’اگر پیشاب آئے تو کبھی بھی روک کر نہ رکھیں فوراً کر دیں کیونکہ روک کر رکھنے سے۔۔۔‘ انتہائی معروف ڈاکٹر نے سخت ترین وارننگ جاری کردی، ایسا نقصان بتادیا کہ آپ کبھی خوابوں میں بھی یہ کام نہ کریں گے

’اگر پیشاب آئے تو کبھی بھی روک کر نہ رکھیں فوراً کر دیں کیونکہ روک کر رکھنے ...
’اگر پیشاب آئے تو کبھی بھی روک کر نہ رکھیں فوراً کر دیں کیونکہ روک کر رکھنے سے۔۔۔‘ انتہائی معروف ڈاکٹر نے سخت ترین وارننگ جاری کردی، ایسا نقصان بتادیا کہ آپ کبھی خوابوں میں بھی یہ کام نہ کریں گے

  

لندن (نیوز ڈیسک)اکثر لوگ جب کام میں بہت مصروف ہوتے ہیں تو پیشاب کی حاجت محسوس ہونے کے باوجود واش روم کا رُخ نہیں کرتے، اور کچھ تو ایسے بھی ہیں جو محض اس وجہ سے واش روم نہیں جاتے کہ وہ اپنے پسندیدہ ٹی وی پروگرام سے نظریں نہیں ہٹانا چاہتے۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ عادت آپ کی صحت کے لئے بے حد قدر خطرناک ثابت ہوسکتی ہے؟ ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق یورالوجی کی ماہر ڈاکٹر لارن سٹریشر کہتی ہیں کہ ہمیں ہر چار سے چھ گھنٹے بعد پیشاب کی حاجت ضرور رفع کرنی چاہیے، اور اگر ہم اس سے زیادہ وقت کیلئے پیشاب روک کر رکھتے ہیں تو ہمیں اس کے سنگین نتائج بھگتنے کیلئے بھی تیار رہنا چاہیے۔ ڈاکٹر لارن کہتی ہیں ”جب آپ پیشاب روکنا عادت بنالیتے ہیں تو مثانے کے عضلات کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہ عضلات مثانے میں پیشاب کو روکنے یا اسے خارج کرنے کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔ عمر کے ساتھ یہ عضلات ویسے بھی کمزورہوتے چلے جاتے ہیں لیکن اگر آپ پیشاب روک کر رکھتے ہیں تو ان کی کمزوری کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اسے دوسرے لفظوں میں مثانے کی کمزوری کہتے ہیں۔ رفتہ رفتہ آپ کا مثانہ اس قدر کمزورہوجاتا ہے کہ پیشاب کو روک کر رکھنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔ ایسی صورت میں غیر ارادی طور پر پیشاب کے قطروں کا اخراج ہوتا رہتا ہے اور مسئلہ بہت زیادہ گھمبیر ہوجائے تو پیشاب کو روکنا ممکن ہی نہیں رہتا۔ پیشاب روک کر رکھنے سے مثانے میں درد بھی محسوس ہونے لگتاہے۔ ابتدائی طور پر یہ ایک عارضی کیفیت ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ یہ درد بھی شدت اختیار کرجاتاہے اور مسلسل ہوتا رہتا ہے۔ ان مسائل سے بچنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ پیشاب کو زیادہ سے زیادہ اتنی دیر تک روک کر رکھیں کہ یہ آپ کیلئے کسی طرح کی پریشانی کا سبب نہ بن رہا ہو۔ اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ اسے روکے رکھنے سے مثانے پر دباﺅ یا تکلیف کا احساس ہورہا ہے تو سمجھ لیں کہ آپ پیشاب کو غیر ضروری طور پر روکنے کی غلطی کررہے ہیں، جس پر آپ کو ضرور پچھتانا پڑے گا۔“

مزید :

تعلیم و صحت -