوشش ہو تی ہے کہ کم از کم ایک سال کی ضرورت کے مطابق خریدلی جائے۔ اگر آپ نارمل حالات میں دو کلو چیز لیتے ہیں تو ان حالات میں ایک کلو لیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اپنی ضرورت پوری کر سکیں جب لوگوں کو خود اپنے بجٹ کا خیال نہ ہو گا تو دوکاندار اس سے کیوں نہ فائدہ اٹھائے گا؟ آپ خود اپنی محنت کی کمائی جب خوردہ فروش کو دونوں ہاتھوں سے پیش کر نے کو تیار ہیں تو اسے کیا پڑی ہے کہ وہ قیمت نہ بڑھائے ۔

خوردہ فروش جانتا ہے کہ پکوڑوں اور سموسوں سے لے کر سیب کیلئے امرود تک خواہ اس کی قیمت میں من مانے طور پر کتنا ہی اضافہ کر دیں لوگ خریدیں گے ضرور۔ جو گلی سڑی سبزی بچ جائے گی وہ کوئی بھی ہوٹل والا خرید لے گا جنہیں پکا کر مہنگے داموں فروخت کرے گا۔

یورپ میں یا دوسرے کئی ممالک میں جس چیز کی کمی بیشی ہو عوام اس کا استعمال کم کر دیتے ہیں یا اس کا استعمال بالکل بند کر دیتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں سب کچھ الٹ ہو تا ہے بدقسمتی سے ہمارے ہاں کوئی صارفین کی انجمن نہ ہے جو لوگوں میں یہ احساس پیدا کر ے کہ مہنگائی اس وقت کم ہو سکتی ہے جب آپ متحد ہو کر اس کا مقابلہ کریں گے۔

ہمارا میڈیا بلاناغہ کئی کئی گھنٹوں پر محیط حکومتی کارکردگی پر تو مغز ماری کرتا ہے لیکن کسی بھی چینل پہ نہ تو مہنگائی کے خلاف کوئی پروگرام نظر آتا ہے اور نہ ہی صارفین کو اس کا احساس دیالا جاتا ہے کہ غیر ضروری اشیاء کی خریداری نہ صرف مہنگائی کا سبب بنتی ہے بلکہ آپ کے گھریلوبجٹ کو بھی متاثر کرتی ہے شاید اس کی بنیادی اور اہم وجہ یہ ہے کہ ٹی وی چینل کے مالکان اور پروگرام کے میزبانوں کا تعلق بھی اسی طبقے سے ہے جہاں مہنگائی کا ذکر تفریح کے لیے کبھی کبھار کر دیا جاتا ہے۔ اسی لیے بعض معروف چینل کے وہ میزبان جو حکمرانوں کو بلا کر ٹھیک ٹھاک ڈانٹ پلا کر سوالوں کے جوابات مانگتے ہیں اور لہرا لہرا کر ان کے خلاف چارج شیٹ دکھاتے ہیں ،کبھی انہوں نے گراں فروشوں اور گراں فروشی کے ذمہ داروں کو بلا کر کسی پروگرام میں کھنچائی نہیں کی ۔ آخر میں ذخیرہ اندوزوں اور گراں فروشوں سے اپیل ہے کہ رمضان المبارک میں غریب روزہ دارعوام سے دعائیں لیں نہ کی بددعائیں۔ حکمران طبقہ کا تو ہم سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے آپ لوگ تو ہم میں سے ہی ہو۔ خدا نے آپ کو پیسہ دیا ہے تو اسے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کریں نہ کہ ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