جدید لہجے کی پنجابی شاعرہ کا ’’شیشا‘‘

جدید لہجے کی پنجابی شاعرہ کا ’’شیشا‘‘
جدید لہجے کی پنجابی شاعرہ کا ’’شیشا‘‘

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بچپن بہت خوبصورت ہوتا ہے، ساری زندگی یاد رہ جاتا ہے، میرا بچپن بہت سرسبز گاؤں میں گزرا، مانانوالہ اور ننکانہ صاحب کے درمیان بہتی نہر گوگیرا برانچ کے دائیں کنارے پر واقع گاؤں اٹانوالی باغوں، پھولوں اور خوشبوؤں کا مسکن تھا، تتلیوں کے پیچھے بھاگتے، جگنوؤں کو پکڑتے، کوئلوں، بلبلوں سے آوازیں ملاتے ہم بچے کب جانتے تھے کہ ہم میں لڑکا کون ہے اور لڑکی کون۔۔۔ کھیلو، برابر کا کھیلو۔۔۔ لڑو، برابر کا لڑو۔۔۔ لڑکا، لڑکی کی کوئی تمیز تھی نہ کسی قسم کی درجہ بندی۔۔۔ لکن میٹی، پٹھوگرم، کرکٹ، ہاکی، فٹ بال۔۔۔ کسی بھی کھیل میں سب بچے کھلاڑی تھے۔ ایک جیسے کھلاڑی، کوئی اونچ نیچ، درجہ بندی اور کوئی لڑکا، لڑکی نہ تھا، باغوں، کھیتوں، فصلوں ، نہر کنارے مَیں مَیں، تُو تُو کی تکرار ضرور ہوتی، مگر کوئی یہ نہ کہتا کہ مَیں لڑکا ہوں، تم لڑکی۔۔۔ لیکن پھر وقت تیزی سے آگے بڑھا، مطلب ہم بڑے ہو گئے، ہمارے ساتھ کھیلنے والی لڑکیوں کو ڈانٹ دیا گیا، احساس دلا دیا گیا کہ وہ اور صنف ہیں، لڑکوں کے ساتھ نہیں کھیل سکتیں، کچھ نے احتجاج کیا، ماریں کھائیں اور کچھ نے دوپٹہ سرپر لے لیا، یقیناًیہ پہلا موقع ہوتا ہے جب لڑکیوں کو احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ مردوں سے الگ کوئی مخلوق ہیں، وہ خود کو ایک درجہ کم شہری تصور کرنے لگتی ہیں، پھر آدھی گواہی، آدھے حق حقوق والی خوفناک ٹھوکریں، اُن کے دماغ کو شل کرتی جاتی ہیں اور وہ زمانے کی رسموں کی قائل ہوتی گھونگٹ پیچھے چھپتی چلی جاتی ہیں، جبکہ سماج ان کے گرد مزید آہنی دیواریں کھڑی کرتا جاتا ہے، لیکن ایسا ہرگز نہیں کہ سبھی لڑکیاں چپ چاپ مرد سماج کے آگے ہتھیار پھینک دیں، کچھ بولتی ہیں، بغاوت کرتی ہیں، اپنے اپنے علم و ہنر اور سوچ و فکر کے ذریعے اپنی بغاوت کا اظہار کرتی ہیں، سیاست میں، صحافت میں، سخن و فہم میں اونچ نیچ کو چیلنج کرتی ہیں۔80ء کی دہائی میں ’’پنکی‘‘ نامی ایک لڑکی کی آواز نے پاکستانی ایوانِ اقتدار کو یہ کہتے ہوئے ہلا کر رکھ دیا کہ:

مَیں باغی ہوں،مَیں باغی ہوں

جو چاہو مجھ پر ظلم کرو

پھر ہم سب نے دیکھا کہ وہ پنکی نہ صرف پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم بنی، بلکہ عوام کے دلوں میں بینظیر ٹھہریں۔ شعر و سخن اور ادب کی دنیا میں یوں تو بے شمار خواتین اپنا اپنا کردار ادا کر رہی ہیں، لیکن صنفِ نازک کے حقوق کے لئے سارہ شگفتہ، امرتا پریتم، کشور ناہید، نسرین انجم بھٹی اور پروین شاکر نے جس طرح اپنے اپنے قلم کو برتا، وہ ان کا ہی خاصہ ہے۔ پنجابی شاعری میں امرتا پریتم اور نسرین انجم بھٹی کے بعد بڑا خلاء محسوس کیا جا رہا تھا، مگر پھر یکایک ایک عجب کُوک اور ہُوک گونجی کہ سب کے کان کھڑے ہوگئے۔ یہ کُوک عہدِ جدید کی شاعرہ طاہراسراء کی ہے، جو یہ کہتے ہوئے ادبی انیا میں وارد ہوئی کہ :

وے مَیں پگ تھلے آ کے مر گئی

کِسے نے میری کُوک نہ سُنی

سچ کہوں تو جس سماج میں عورت کو ’’ونی‘‘ کر دیا جاتا ہے، قرآن سے شادی کر دی جاتی ہے، کاروکاری کا نشانہ بنایا جاتا ہے، گینگ ریپ یُوں کیا جاتا ہے کہ ہزاروں خواتین ’’مختاراں مائی‘‘ کا عکس دکھائی دیتی ہیں، وہاں طاہرا سراء اپنی شاعری کے ذریعے عجب شیشا دکھاتی نظر آتی ہے۔

