میوزک ورلڈ میں انٹری کا مقصد والد کے حقوق کیلئے لڑنا ہے، ندا خاں

میوزک ورلڈ میں انٹری کا مقصد والد کے حقوق کیلئے لڑنا ہے، ندا خاں
میوزک ورلڈ میں انٹری کا مقصد والد کے حقوق کیلئے لڑنا ہے، ندا خاں

  

لاہور(فلم رپورٹر)نصرت فتح علی خاں کی صاحبزادی ندا نصرت نے اپنے ایک تفصیلی انٹرویو میں کہا کہ میوزک ورلڈ میں انٹری کا مقصد صرف والد کے حقوق کے لئے لڑنا ہے، جولوگ ان کے میوزک کا غلط استعمال کررہے ہیں ، پیسے کما رہے ہیں اورنہ ہی کوئی کریڈٹ دے رہے ہیں، ان کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کرچکی ہوں۔ جس وقت میرے والد کا انتقال ہوا توہمیں کچھ سمجھ ہی نہیںآیا۔ میں اورمیری والدہ اکیلے تھے۔ انہوں نے پاکستان سے دورجانے کا فیصلہ کیا اورپھرانہوں نے اکیلے کینیڈا میں کاپی رائٹس کی جنگ لڑی اوراسے لڑتے لڑتے وہ بیماررہنے لگیں اورچند برس قبل اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔ ان کی وفات کے بعد اب میں خود اس میدان میں آئی ہوں۔کینیڈا شفٹ ہونے کے بعد میں نے اپنی تعلیم مکمل کی۔ اس کے علاوہ استاد نصرت فتح علی خاں کا میوزک بچانے کے لئے بھی کام کرتی رہی۔ اب میں نے اپنے کچھ ٹارگٹ سیٹ کررکھے ہیں، جن پرکام شروع کردیا ہے۔ پہلے مرحلے میں جعلی ’’ ندا خاں ‘‘ بن کرجوبھی اس کا فائدہ اٹھا رہی ہے اوررائلٹی کی مد میں رقم لے رہی ہے، اس کے خلاف قانونی کارروائی کرنے جارہی ہوں۔ اس کے علاوہ راحت فتح علی خاں سمیت جن جن لوگوں نے میرے والد کے فن سے فائدہ اٹھایا ، ان سب کوحساب دینا ہوگا۔ اس جنگ کواکیلے لڑنے کا ارادہ ہے۔ مجھے کسی کی سپورٹ نہیں اورنہ ہی مجھے چاہئے۔انہوں نے کہا کہ میرے والد کا جوورثہ ہے، اس کی اصل حقدارمیں ہوں اور میں ہی اس کوبہترانداز سے سنبھال سکتی ہوں۔ اس سلسلہ میں مختلف لوگوں کو قانونی نوٹس بھجوانے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے، جہاں تک بات راحت فتح علی خاں کونوٹس بھجوانے یا ان سے بات کرنے کی ہے توابھی تک ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ، لیکن جونہی ان سے رابطہ ہوگا تومیڈیا تک تمام حقائق لاؤں گی۔ندا نصرت نے کہا کہ میرے والد کے کام کوجوبنا اجازت استعمال کررہے ہیں۔

، ان کوروکنے کے ساتھ ساتھ ان کا بہت سا ایسا کام بھی موجود ہے، جس کوآج تک کسی نے نہیں سنا، اس کوبھی ریلیزکرنے کا ارادہ رکھتی ہوں۔ میرے پاس ان کے بہت سے گیتوں، قوالیوں کی ریکارڈنگ کے علاوہ دھنوں کا خزانہ بھی پڑا ہے۔ وہ جب بھی گھر پرہوتے یا میں ان کے ساتھ بیرون ممالک دورے پرجاتی تومیں اورمیری والدہ ان کے پاس رہتے۔ اس دوران وہ جوبھی نئی دھن بناتے تومیں اس کوریکارڈ کرلیتی۔ اسی طرح بہت سے گیتوں اورغزلوں کے ساتھ قوالیاں بھی میرے پاس موجود ہیں۔ ابھی ان کولوگوں تک پہنچانا ہے۔اس حوالے سے میں نے سوشل میڈیا پرآفیشل پیج ’’دی رئیل این ایف اے کے‘ ‘بنایا ہے اوردوسری جانب سوشل میڈیا پربنے جعلی اکاؤنٹس کی بندش کے لئے بھی قانونی جنگ شروع کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ استاد نصرت فتح علی خاں کے نام سے آفیشل پیج کے ذریعے ہم نوجوانوں کو بھی موقع فراہم کریں گے کہ وہ میوزک ورلڈ میں نام بنا سکے۔ ان کے ساتھ البم ریکارڈ کئے جائیں گے یا نصرت فتح علی خاں کی دھنیں ان کی آواز میں ریکارڈ کی جائیں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرا فوکس فی الوقت اپنے والد کے میوزک کوبچانا اورلوگوں تک پہنچانا ہے۔ اپنی گائیکی کے حوالے سے وقت آنے پرفیصلہ کروں گی۔ مگراتنا کہہ سکتی ہوں کہ میں گا سکتی ہوں اور میں نے اپنے والد کوقریب سے دیکھ کربہت کچھ سیکھا ہے۔ ہماری فیملی میں خواتین کوگانے کی اجازت نہیں ہے لیکن اب وقت اورحالات بدل چکے ہیں، اگرکسی لڑکے یا لڑکی میں ٹیلنٹ ہے تواس کوآگے آنا چاہئے۔ اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ میرے والد اپنے انٹرویوز میں کہہ چکے ہیں کہ اگرمیری بیٹی کومیوزک میں کام کرنے کا شوق ہے تومیں اس کوروکوں گا نہیں۔ ویسے بھی اگرہماری فیملی کی کسی لڑکی میں گائیکی کا ٹیلنٹ موجود ہے تواس کوسامنے آنا چاہئے۔ جس طرح پاکستان اوردوسرے ممالک میں اپنے والد کے میوزک رائٹس کیلئے لڑوں گی، اسی طرح اگلے مرحلے میں پڑوسی ملک بھارت میں بھی اس مہم کے ذریعے جعلسازی کوروکا جائے گا۔ جولوگ میرے والد کے گیت گا رہے ہیں، انہیں اب حساب دینا ہوگا۔

مزید : کلچر