توہین عدالت کیس ہائیکورٹ کے فل بیچ نے احسن اقبال کے بیان کا ٹرانسکرپٹ 11جون کا طلب کرلیا

توہین عدالت کیس ہائیکورٹ کے فل بیچ نے احسن اقبال کے بیان کا ٹرانسکرپٹ 11جون کا ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی ،مسٹر جسٹس عاطر محمود اور مسٹر جسٹس مسعود جہانگیر پر مشتمل فل بنچ نے توہین عدالت کیس میں سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کو مخاطب کرکے ریمارکس دئے کہ عدلیہ پاناماپر فیصلہ دے تو غلط ،حدیبیہ اور خواجہ آصف پر فیصلہ دے توٹھیک ہے ،اب وہ عدلیہ نہیں رہی جو ٹیلی فون پر فیصلے کرتی تھی ،فل بنچ نے احسن اقبال کی عدلیہ کے بارے میں ویڈیو بیان کو عدالت میں نہ چلانے کی استدعا مسترد کر دی تاہم جب پروجیکٹر پر ویڈیو چلائی گئی تو اس کی آواز درست نہیں تھی جس پر عدالت نے پیمراکودوبارہ ویڈیو ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی ،عدالت نے احسن اقبال کے بیان کا ٹرانسکرپٹ بھی آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔گزشتہ روز سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع ہوئی تو احسن اقبال اپنے وکیل اعظم نذیر تارڑ کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے ،اعظم نذیر تارڑ نے درخواست کا جواب پیش کیا جس میں کہا گیا ہے کہ احسن اقبال عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور عدالت کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں اس لئے ان کے خلاف توہین عدالت کے نوٹس کو خارج کیا جائے ۔وکیل نے استدعا کی کہ احسن اقبال کے بیان کی فوٹیج عدالت میں نہ چلائی جائے جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اس میں غیر اخلاقی مواد ہے؟جس مواد کا ہمیں علم نہیں اس پر فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں ؟فل بنچ کے رکن جسٹس عاطر محمود نے احسن اقبال سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بھی عدلیہ کے احترام کی بات کی اورانہوں نے اس پر عمل کیا؟ بنچ کے سربراہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ کیا عدالتوں نے یہ سب کچھ شروع کیا؟دانیال، طلال چودھری عدلیہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں اور مریم اورنگزیب صبح شام کیا بولتی رہی ہیں،مقدمات میں گالیاں دی گئیں ،کیا کبھی ایسا ہوا ہے۔آپ لوگوں نے جوڈیشل سسٹم کا بیڑہ غرق کر دیا۔حکمرانوں کا رویہ دیکھ کر قصور میں عدلیہ کے خلاف ریلی نکالی گئی ۔ فل بنچ نے سابق وزیر داخلہ سے کہا کہ آپ کے پاس قانونی راستہ تھا آپ اپنے بارے میں ریمارکس کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دیتے لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔احسن اقبال کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل نے عدلیہ کی توہین نہیں کی بلکہ چیف جسٹس سے شکوہ کیا تھا۔احسن اقبال نے عدلیہ کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال نہیں کی ، وہ عدلیہ کا احترام کرتے ہیں جس پر فل بنچ نے کہا کہ جو سبق آپ دے رہے ہیں کیا وہ سبق اپنے ساتھیوں کو بھی دیا ہے اور اس پر کتنا عمل ہوا ہے ۔فل بنچ نے سابق وفاقی وزیر کے عدالت میں فون استعمال کرنے پر ڈانٹ پلا دی اور باور کرایا کہ وہ عدالت کے سامنے ہیں ۔تین رکنی فل بنچ نے احسن اقبال کے خلاف کارروائی 11 جون تک ملتوی کر دی اور حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر احسن اقبال کے عدلیہ مخالف بیان کا ٹرانسکرپٹ پیش کیا جائے ۔

مزید : علاقائی