کسی کو سرکاری گاڑیوں پر انتخابی مہم نہیں چلانے دیں گے ، چیف جسٹس

کسی کو سرکاری گاڑیوں پر انتخابی مہم نہیں چلانے دیں گے ، چیف جسٹس

 اسلام آباد(آئی این پی) سپریم کورٹ آف پاکستان میں لگژری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ضبط کی گئی گاڑیوں سے متعلق بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کسی سیاستدان کو سرکاری گاڑیوں پر انتخابی مہم نہیں چلانے دیں گے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے وزرا اور سرکاری افسران کے لگژری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران حکومت نے سپریم کورٹ میں لگژ ری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق رپورٹ پیش کی۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کو بلٹ پروف گاڑی دی گئی؟۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے آگاہ کیا کہ سابق وزیراعلیٰ کو سیکیورٹی خدشات ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہمیں بتائیں کس جگہ لکھا ہے کہ سیکیورٹی خدشات پر بلٹ پروف گاڑی دی جاتی ہے؟۔ساتھ ہی جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب کی ماڈل ٹاؤن رہائش گاہ کے باہر بچوں کے کھیلنے کے پارک کی جگہ مورچے لگا دیئے گئے ہیں۔ چیف سیکریٹری نے جواب دیا کہ پارک کی جگہ اب پارکنگ کے لیے استعمال کی جاتی ہے اور مورچے اور رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے شہباز شریف کے ماڈل ٹاؤن رہائشگاہ کے باہر کی ویڈیو بنا کر دکھائیں۔سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے آج رات تک بلوچستان کے 7 سابق وزرا کو اپنی گاڑیاں جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ گاڑیاں جمع نہ کرانے پر ایک لاکھ روپے یومیہ جرمانہ ہو گا اور ایک ہفتے کے بعد جرمانہ 2 لاکھ روپے روزانہ ہو جائے گا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ بلوچستان کی کل 56 گاڑیاں ہیں جن میں سے 49 ریکور ہو چکی ہیں۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وفاق میں 105 گاڑیاں ریکور کی ہیں۔ صرف 3 گاڑیاں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، سابق ڈپٹی اسپیکر سینیٹ عبدالغفور حیدری اور سابق سینیٹر کامران مائیکل کے پاس ہیں۔مولانا فضل الرحمان اورعبدالغفورحیدری سے بلٹ پروف گاڑیاں واپس نہیں لیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کامران مائیکل سے بھی بلٹ پروف گاڑی واپس نہیں لی۔اس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ فضل الرحمان کوبلٹ پروف کیساتھ ڈبل کیبن گاڑی بھی ملی ہے،بلٹ پروف دیدی توڈبل کیبن گاڑیوں کی کیاضرورت ہے؟چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے توجانثارہی بہت ہیں،جانثاروں کی وجہ سے کوئی فضل الرحمن تک پہنچ ہی نہیں سکتا،لگژری گاڑیوں کے اخراجات قوم برداشت کرتی ہے،مولانا فضل الرحمان قوم کا پیسہ کیوں استعمال کر رہے ہیں،ان کے پاس تومدارس اور دولت بہت ہے وہ اپنی سکیورٹی کا خود انتظام کیوں نہیں کرتے۔چیف جسٹس کی جانب سے تینوں سیاستدانوں کو نوٹس جاری کیے گئے جو بعدازاں اس یقین دہانی پر واپس لے لیے گئے کہ یہ سیاستدان گاڑیاں واپس کر رہے ہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے پاس کتنی سرکاری گاڑیاں ہیں؟۔ جس پر ایڈووکیٹ فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ بلاول بھٹوزرداری اور آصف زرداری کے پاس اپنی ذاتی گاڑیاں ہیں۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے چئیرمین ایف بی آرطارق محمود عدالت میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ مسٹر طارق آپ سے اس رویئے کی توقع نہیں تھی،ہمیں ابھی تک ایف بی آر سے گاڑیوں کی مکمل معلومات نہیں ملی، ایف بی آر کے آفیسر گاڑیاں لے کر گھومتے ہیں سرکاری طور پر ضبط گاڑیاں افسروں نے آپس میں بندر بانٹ کر لی۔چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ انہوں نے تمام معلومات عدالت کو فراہم کردی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ ابھی مکمل معلومات نہیں آئیں۔اس دوران ایڈیشنل ٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ان لینڈ ریونیو کے پاس 57 لگژری گاڑیاں ہیں، جبکہ ٹیمپرڈ گاڑیوں کو ڈمپ کردیا گیا ہے، چیف جسٹس نے سوال کیاکہ ڈمپ کرنے سے قبل یہ گاڑیاں آفیسرز کیوں استعمال کر رہے تھے، لگژری گاڑیاں افسروں کو دی جاتیں ایسی گاڑیوں پر منٹیننس کاسٹ کتنی آتی ہے، ایف بی آر کے تمام افسروں سے لگژری گاڑیاں واپس لیں، چیئر مین ایف بی آر نے بتایا کہ 57 گاڑیاں واپس کھڑی کردی گئی ہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ تین ماہ میں گاڑیوں کی مرمت پروگرام کتنے اخراجات آئے ہیں، یہ اخراجات خزانے سے دیئے جاتے ہیں،ایف بی آر کے افسروں کو لگژری گاڑیاں استعمال کے لیے کیوں دی گئی یہ افسران 13سو سی سی سے زائد کی گاڑی استعمال نہیں کر سکتے، چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ نیب حکام کدھر ہیں، نیب گاڑیوں کی واپسی کے معاملات کی تحقیقات کرے۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہاکہ تسلیم کرتا ہوں افسران گاڑیوں کا غلط استعمال کرتے ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو پھر آپ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں،اب ملک میں صرف قانون کی حکمرانی ہوگی۔لوگوں سے ایف بی آر ٹیکس اکٹھا کرتا ہے،چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ افسران ای سی سی کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں، چیف جسٹس نے کہاکہ کیاایف بی آر کے محکمہ میں کوئی احتساب نہیں اس پر چیئرمین نے جواب دیا کہ ایف بی آر نے لگژری گاڑیاں نہیں خریدیں چیف جسٹس نے سوال کیاکہ پاکستان میں لوکل گاڑیوں کی انڈسٹری کیوں بیٹھ گئی؟اسمگلنگ کی گاڑیوں کیوجہ سے انڈسٹری بیٹھ گئی، ہر افسر یہی کہتا ہے سارے کام اس سے پہلے ہوئے۔یہ بتا دیں اسمگلنگ کا کام کب بند ہو گااسلام آباد کے بلیو ایریا سمیت ملک بھر میں گاڑیوں کی اسمگلنگ کا مال فروخت ہوتا ہے۔خدا کا واسطہ ہے اس قوم کو بددیانتی سے بچا دیں اس ملک کی صنعت تباہ ہو جائے گی۔ملک کو کدھر لے کر جا رہے ہیں۔آئندہ نسل کو کیا دے رہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ کھلے عام پنڈی میں باڑہ مارکیٹ بنی ہوئی ہے۔ایف بی آر نے کیا ایکشن لیاہے میں کہیں جا کر چھاپہ ماروں تو اعتراض آ جائے گا۔