قوم کا مستقبل گداگری کے رستہ پر

قوم کا مستقبل گداگری کے رستہ پر
قوم کا مستقبل گداگری کے رستہ پر

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

میں روزانہ دفتر جاتے ہوئے جوہر ٹاؤن سے کریم بلاک مارکیٹ جاتے ہوئے کریم بلاک والے سگنل پر گاڑی روکتا ہوں تو 10سے 15سالہ عمر کے بیسیوں گداگر بچوں کا غول ٹریفک اشارے پر رکی گاڑیوں پر یکبارگی یلغار کر دیتا ہے، گزشتہ روز ایک 12سالہ بچی نے میری گاڑی کا شیشہ کھٹکھٹایا، شیشہ کھولا تو اس نے ہاتھ پھیلا کر کہا صاحب کچھ مدد کرو گھر میں ماں بیمار ہے میں اس معصوم بچی کو حیرانی سے تکتا رہ گیا کہ ایک معصوم سی کونپل کس قدر مجبور ہو کر بھیک کی درخواست کر رہی ہے، ایک بیس روپے کا نوٹ پکڑایا تو وہ دُعا دے کر دوسری گاڑی کی طرف تیزی سے بڑھ گئی، اس ٹریفک اشارہ پر بھیک مانگنے والے کم عمربچوں کے ساتھ خواتین بھی شامل تھیں جن کو کوئی بھیک دے دیتا اور کوئی نفرت و ہمدردی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ دھتکار دیتا، یہ مناظر صرف کریم بلاک ٹریفک اشارہ پر نظر نہیں آتے، بلکہ آپ لاہورکے کسی بھی پرہجوم ٹریفک اشارے یا پنجاب کے کسی بھی بڑے شہر کے چوکوں اور چوراہوں پر دیکھ لیں آپ کو معصوم بچے بھیک مانگتے نظر آئیں گے، جوہر ٹاؤن کے گردو نواح ایوب چوک ، ٹھوکر نیاز بیگ، واپڈا ٹاؤن، رسولپورہ، اکبر چوک کے آس پاس یا ویلینشاء، بحریہ ٹاؤن اور بے شمار پوش ماڈرن سوسائٹیوں کے جھرمٹ میں آپ کو جگہ جگہ جھگیاں نظر آئیں گی، جن میں ہزاروں خاندان رہائش پذیر ہیں ان جھگیوں کے مکین معصوم بچے اور غریب خواتین آپ کو پنجاب کے تمام شہروں کے چوکوں اور ٹریفک اشاروں پر بھیک مانگتے نظر آئیں گے، ان خاندانوں کے سربراہان بھی اکثر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں ان کے پاس نہ تو تعلیم ہے نہ ہی گھر اور سلسلہ روزگا ر ہے ۔

یہ لوگ گھر کے اخراجات پورے کرنے کیلئے بچوں کو گداگری اور جرائم کی دنیامیں پھنسا دیتے ہیں یا ان کو فیکٹریوں یا کارخانوں میں مزدوری کرواتے ہیں، اور فیکٹری مالکان بھی 4 پیسوں کے فائدہ کی خاطر چائلڈ لیبر کے قوانین کی دھجیاں بکھیرتے نظر آتے ہیں۔پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ریاست ہے اور دین اسلام میں عوام کی تعلیم و صحت اور جان و مال کی حفاظت کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے، لیکن ہمارے حکمران آپ کو ٹی وی چینلوں اور اخبارات میں اپنی تشہیر کرتے، معروف شاہراؤں پر ٹریفک رکوا کر پروٹوکول سے گذرتے اور اقرباء پروری کا نمونہ نظر آئیں گے، حکومت پنجاب نے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کے نام سے ایک ادارہ تو بنا دیا پریہ ادارہ اپنے قیام کے مقاصد بھیک مانگنے والے بچوں کی ویلفئیر، بچوں کے ساتھ ہونے والے بدسلوکی، استحصال، تشدد اور امتیازی سلوک کی روک تھام کو پور ا کرنے سے قاصر ہے اوراس ادارہ کے افسران آپ کو اے سی کی ٹھنڈک میں اپنے لگژری دفتروں میں بیٹھے گپیں لگاتے نظر آئیں گے۔

