سیاستدان سیاست سنبھالیں، فوج کو بخش دیں

سیاستدان سیاست سنبھالیں، فوج کو بخش دیں
سیاستدان سیاست سنبھالیں، فوج کو بخش دیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پاکستان میں اکثر سیاستدانوں کے پاس اس کے سوا کوئی بیانیہ ہی نہیں کہ فوج سیاسی معاملات میں مداخلت کررہی ہے۔ کسی کو چھینک بھی آئے تو یہ بیان جاری کیا جاتا ہے کہ اس کے پس پردہ اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے۔ عوام کے سامنے اپنی کرپشن، ناکامی اور نا اہلی کا اعتراف کرنے کی بجائے سیاسی اشرافیہ کے پاس یہ بڑا آسان راستہ ہے کہ وہ سارا ملبہ فوج پرگرا دے۔

کسی زمانے میں جرنیلوں نے غلطیاں کیں، اقتدار پر قبضے کئے، سیاست میں بری طرح ملوث ہوئے، لیکن گزشتہ دس برسوں میں فوج نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے، پے در پے مواقع ملنے کے باوجود اقتدار پر شبِ خون مارا نہ جمہوریت کو چلتا کیا، لیکن اس کے باوجود الزام کا پرنالہ وہیں کا وہیں ہے۔

جب فوج کے ترجمان پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ وقت ثابت کررہا ہے کہ فوج جمہوریت کے تسلسل سے خوش ہے اور اس کی راہ میں نہ تو کوئی رکاوٹ ڈال رہی ہے اور نہ آنے دے گی، تو ان کی باتوں کو جھٹلانے کا کوئی جواز نظر نہیں آرہا تھا، گذرے پانچ برسوں میں تو حد ہوگئی، بات بات پر کہا جاتا تھا کہ فوج جمہوریت کی بساط لپیٹنا چاہتی ہے، کسی سیاستدان نے بری کارکردگی پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا تو کہا گیا یہ فوج کے اشارے پر کررہا ہے، شیخ رشید حکومت جانے کی جو تاریخیں دیتے رہے انہیں بھی فوج کی طرف منسوب کیا گیا، لیکن ہوا کیا، حکومت پانچ برس پورے کرگئی اور نئے انتخابات کا سفر شروع ہوچکا ہے، ہائیکورٹس نے حلقہ بندیوں کے حوالے سے فیصلے دیئے تو پھر افواہیں اڑیں کہ انتخابات ملتوی ہوجائیں گے، حالانکہ چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر واضح یقین دہانی کراچکے ہیں کہ انتخابات 25 جولائی کو ہی ہوں گے۔ نامزدگی فارم پر لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ آیا، اس وقت بھی اشارتاً یہی کہا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ انتخابات ملتوی کرانے کی سازش کررہی ہے، ان سب باتوں سے یہی لگتا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں نے جمہوریت کی چھتری تلے دس سال تو گذار لئے ہیں، مگر ان میں ابھی اعتماد نہیں آیا، وہ آج بھی دودھ سے جلے کی طرح چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پی رہے ہیں، جس کا ایک بار گرم دودھ سے منہ جل گیا تھا۔

اب یہ کتنا بڑا بیانیہ ہے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے، اس میں چھپے ورد کو محسوس کیا جانا چاہئے، مگر اس کا کیا کیا جائے کہ فوج کا ذکر کئے بغیر ہمارے سیاستدانوں کی دال ہی نہیں گلتی، ان کے پاس اور ہے کیا جو وہ عوام کے پاس لے کر جائیں، نواز شریف ووٹ کو عزت دو کا جو بیانیہ لے کر آئے ہیں وہ سارے کا سارا فوج کے خلاف ہے، وہ ان ادور کا ملبہ بھی اسٹیبلشمنٹ پر ڈالنا چاہتے ہیں، جن میں وہ سول حکومت کو ختم کرنے کے لئے خود ہر اول دستے میں شامل رہے، آج کل بلا کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، اچانک بجلی کہاں غائب ہوگئی، یہ کوئی ایسی چیز تو تھی نہیں، جو چھو منتر کی طرح نایاب ہوجاتی، بشرطیکہ واقعتاً موجود ہوتی۔ آج میاں یہ کہہ رہے ہیں کہ نگران حکومت سے پوچھو بجلی کہاں گئی، حالانکہ عوام تو یہ پوچھ رہے ہیں کہ جو بجلی آپ نے بنائی تھی وہ کہاں گئی؟ اب کوئی بعید نہیں اس کا الزام بھی نواز شریف خلائی مخلوق پر لگا دیں کہ ان کے دورِ حکومت کو ناکام ثابت کرنے کے لئے بجلی کم پیدا کی جارہی ہے۔