طاہرا ضلع شیخوپورہ کے قصبہ منڈی ڈھاباں سنگھ کی رہنے والی ہے، تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہے ،جبکہ حال ہی میں اس کی پنجابی شاعری کی کتاب منظرِ عام پر آئی ہے، جس کا نام اس نے ’’شیشا‘‘ رکھا ہے۔

یقیناًیہ شاعری آئینہ ہے ہمارے معاشرے کا جہاں عورت کا استحصال ہر حوالے سے کیا جاتا ہے۔ جہاں لڑکی کو مرضی کی تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے اور نہ ہی مرضی سے شادی کا ۔جہاں مرد نہ صرف عورت کو باندی بنائے رکھنا چاہتا ہے، بلکہ زمین جائیداد میں بھی خواتین کو ان کا جائز حق دینے سے گریزاں ہے۔

طاہراسراء اپنی شاعری میں ان تمام فرسودہ رسموں سے کھلے عام بغاوت کرتی نظر آتی ہے اور بڑے دھڑلے سے عورت کے بنیادی انسانی حقوق کی جنگ لڑتی ہے۔ وہ کہتی ہے:

ساڈے پُٹھیاں ہتھاں لّے مہندی

سدھیاں تے لیکاں وجیاں

طاہراسراء پھر کہتی ہے:

نی! مَیں اَک دا دنداسا مَل کے

کھیڑیاں دے گھر وَس پئی

پنجابی کی یہ خوبصورت شاعرہ عورت کے حقوق کے لئے صرف احتجاج ہی نہیں کرتی، بلکہ اپنی لکھی بولیوں اور اشعار میں خواتین کو کچھ کرنے اور مقابلے کی فضا بنانے پر آمادہ بھی کرتی نظر آتی ہے، طاہرا کہتی ہے:

آ! چُک کے شہتیر وکھایئے

نی ذات دیے کوڑھ کِلیے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سر چُک کے دھمالاں پائیے

جُھکیاں نوں کون پُچھدا

طاہراسراء مرد کی فرعونیت پر چوٹ کرتی ہے تو بھرپور وار کرتی ہے، وہ کہتی ہے:

تیرے شملے دا بیڑا تریا

چُنیاں دے رنگ اُڈ گئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اجے اکھ نئیں سی دُنیا تے کھولی

ماپیاں دے سِر جُھک گئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وھی لیکھاں دے حوالے کرکے

پُتراں تے مان بابلا؟

سچ یہ بھی ہے کہ طاہراسراء صرف فیمنزم یا مرد کی ناانصافیوں کو للکارتی ہوئی شاعرہ ہی نہیں ہے، وہ ہر اُس دغا باز، منافق اور خود غرض عورت کی بھی دشمن ہے جو اپنے مفاد کی خاطر مرد ذات سے دھوکا کرتی ہے، طاہر اسراء صاحباں کو بار بار اپنی شاعری میں مخاطب کرتی ہے اور مرزا جٹ سے کی بے وفائی پر اسے شرمندہ کرتی ہے، شاعرہ کہتی ہے:

جا، نی! پچھل پیریئے صاحباں، مان ودھائیا ای وِیراں دا

مَیں خمیازہ بھگت رہی آں، تیرے توڑے تیراں دا

پھر کہتی ہے:

مرزے نوں تے عشق سلامت رکھے گا

صاحباں! تیرے ویراں ہتھ کیہ آیا اے؟

بنیادی طور پر طاہراسراء محبت کی شاعرہ ہے، وہ ایسا جہان دیکھنا چاہتی ہے جس میں کوئی کسی سے ناانصافی نہ کرے، کسی کے حق پر ڈاکہ نہ ڈالے، مرد ہو یا عورت سب کے لئے جینے اور آگے بڑھنے کے یکساں مواقع ہوں، عشق کی رہتل میں رچی بسی یہ شاعرہ نہ صرف مستقبل کی خوبصورت دنیا کا نقسہ کھینچ رہی ہے، بلکہ اپنی نظموں ،غزلوں اور گیتوں کے ذریعے ایسے محبوب اور محبوباؤں کے خواب دیکھ رہی ہے جو پوری بہادری اور جوانمردی سے اپنی محبت کو پا سکیں، کوئی مجنوں کی طرح دیوانہ نہ بنا پھرے اور نہ ہی کوئی رانجھے کی طرح کان چھدواکر گلی گلی بھیک مانگتا پھرے، طاہراسراء کا محبوب عاشق، جٹ مرزا ہے جو نہ صرف اپنی بات منوانے کی جرات رکھتا ہے بلکہ اپنی محبت بیاہنے کے لئے جان کی بازی لگا دیتا ہے، اسی لئے وہ کہتی ہے:

پُنوں مرزا بن کے آوے

طاہرا لمی تان کے سوں گئی

آخر میں طاہراسراء کے دو اشعار:

پہلی گل کہ ساری غلطی میری نہیں

جے کر میری وی اے، کیہ مَِیں تیری نہیں

اوہ کہندا اے پیار تے جنگ وچ جائز اے سب

مَیں کہنی آں، اُوں ہُوں، ہیرا پھیری نہیں

مزید : رائے /کالم