پی ٹی آئی اور لکی ایرانی سرکس

پی ٹی آئی اور لکی ایرانی سرکس
 پی ٹی آئی اور لکی ایرانی سرکس

  

آج سے چالیس پینتالیس سال پہلے میاں فرزند علی مرحوم نے لکی ایرانی سرکس کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ مشہور زمانہ سرکس آج بھی باقاعدگی سے لگتا ہے جس میں طرح طرح کے کھیل تماشے اور تفریحی آئیٹم ہوتے ہیں، پورا ملک گھوم گھوم کر مختلف شہروں اور قصبوں میں یہ سرکس پورا سال اپنا سفر جاری رکھتا ہے اور اس کی دھوم ابھی تک ویسی ہی برقرار ہے جیسی1970ء اور80ء کی دہائی میں تھی۔

ان میں ناچ گانے سے لے کر شیروں اور ہاتھیوں کے کمالات، مختلف حلیوں کے جوکر اور مشکل کرتب۔۔۔جیسے موت کے کنویں میں موٹر سائیکل چلانا وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔

ہماری سیاسی تاریخ میں بھی ایسے مواقع آتے رہے کہ وہ دیکھنے میں سیاسی لکی ایرانی سرکس لگتے ہیں۔ آج کل لگتا ہے کہ لوگوں کی تفریح طبع کی ذمہ داری بہت حد تک پاکستان تحریک انصاف، یعنی پی ٹی آئی نے اٹھا رکھی ہے۔

شائد ہی وہ کوئی ایسا موقع ہاتھ سے جانے دیتی ہے، جس میں لوگوں کے لئے ہنسنے ہنسانے کا اچھا خاصا بندوبست نہ ہو۔پی ٹی آئی ملک کی دوسری یا تیسری سب سے بڑی سیاسی پارٹی ہے، لیکن بدحواسیوں اور نت نئی مصالحہ دار خبریں دینے میں پہلے نمبر کی پارٹی ہے۔

نگران وزیراعلیٰ کے لئے ناموں پر اتفاق یا عدم اتفاق تو ہونا ہی ہوتا ہے، لیکن جن دو صوبوں میں پی ٹی آئی اس مشاورتی عمل کا حصہ ہے،وہاں مضحکہ خیز صورت حال چھائی رہی،بلکہ اچھا خاصا سیاسی لکی ایرانی سرکس لگا رہا۔

نہ جانے کیا وجہ ہے جب بھی کسی اہم فیصلہ سازی کا وقت آتا ہے، پی ٹی آئی کی بدحواسیاں خبروں کی شہہ سرخیاں بن جاتی ہیں۔ نگران وزیراعلیٰ کے لئے پی ٹی آئی کی طرف سے نام آتے جاتے رہے اور ان ناموں کے آنے پر بھی طوفان اُٹھے اور جانے پر بھی۔

اس کے علاوہ بھی یہ پارٹی خبروں میں رہتی ہے۔چالیس برس قبل ہونے والے شبنم ڈکیٹی کیس کے مرکزی کردار فاروق بندیال پی ٹی آئی میں شامل ہوئے اور ان کی تصویریں اخبارات اور سوشل میڈیا پر آئیں تو ہر طرف ایک طوفان برپا ہو گیا، حتی کہ چوبیس گھنٹے کے اندر انہیں پارٹی سے نکالنا پڑا۔پچھلے ماہ اینکر پرسن عامر لیاقت حسین کی پی ٹی آئی میں شمولیت پر بھی خوب بھونچال آیا،لیکن وہ ابھی تک اپنی جگہ پر ڈٹے ہوئے ہیں ۔

ضرور پڑھیں: بے ادب بے مراد

اسی طرح کئی اور لوگوں کے پی ٹی آئی میں آنے جانے پر ہنگامے ہوتے رہتے ہیں۔ دوسری طرف عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان کی متوقع کتاب کے حوالے سے بھی ہر طرف خوب بحث ہو رہی ہے۔ لندن میں ان کی حسین حقانی سے ’’اتفاقیہ‘‘ ملاقات پر بھی طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی گئیں ۔

ریحام خان کی کتاب کی بات بڑھی تو شعلوں کی زد میں احسن اقبال اور مریم نواز شریف کو بھی لانے کی کوشش کی گئی۔کتاب تو جب آئے گی سو آئے گی، لیکن پی ٹی آئی کے بہت سے لیڈروں کی بوکھلاہٹ ابھی سے دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

پچھلی اسمبلیاں اپنی مدت کی تکمیل کے قریب پہنچیں تو آئین میں درج طریقہ کار کے مطابق وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتیں چلانے کے لئے نگران وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کی تلاش شروع ہوئی۔

اس کے نتیجے میں وفاق میں نگران وزیراعظم ناصر الملک اور سندھ میں نگران وزیراعلیٰ فضل الرحمن نے اپنا اپنا عہدہ سنبھال لیا ہے جو 2010ء میں سندھ کے چیف سیکرٹری کے طور پر ریٹائر ہوئے تھے۔

