ملائشیااور پاکستان

ملائشیااور پاکستان
ملائشیااور پاکستان

  

ملائشیا ساؤتھ ایسٹ ایشیا کا ایک ایسا ملک ہے ،جس کی آبادی تین قومتیوں میں بٹی ہوئی ہے تقریباً پچاس فیصد Malays ہیں جو مسلمان ہیں اور انہیں فرزند زمین کہا جاتا ہے تقریباً 35 فیصد چینی ہیں اور باقی بھارت نژاد ہندو اور سکھ۔ کل آبادی 31.19 ملین کے قریب ہے اور رقبہ 127.264 مربع میل ہے۔

آبادی کے ایسے مکس کے باوجود قومی یکجہتی کا حصول اور تیز رفتار ترقی ایک حیرت انگیز Phenomenon ہے۔ ہمارے ہاں تو ہر وقت صوبوں سے مرکز اور پنجاب کے خلاف مبینہ زیادتیوں کی دہائی سنائی دیتی ہے حالانکہ ہماری اُردو سپیکنگ آبادی کے علاوہ ہم سب اسی سرزمین کے رہنے والے ہیں اور ایک ہی خدا او رسول ؐ پر ایمان رکھتے ہیں۔ کاش ہم ایسے ملکوں کے تجربات سے کچھ سیکھ سکیں۔ سیکھنے کی کچھ کوششیں بھی ہوئی ہیں۔ میاں نوازشریف نے اپنے پچھلے دورحکومت میں ملائشیا کے دورے سے پہلے ایک وفد بھیجا تھا۔

وفد میں ایک بیوروکریٹ خواجہ ظہیر، ایک ماہر معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن شامل تھے اور احسن اقبال نے وفد کی قیادت کی، لیکن افسوس کہ ہمارا جذبہ جلد سرد پڑ جاتا ہے اور ہماری ہر سکیم کرپشن اور ہیرا پھیری کا شکار ہو جاتی ہے۔

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم میرٹ پر یقین نہیں رکھتے بلکہ ہم صوبائی تعصب، فرقہ وارانہ تعصب اور ذات برادری کے تعصب کے ساتھ ساتھ رشتہ داریوں کے تقاضے نبھانے پر یقین رکھتے ہیں۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

ملائشیا کی یاد وہاں کے حالیہ انتخابات کے نتائج سن کر آئی ہے۔ ویسے ملائشیا کے ساتھ کچھ ذاتی یادیں بھی وابستہ ہیں، کیونکہ خوش قسمتی سے مجھے تین دفعہ ملائشیا جانے کا اتفاق ہوا ۔ پہلی دفعہ ایک ماہ کے براڈکاسٹنگ کورس میں شرکت کا موقع ملا۔ پھر اُس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ جانا ہوااور پھر چند سال قبل سری لنکا اور انڈونیشیا کے دورے میں کوالالمپور بھی شامل ہو گیا۔

ملائشیا میں پندرہ سالوں کے وقفے کے بعد 92 سالہ مہاتیر محمد دوبارہ ملک کے وزیراعظم منتخب ہو گئے ہیں۔ کئی وجوہ کی بناء پر یہ ایک بہت ہی غیرمعمولی واقعہ ہے۔ مہاتیر محمد ایک میڈیکل ڈاکٹر تھے سیاست میں آ گئے اور ایسے کامیاب رہے کہ تقریباً 22 سال حکمران رہے۔ انہوں نے اس عرصے میں اپنے ملک کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا،تاہم ان کے دور میں سب اچھا نہیں تھا وہ عملی طور پر ایک ڈکٹیٹر تھے ،کیونکہ ایشیائی معاشروں میں اتھارٹی کے مظاہرے کے بغیر کام کرنا مشکل ہوتا ہے۔ پھر انہوں نے اپنے نائب وزیراعظم انور ابراہیم کوہم جنس پرستی کے مبینہ الزام میں جیل بھجوا دیا۔ قدرت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ اتنے لمبے عرصے کے بعد ایک دفعہ پھر وہی منظر پیدا ہو گیا ہے یعنی مہاتیر محمد وزیراعظم اور انور ابراہیم متوقع طور پر اگلے وزیراعظم ہوں گے۔

انور ابراہیم کو چند دن پہلے رہا کر دیا گیا ہے اور دونوں لیڈروں کے درمیان معافی تلافی ہو گئی ہے۔ انور ابراہیم نائب وزیراعظم کی حیثیت سے ایک دفعہ پاکستان کے دورے پر بھی آئے تھے۔ انہوں نے اسلام آباد میں انسٹیٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز میں خطاب کیا تھا۔

اتفاق سے میں وہاں موجود تھا انہوں نے دستور ساز اسمبلی میں قائداعظم کے تاریخی خطاب کے پہلے حصے کی طرف توجہ دلائی تھی جس میں انہوں نے کرپشن اور اقرباء پروری کو ایک لعنت قرار دیا تھا اور اس کے خاتمے کا عزم کیا تھا آج ہم نے ان باتوں کو کلچر کا ضروری حصہ بنا لیا ہے قائد کی روح کتنی بے قرار ہو گی۔

