اتنی سی کہانی

اتنی سی کہانی
اتنی سی کہانی

  

گھر133.

راجوننھا سا تھا جب بیوی اور میں نے اینٹ اینٹ جوڑ ی۔

کئی سالوں میں ایک گھر بنایا۔

آشیانہ بنتے بنتے راجو پانچ سال کا ہوگیا۔

وہ صحن میں بھاگتا ،کیاریوں میں کھیلتا۔

ایک دن زمیندار نے گھر پر قبضہ کر لیا۔

سامان اٹھا کر باہر پھینک دیا۔

مجبوراً دوسرے گاؤں ہجرت کرنا پڑی۔

دوبارہ وہی بوسیدہ جھونپڑی، بھوک پیاس اورمفلسی۔

راجو سرد راتوں میں ٹھٹھرتا رہتا۔

اور بیوی مجھ سے چھپ کر سسک سسک کر روتی۔

اب راجو بھی ہمارے ساتھ کھیتو ں میں بیج بوتا ، پانی دیتا۔

فصل اگی تو راجو کی آنکھیں چمک اٹھیں۔

کل اس نے چھوٹا سا گڑھا کھودا۔

پانی سے مٹی نرم کی۔پھر کپڑے جھاڑتا میرے پاس آگیا۔

" بابا133 فصل اگانے کے لئے زمین میں بیج ڈالنا پڑتا ہے نا ؟"

میں نے اثبات میں سر ہلایا۔

اس نے میرا دامن پکڑ لیا اور بولا۔

" بابا133 مجھے ایک اینٹ لادیں133 میں گھر اگاؤں گا۔"

مزید : رائے /کالم