وفاق اور سندھ کا مسئلہ تو حل ہو گیا، لیکن باقی کے تینوں صوبوں میں لٹک گیا۔ ایک چیز تو یہ واضح ہے کہ جہاں جہاں مسلم لیگ(ن)اور پیپلز پارٹی کی مشاورت سے فیصلے ہونے تھے، وہاں ہوگئے، لیکن ان صوبوں میں لٹک گئے،جہاں پی ٹی آئی اس عمل کا حصہ تھی، یعنی پنجاب اور خیبر پختونخوا۔ نگران وزیراعلیٰ کے لئے پی ٹی آئی کا کردار دو صوبوں میں تھا، ایک خیبر پختونخوا جہاں وزیراعلیٰ پی ٹی آئی کا تھا، یعنی پرویز خٹک اور دوسرا پنجاب جہاں اپوزیشن لیڈر پی ٹی آئی کا تھا، یعنی میاں محمود الرشید۔

انہی دو صوبوں میں پی ٹی آئی کی وجہ سے مضحکہ خیز صورت حال ہے۔خیبر پختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی قائد ایوان اور جمعیت علمائے اسلام قائد حزبِ اختلاف ہے، چنانچہ ان پارٹیوں کی میٹنگ میں منظور آفریدی کا نام نگران وزیراعلیٰ کے لئے منتخب کر لیا گیا۔ اعلان ہوتے ہی ایک طوفان برپا ہو گیا،جس میں الزام لگا کہ منظور آفریدی نے نگران وزارتِ اعلیٰ بھاری رقم کے عوض خریدی ہے۔

ان کا تعلق ایک مشہور کھرب پتی صنعتی خاندان سے ہے۔ ایک دو اینکر پرسنز نے تو ان رقومات کی تفصیل بھی بتائیں کہ کس کس نے کتنے کروڑ روپے وصول کئے۔ ان الزامات کے بعد ماحول انتہائی ناسازگار ہو گیا اور پی ٹی آئی نے منظور آفریدی کے نام سے دوڑ لگا دی۔ آئین کے آرٹیکل 224A کے مطابق اسمبلی تحلیل ہونے کے تین دن کے اندر اگر کسی نام پر اتفاق نہ ہو تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جاتا ہے اور اگر وہ بھی تین دن میں کسی نام پر متفق نہ ہو تو پھر معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا جاتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کا خیبر پختونخوا میں پانچ سال حکومت کرنے کے بعد بھی چونکہ ہوم ورک نہیں تھا،اس لئے اب نگران وزیراعلیٰ کا معاملہ اگلے مراحل میں پہنچ چکا ہے۔ آخری اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا میں جسٹس(ر) دوست محمد خان کا نام بطور وزیراعلیٰ طے پا گیا ہے، یہ اچھی بات ہے۔ پنجاب میں ابتدائی طور پر دونوں پارٹیوں نے دو دو نام دئیے۔

مسلم لیگ (ن)کی طرف سے سابق آئی جی طارق سلیم ڈوگر اور لاہور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج ثائر علی کے نام دئیے گئے، جبکہ پی ٹی آئی کی طرف سے سابق چیف سیکرٹری ناصر کھوسہ اور صنعت کار گوہر اعجاز کے نام دئیے گئے۔ ان چار ناموں میں ناصر کھوسہ کے نام پر اتفاق ہو گیا،جس کے بعد میاں شہباز شریف اور میاں محمود الرشید نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان بھی کر دیا۔

اس کے بعد پی ٹی آئی نے نہ صرف دوڑ لگا دی، بلکہ اچھا خاصا لکی ایرانی سرکس بھی شروع کر دیا۔ ناصر کھوسہ جیسے معزز شخص کا نام پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے خود محمود الرشید کو لکھوایا تھا۔

پتہ نہیں ان کا کتنا ہوم ورک تھا،لیکن غالباً جسٹس آصف سعید کھوسہ کا بھائی ہونے کی وجہ سے یہ نام پی ٹی آئی نے خود پیش کیا۔ اس کے بعد ان پر منکشف ہو ا کہ ناصر کھوسہ تو وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے دور میں چیف سیکرٹری اور وزیراعظم میاں نواز شریف کے دور میں پرنسپل سیکرٹری رہ چکے ہیں۔

نام واپس لینے کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے لکی ایرانی سرکس شروع ہوا،جس میں بھانت بھانت کے نصف درجن نام دئیے اور واپس لئے گئے، حتیٰ کہ کچھ ناموں پر کوئی پارٹی لیڈر انکار کرتا رہا ور کوئی یہ کہتا پایا گیا کہ یہ نام تو عمران خان نے خود شامل کرایا۔

ان ناموں میں ایسے بھی نام تھے،جو واضح طور پر سیاسی تعصب رکھتے ہیں،اس چیز کا کوئی امکان نہیں تھا کہ ان پر اتفاق رائے ہو سکے۔ پی ٹی آئی کے لکی ایرانی سرکس کی وجہ سے پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کا معاملہ بھی آگے کے مراحل میں ہی حل ہو گا۔۔۔

مزید : رائے /کالم