نمایاں ترقی کے باوجود ملائشیا کی کئی چیزیں حیرت انگیز طور پر پاکستان سے مماثل ہیں مثلاً سیاست کی بوعجبیاں ہم اپنے سیاستدانوں کی بے اصولیوں اور قلابازیوں سے بڑے پریشان ہوتے ہیں، لیکن مہاتیر محمد اور انور ابراہیم کے تعلقات کا قصہ کیا کم حیرت انگیز ہے پھر ان انتخابات میں شکست کھانے والے وزیراعظم نجیب رزاق کی کرپشن کی کہانی بھی کم ہوش رُبا نہیں۔

جب یہ دریافت ہوا کہ سٹیٹ ڈویلپمنٹ فنڈ سے 700 ملین ڈالر نجیب رزاق کے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل ہو گئے ہیں تو انہوں نے ہمارے جنرل پرویز مشرف کی طرح یہ دعویٰ کیا کہ یہ رقم انہیں سعودی حکمرانوں نے دی ہے۔

پھر شکست کے بعد اُن کے گھر چھاپہ مارا گیا تو کئی قیمتی اشیاء اور کرنسی بڑی مقدار میں دریافت ہوئی۔ کیا اس سے کوئٹہ اور کراچی میں گرفتارہونے والے کئی افسران کی یاد تازہ نہیں ہو جاتی، جن کے گھر سے کروڑوں روپے کی کرنسی اور سونا پکڑا جا چکا ہے۔

اگرچہ اس سال بہت سے ملکوں میں انتخابات ہوئے ہیں یا ہو چکے ہیں، لیکن ملائشیا کے انتخابات میں ہمارے لئے دلچسپی کا بہت سامان ہے ایک تو یہ کہ ملائشیا ایشیا میں واقع ہے اور پھرایک مسلمان ملک ہے۔ انتخابات میں شکست کھانے والے حکمران نجیب رزاق 2009ء میں برسراقتدار آئے تھے وہ کوئی معمولی آدمی نہیں تھے بلکہ ملائشیا کے دوسرے وزیراعظم کے بیٹے اور تیسرے وزیراعظم کے قریبی عزیز تھے۔

اُن کی ابتدائی تعلیم برطانیہ میں ہوئی تھی۔ اتنے اعلیٰ پس منظر کے حامل نجیب رزاق نہ صرف بدعنوان ثابت ہوئے بلکہ سخت قسم کے ڈکٹیٹر بھی تھے۔

پریس میں اُن پر تنقید کرنا تقریباً جرم تھا۔ انہوں نے بہت سے سیاسی مخالفوں کے علاوہ صحافیوں کو جیل میں ڈالا ہوا تھا۔ اُن کی بیوی کو اُس کی شان و شوکت اور شہ خرچیوں کی وجہ سے انہیں فلپائن کی لیڈی مارکوس سے تشبیہہ دی جاتی تھی۔

1970ء تک ملائشیا ایک پسماندہ ملک تھا۔ 1969ء میں شدید نسلی فساد سے ملکی سا لمیت خطرے میں پڑ گئی تھی۔ قومی سطح پرغربت دیہی اورشہری علاقوں میں اقتصادی تفاوت، مختلف قومتیوں میں مذہبی ، نسلی تفریق جیسے گھمبیر مسائل درپیش تھے، لیکن پھر چند دہائیوں میں ملائشیا ریجن میں ایک Success Story کیسے بنا؟ اِس کا جواب ممتاز ماہر اقتصادیات ڈاکٹر پرویز حسن نے اپنی آٹوبائیو گرافی میں دیا ہے۔

وہ عالمی بینک کی طرف سے اس خطے کے ہیڈ تھے۔انہوں نے لکھا ہے کہ واضح وژن، روشن خیال لیڈر شپ، مضبوط ریاستی ڈھانچہ اور اس کے ساتھ گڈگورننس ، معاشی لحاظ سے برآمدی پہلو پر زیادہ توجہ ،لیکن دیکھا جائے تو یہ اصول تو سب ملکوں پر لاگو ہوتے ہیں ملائشیا کو مخلص قیادت میسر آئی اور انہیں طویل عرصے تک کام کرنے دیا گیا پھر وہاں کے میجر گروپوں نے ایک ہی پارٹی کے جھنڈے تلے کام کیا اس لئے قومی سطح پر بڑی حد تک اتفاق رائے رہا۔ سوچنے کی بات ہے، ہم کب یہ شرائط پوری کریں گے کیا ہم کبھی بنیادی مسائل پر اتفاق رائے پیدا کر سکیں گے اور کسی پارٹی کو پالیسیوں پر عملدرآمد کے لئے مناسب وقت دینے پر تیار ہوں گے؟

مزید : رائے /کالم