یہ لڑائی ایسے تو نہیں لڑی جاسکتی، اہلِ سیاست کو کچھ اپنی اداؤں پر بھی غور کرنا چاہئے، اب تو بہت کچھ بدل گیا ہے، پھر ماضی کے تجربات کی بنیاد پر آج کا بیانیہ کیونکر ترتیب دیا جاسکتا ہے، کیوں بات بے بات فوج کو ہدف بنایا جائے؟ اگر صوبوں میں نگران وزرائے اعلیٰ کا بروقت فیصلہ نہیں ہوسکا تو اس میں کس کا قصور ہے؟ کیا اس میں بھی کوئی خفیہ ہاتھ تلاش کیا جائے؟ فوج کی آج کل باڈی لینگوئج بتا رہی ہے کہ اسے پاکستان کی خارجی صورت حال اور داخلی سلامتی کی زیادہ فکر ہے۔

منظور پشتین جیسے فتنے سر ابھا رہے ہیں اور عقل عیار ایک نئے روپ میں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتی ہے۔فوج کے خلاف ہمارے دشمن کیا کم مہم چلا رہے ہیں کہ اس میں ہم بھی شامل ہوجائیں۔

کیا یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی ہے کہ امریکہ، بھارت اور افغانستان کا ہدف پاکستانی فوج ہے؟ کیا فوج ملکی استحکام کے لئے وہ کردار ادا نہیں کررہی جو دشمنوں کو چبھتا ہے؟ کیا فاٹا کے خیبر پختونوا میں انضمام کے لئے فوج نے قومی سلامتی کمیٹی کے ذریعے جو کوششیں کیں وہ کسی سے اوجھل ہیں کیا؟ اس انضمام کے بعد افغانستان کی تلملاہٹ اس بات کا ثبوت نہیں کہ ہم نے اس کی دکھتی رگ پر پیر رکھ دیا ہے۔

وہ اس علاقے کو نومین کی صورت میں رکھنا چاہتا تھا تاکہ دہشت گردی اور دراندازی کا سلسلہ بھی جاری رکھے اور پاکستان کو اس کا مورد الزام بھی ٹھہراتا رہے۔ کیا اس سے پہلے فوج نے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا جو فیصلہ کیا،وہ افغانستان حکومت کے لئے ایک تازیانہ ثابت نہیں ہوا، پھر یہ منظور پشتین کی افغانستان سے پاکستان میں انٹری، جس کے تمام ثبوت فوج کو مل چکے ہیں اور جن کا اظہار میجر جنرل آصف غفور نے اپنی پریس کانفرنس میں بھی کیا، جس کا مقصد پاکستان کے اندر انتشار پیدا کرنا ہے، جس کے ڈانڈے تحریک طالبان سے ملتے ہیں اور اس کے دو گروپ اس سارے کھیل کے پیچھے ہیں۔