ایسی ریاست کبھی ترقی نہیں کر سکتی، جن کے حکمران حکومتی خزانہ پر عیاشیاں کریں اور حکومتی خزانہ میں ماہانہ کروڑوں کی ذاتی تشہیر اور ذاتی اخراجات پر خرچ کریں، دین اسلام کے علاوہ دنیا کے تمام مہذب جمہوری معاشروں میں بھی تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلا جاتا ہے اور تمام کمیونٹیز کو تعلیم اور صحت کی مساوی سہولیات میسر ہوتی ہیں، لیکن ہمارے شہروں کے چوکوں پر بھیک مانگتے معصوم اور غریب بچے جن کے چہروں پر امید ویاس جھلکتی صاف نظر آتی ہے، حکومتی بے حسی اور معاشرتی بے حسی و تضاد کی جیتی جاگتی تصویر ہیں، ہم انہیں کسی چوک پر چند سکے پکڑا کر سمجھتے ہیں کہ ان کی مدد کر دی، حالانکہ یہ مدد انہیں پیشہ ور گدا گراور جرائم پیشہ بنا کر معاشرے میں جرائم و غربت کا گراف بلند کر رہے ہیں، جوکہ خونی انقلاب پر منتج ہوتا ہے، حکومت تو اس حوالے سے کوئی نتیجہ خیزٹھوس اقدامات کرتی نظر نہیں آتی، کیا لاالہ الا اللہ کی بنیاد پر اس ملک کی تعمیر ان جاگیرداروں، سرمایہ داروں، کرپٹ سیاستدانوں اور بیورو کریٹوں کے لئے کی گئی تھی کہ یہ مظلوم عوام کے خون پسینے کی ٹیکسوں کی کمائی کو پانامہ اور سوئس /غیر ملکی اکاؤنٹس میں لے جاکر دفن کر دیں اور ایک لاکھ روپے فی کس قرضہ کے بوجھ تلے دبے ہر بچے کو بھٹہ خشت اور فیکٹریوں میں چائلڈ لیبر کی چکی میں پیستے رہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک بھر میں 10لاکھ سے زائد بچے بھٹہ خشت، فیکٹریوں، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی دکانوں پر کام کرنے پر مجبور ہیں، کیونکہ مالکان کو ان ’’چھوٹوں‘‘کی شکل میں نہایت سستے مزدور مل جاتے ہیں، جن کو اپنے حقوق کا بھی پتہ نہیں ہوتا۔

اگر پتہ بھی ہو تو یہ اپنے حق میں کوئی آواز اٹھانے سے قاصر ہوتے ہیں، جبکہ ان بچوں کی بھرتی بذات خودانٹرنیشنل لیبر لاز کی صریح خلاف ورزی ہے، اور کسی قانونی ادارے کا فری لیگل ایڈ سیل بانڈڈ لیبر کو قانونی سہولیات دینے کے لئے کام نہیں کر رہا، ہمارا ملک اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ ہمارے پاس حضرت عمر فاروقؓ کے فلاحی نظام اور حضور نبی کریم ؐ کانظام رحمت موجود ہے ،جس کی بدولت معاشرے کے ان ٹھکرائے ہوئے بچوں کو معاشرے میں سب سے اعلیٰ و باوقار سماجی مقام دیا جا سکتا ہے اور ہم ایک بھرپور محنتی فعال، ذہین اور مستقبل کی بہترین ہنرمند افرادی قوت سے مالا مال ہو سکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہی ہیومن ریسورس کسی ملک کی اخلاقی، معاشی اور سماجی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، بشرطیکہ اسے صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے۔ درحقیقت یہ دنیاوی زندگی جہاد زندگانی اور جہد مسلسل سے عبارت ہے۔؎

خود نبی آخرالزمانؐ نے اسی نوجوان نسل کی بہترین تربیت کر کے دنیا کی پہلی اسلامی فلاحی ریاست مدینہ منورہ قائم کی تھی اور ایک عظیم مہذب ، ترقی پسند فلاحی، سماجی اور اسلامی انقلاب انہی نوجوانوں کی مدد سے برپا کر دیا تھا۔

مزید : رائے /کالم