فوج کے ترجمان کا بروقت انتباہ

فوج کے ترجمان کا بروقت انتباہ

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز(آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل، میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ2018ء مُلک میں تبدیلی کا سال ہے اور بروقت انتخابات کا انعقاد سب کی خواہش ہے، مختلف جماعتیں انتخابات میں ایک دوسرے سے مقابلے میں ہیں تاہم فوج کو سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کو پاکستان اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف استعمال کر کے زہر اُگلا جا رہا ہے اور پچھلے چار ماہ میں پاکستان اور فوج کے خلاف اکاؤنٹس میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جن پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے، چند لوگوں کی شکل میں پورا نیٹ ورک ہے ،جو ٹویٹ پھر ری ٹویٹ کرتا ہے ہم فوج کے خلاف برداشت کر جاتے ہیں، مگر پاکستان کے خلاف بات برداشت نہیں کی جا سکتی، حکومت نے اپنی مدت پوری کی، ہم سے زیادہ کسی کو خوشی نہیں، مبارک باد دیتے ہیں الیکشن وقت پر ہونے چاہئیں، فوج کا کوئی تعلق نہیں، کوئی ٹاسک ملا تو آئین کے مطابق کردار ادا کریں گے۔میڈیا کو کبھی ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش نہیں کی، انہوں نے اِن خیالات کا اظہار ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

مقامِ اطمینان و مسرت ہے کہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے بھی بروقت انتخابات کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور 2018ء میں انتخابات کے نتیجے میں جو تبدیلی آنے والی ہے اس کا تذکرہ بھی کر دیا ہے۔ اگر پاکستان میں حکومتیں انتخابات کے نتیجے میں بنتی اور تبدیل ہوتی رہیں اور یکایک کسی دھماکے یا کسی پُراسرار قسم کی سرگرمی کے نتیجے میں حکومتیں ختم نہ ہوں تو یہ پاکستان کے لئے بہت اچھا شگون ہو گا، آئین کے اندر حکومت سازی اور حکومت کے خاتمے کے جو طریقے درج ہیں اگر اُن پر اُن کی روح کے مطابق عمل ہوتا رہے تو کاروبارِ حکومت ہموار طور پر آگے بڑھتا رہے گا اور جمہوریت میں بظاہر جو خرابیاں،کمیاں اور کوتاہیاں نظر آتی ہیں اُن کا خاتمہ بھی ہوتا رہے گا،اگر ایسے لوگ انتخابات میں منتخب ہو کر آ جاتے ہیں ،جو صادق اور امین نہیں ہیں یا اُن پر دوسری نوعیت کے الزامات ہیں تو نظام کو اتنا مضبوط ہونا چاہئے کہ وہ اِن تمام خرابیوں کی اصلاح خود کار طریقے سے کرتا رہے، مُلک کے تمام اداروں کو درجہ بدرجہ اتنا مضبوط بنانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے آئین پاکستان کی دی ہوئی روشنی اور اختیارات کے تحت کام کریں اور دوسرے اداروں کی حدود میں مداخلت نہ کریں، یہ کام سارا سال ہموار طریقے سے ہوتا رہنا چاہئے،ایسا نہ ہو کہ انتخاب سے پہلے تو احتساب شروع ہو جائے اور جب اس کے اثرات مرتب ہو جائیں تو پھر احتساب کی رفتار سست پڑ جائے۔ یہ کام تو قانون کے مطابق جاری رہنا چاہئے اور اس کے لئے کسی خصوصی اہتمام کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔

مُلک میں مقننہ اپنا کام کرے، قانون سازی اس کا اختیار ہے وہ اس اختیار کو استعمال کرے،جو بھی قانون سازی کرے اس میں اگر کوئی سقم رہ جاتا ہے اور اس کے ریویو کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو یہ بھی قانون اور ضابطے کے تحت ہی ہونا چاہئے۔سپریم کورٹ پارلیمینٹ کا قانون سازی کا حق تسلیم کرتی ہے اگر اس نے پارلیمینٹ کے بنائے ہوئے بعض قوانین پر نظرثانی کرتے ہوئے انہیں کالعدم کیا ہے تو وہ بھی قانون کی حدود کے اندر رہ کر کیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے پارلیمینٹ کا بنایا ہوا نامزدگی فارم کالعدم قرار دے دیا تھا، جس کے خلاف اپیل باقاعدہ سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے مقدمے کی سماعت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس میں جو بھی فریق ہیں وہ اپنے اپنے دلائل فاضل عدالت کے روبرو رکھ دیں گے اور عدالت قانون کے مطابق جو بھی فیصلہ مناسب سمجھے گی کر دے گی، انتظامیہ کو بھی اپنا کردار آئین و قانون اور اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق ادا کرتے رہنا چاہئے اگر ریاستی ادارے ایک دوسرے کی حدود میں داخل ہوں گے تو اُن کا اپنا کام متاثر ہو گا، اِس لئے بہترین لائحہ عمل تو یہی ہے کہ ہرکام قانون کے مطابق ہو اور اس کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھایا جائے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی یہ خواہش درست ہے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے، لیکن بدقسمتی سے دانستہ یا نا دانستہ بعض لوگ ایسا کر رہے ہیں، بعض سیاست دان نہ معلوم کیوں فوج کے خود ساختہ ترجمان بنے رہتے ہیں، اسی طرح بعض ریٹائرڈ حضرات جو اب تجزیہ کار بن گئے ہیں،بات بات پر فوج کو سیاست میں مداخلت کی دعوت دیتے ہیں، بہتر ہوتا کہ فوج ان تازہ تازہ بننے والے تجزیہ نگاروں سے کھل کر اظہارِ برأت کر دے ۔ یہ حضرات جب فوج میں خدمات انجام دے رہے تھے تو کسی نے کبھی اُن کے خلاف بات نہیں کی، وہ عزت و احترام کے ساتھ اپنے عہدوں سے ریٹائر ہو گئے اللہ تعالیٰ نے اُنہیں جس مقام و منصب سے نوازا اس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس کی تقدیس کا خیال کریں اور سر شام ٹی وی سکرینوں پر بیٹھ کر ایسے خیالات کا اظہار نہ کریں کہ لوگ اُن کی باتوں کو سُن کر براہِ راست یا بالواسطہ فوج کے خلاف باتیں شروع کر دیں، انہیں اپنے طرزِ عمل سے اپنے وقار و احترام اور اپنے(سابق) ادارے کی عزت میں اضافے کا باعث بننا چاہئے۔اگر وہ کئی کئی گھنٹے تک ٹی وی سکرین پر بیٹھ کر سیاست دانوں کو ہدفِ تنقید،بلکہ ہدف ملامت بناتے رہیں گے اور تان اس بات پر توڑیں گے کہ سیاست دان بہت بُرے لوگ ہیں، نا اہل ہیں، ملک دشمن ہیں، غدار ہیں وغیرہ وغیرہ، اِن کی اصلاح کے لئے کسی’’فوجی انقلاب‘‘ کی ضرورت ہے اور اس کے بغیر مُلک آگے نہیں بڑھ سکتا تو ظاہر ہے جن لوگوں کو ایسے خیالات سے اتفاق نہیں وہ بھی اِن کے رد میں کوئی نہ کوئی بات کریں گے، اگر ریٹائرڈ افسروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سیاست دانوں کے خلاف گفتی اور ناگفتی سب کچھ کہتے رہیں تو پھر اُنہیں یہ توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ کوئی اُن کی باتوں کا جواب نہیں دے گا،سیاست دان خود یا اُن کے حامی، جیالے اس پر ردعمل دیں گے اور عین ممکن ہے یہ لوگ اپنے ردعمل میں حدود بھی عبور کر جائیں، جس طرح بعض ریٹائر حضرات حدود کا خیال نہیں کرتے۔

بہترین طرزِ عمل یہ ہے کہ ریٹائرڈ حضرات اپنے عمر بھر کے تجربات سے قوم کو مستفید کریں، کتابیں لکھیں جن میں اپنے قابل تقلید کیریئر کا احاطہ کریں۔ بعض ریٹائرڈ افسروں نے ایسا کیا بھی ہے، جس پر نقد و نظر بھی ہو رہی ہے اگر انہیں ٹی وی سکرینوں پراپنی گفتگو کرنا ہی پسند ہے تو بھی یہ اُن کا اپنا منتخب کیا ہوا میدان ہے،لیکن یہ ٹاک شوز ظاہر ہے یکطرفہ ٹریفک تو نہیں چلا سکتے، ان کے جواب میں نقطہ نظر بھی سامنے آ جاتا ہے تو پھر یہ حضرات تقدیس کا لبادہ اوڑھنے کی کوشش کرتے ہیں، یا اپنی سابقہ خدمات کا تذکرہ لے بیٹھتے ہیں، ریٹائرڈ حضرات جن خیالات کا اظہار کرتے ہیں وہ اگرچہ ان کے ذاتی خیالات ہوتے ہیں،لیکن لوگ اُنہیں غلطی سے فوج کے خیالات سمجھ بیٹھتے ہیں،کیونکہ اُن کا فوج سے تعلق رہا ہوتا ہے، اِس لئے بہتر یہ ہے کہ جس طرح سابق فوجیوں کو کتابیں یا مضامین لکھنے کے لئے جی ایچ کیو سے اجازت لینی پڑتی ہے اسی طرح اِن حضرات کے پروگرام بھی پہلے ریکارڈ ہوں، جی ایچ کیو انہیں دیکھے اور پھر یہ آن ایئر ہوں، کیونکہ ان کے خیالات کی وجہ سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہے،بلکہ بعض اوقات وہ خود بھی یہ تاثر دیتے ہیں کہ اُنہیں ترجمانی کا فریضہ سونپا گیا ہے،جبکہ ایسا ہے نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر نے بہت بروقت یہ انتباہ کر دیا ہے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے، ہم اس کی تائید کرتے ہیں تاہم جو لوگ اپنے طرزِ عمل کی وجہ سے فوج پر تنقید کا باعث بن رہے ہیں اُن پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مزید : رائے /اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...