ایک گروپ منحرفین کا ہے اور ایک ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ اب کوئی بتائے کہ پاکستان کے کس سیاستدان کو اس سارے کھیل کا ادراک ہے، سیاستدان تو بلا سوچے سمجھے یہ بیان داغ رہے ہیں منظور پشتین کو آزادی اظہار رائے کا حق ملنا چاہئے۔ کیوں ملنا چاہئے؟ اگر وہ پاکستان میں مختلف قومیتوں کے درمیان انتشار پھیلانا چاہتا ہے، فوج نے ابھی تک اسے بات کرنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، اس کی آزادانہ نقل و حمل پر بھی کوئی پابندی نہیں لگائی، لیکن اب وہ افغانستان کی لڑائی کو پاکستان میں لے آیا ہے، اس کی اجازت اسے کیسے دی جاسکتی ہے؟ اب ان پہلوؤں پر سیاستدانوں کو غور کرنا چاہئے، لیکن ان کی سوئی صرف اسی نکتے پر اٹکی ہوئی ہے کہ فوج جمہوریت کے خلاف سرگرم عمل ہے، وفاداریاں تبدیل کرا رہی ہے، من پسند حکومتیں بنوا رہی ہے، انتخابات پر اثر انداز ہونا چاہتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔

آئی ایس پی آر کے میجر جنرل آصف غفور نے اپنی پریس کانفرنس میں چونکا دینے والا انکشاف بھی کیا کہ پچھلے کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر فوج مخالف دس ہزار اکاؤنٹس بنائے گئے ہیں جن میں کچھ بیرون ملک سے اور کچھ پاکستان سے بنے ہیں۔ ظاہر ہے ان اکاؤنٹس کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ پاک افوج کو دنیا کی نظر میں ایک غاصب اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والی فوج قرار دیا جائے۔

کیا پاک فوج ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے اور گھس بیٹھیوں کو ملکی سلامتی سے کھلواڑ کرتا دیکھتی رہے۔ میجر جنرل آصف غفور نے بڑے حوصلے سے یہ بات کی ہے کہ فوج اپنے خلاف کی جانے والی تنقید کھلے دل سے برداشت کررہی ہے، لیکن اگر یہ تنقید پاکستان پر کی گئی اور اس کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے تو فوج برداشت نہیں کرے گی۔

فوج کو یہ وارننگ کیوں دینا پڑی؟ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اب معاملہ ریاست کی سلامتی کی طرف جارہا ہے۔ ظاہر ہے اس صورت میں فوج چپ کرکے نہیں بیٹھ سکتی۔

فوج کے ریڈار پر جو چیزیں ہوتی ہیں، وہ سیاستدانوں کے علم میں نہیں ہوتیں۔

یہ کہا جارہا ہے کہ ہمیں با اہل کرانے والے انتخابات سے بھاگنا چاہتے ہیں، لیکن انہیں بھاگنے نہیں دیں گے۔ اب بتائیں کہ یہ عوام کو خوامخواہ بے وقوف بنانے والی بات ہے یا نہیں؟ فوج کہہ رہی ہے، انتخابات وقت پر ہوں گے، چیف جسٹس کہتے ہیں، انتخابات کے التوا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ الیکشن کمیشن بار بار یقین دہانی کرا رہا ہے کہ 25 جولائی کو انتخابات میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک پر عزم ہیں کہ انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے۔ تمام سیاسی جماعتیں انتخابات کا ایک دن بھی التوا نہیں چاہتیں، پھر یہ میاں صاحب کسے کہہ رہے ہیں کہ بھاگنے نہیں دیں گے۔

درپیش حالات میں واقعی فوج کے ترجمان کی اس بات کو صدق دل سے سننا چاہئے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے، اسے ہدف بنا کر عوام سے ووٹ نہ مانگے جائیں، نہ اب یہ ڈراوا دیا جائے کہ فلاں کو ووٹ نہ دیا تو جمہویت خطرے میں پڑ جائے گی؟ فوج قومی سلامتی کے جن اندرونی و بیرونی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے حکمتِ عملی اختیار کئے ہوئے ہے، اسے اس پر کام کرنے دیا جائے، ملک کی سیاست کو سیاستدان سنبھالیں اور اپنی انتخابی مہم کو سیاسی ایشوز تک محدود رکھیں، اسے قومی سلامتی کے حوالے سے کھلواڑ نہ بنائیں۔

مزید : رائے /کالم