سیاستدانوں، سرکاری افسران نے اسمگلنگ کی مارکیٹ بنا رکھی ہے،سب کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا ، افسران نے قانون سے فرار کے راستے بنا رکھے ہیں، چیف جسٹس ثاقب نثارنے استفسار کیاکہ مشکوک گاڑیوں کے استعمال سے متعلق پالیسی کس نے بنائی، چیئر مین نیب نے جواب دیاا کہ اقتصادی رابطہ کونسل نے 2006 میں یہ پالیسی بنائی،اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ہم ای سی سی کے ارکان کو بلا لیں، چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ عدالت حکم کرے تو فیصلے پر نظرثانی کی سمری بنا لیتے ہیں، چیف جسٹس نے چیئرمین ایف بی آر سے کہاکہ مشکوک گاڑیاں ڈمپ کرنے سے متعلق بیان حلفی دیں، دریں اثنا چیف سیکرٹری پنجاب نے رپورٹ پیش کرے ہوئے بتایاکہ قائد اعظم تھرمل سے ایک لگژری گاڑی ریکور کر لی ہے، تین پراڈو اور آٹھ ٹیوٹا گاڑیاں بھی ریکور کی ہیں، چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ ڈبل کیبن گاڑیاں بھی لگژری گاڑیوں کی کٹیگری میں آتی ہیں، چیف جسٹس نے کہاکہ لگژری گاڑیوں پر اربوں روپے کا خرچہ ہو رہاہے 18لاکھ ملک کے ٹوٹل ٹیکس ادا کرنے والے ہیں،ٹیکس ادا کرنے والوں کے پیسوں پر لگژری گاڑیاں چلتی ہیں۔چیف سیکرٹری پنجاب نے کہاکہ تیس میں چار ڈبل کیبن گاڑیاں ریکور کر لی ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ ڈبل کیبن گاڑی کی اجازت دے دیتے ہیں، لیکن ڈبل کیبن کے علاوہ بھی لگژری گاڑیاں موجود ہیں، چیف سیکرٹری نے بتایا کہ پنجاب کی کمپنیوں سے بھی لگژری گاڑیاں ریکور کر لی ہیں، ریکور گاڑیاں لاہور میں دو مقامات پر پارک کردی ہیں۔اس دوران چیف سیکرٹری نے بتایا کہ وزرا سے پانچ بلٹ پروف گاڑیاں ریکور کی ہیں، تاہم چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس، ایڈیشنل آئی جی، سی سی پی او لاہور کے پاس بھی بلٹ پروف گاڑیاں ہیں، چیف جسٹس نے استفسارکیاکہ آپ کے پاس بھی بلٹ پروف گاڑی ہے؟ آپ ہمارے دوست ہیں ایک گاڑی رکھ لیں، چیف سیکرٹری نے کہاکہ وزیر اعلی نے بھی ایک لگژری بلٹ پروف گاڑی واپس کردی، سابق وزیر اعلی قانون کے تحت کتنی گاڑی لے سکتا ہے۔سکیورٹی خدشات کی بنا پر گاڑیاں دی گئیں، چیف جسٹس نے کہاکہ وزیر اعلی کے گھر کے باہر جالیاں اور پول لگے ہوئے ہیں،ماڈل ٹاؤن کے گھر کے سامنے پارک کو ختم کردیا گیا ہے، پارک میں بچے کھیلا کرتے تھے،چیف سیکرٹری نے کہاکہ ماڈل ٹاؤن کے گھر کے سامنے پارک میں گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں، چیف جسٹس نے کہاکہ گاڑیاں اپنے گھر میں پارک کرلیں۔

چیف جسٹس

اسلام آباد (صباح نیوز)چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اسلام آباد کے علاقہ چک شہزادمیں فارم ہاؤسز کے غلط استعمال کے خلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت کی توچیف جسٹس نے کہاکہ چک شہزاد میں فارم ہاؤسز کی جگہ بڑے بڑے بنگلے بن گئے،کیوں نہ یہ بڑے بڑے بنگلے یا محل گرا دیں بڑے لوگوں نے ملی بھگت سے فارم ہاؤسز الاٹ کرائے ان فارم ہاوسز میں سبزیاں اگائی جانی تھیں، سبزیوں کے بجائے یہاں پر محل بن گئے،اس دوران ایک صحافی خوشنود علی خان نے کہاکہ جناب چیف جسٹس ایسا نہیں ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ اگر ایسا نہیں ہے تو کوئی خلاف حکم نہیں جاری کریں گے لیکن آپ کون ہیں،؟خوشنود علی خان نے کہاکہ میں صحافی ہوں میرا نام خوشنود علی خان ہے،چیف جسٹس نے کہاکہ آپ صحافی ہیں تو کیا آپ کو ترجیح دیں؟ آپ اپنی نشست پر تشریف رکھیں،چیف جسٹس نے خوشنود علی خان کو روسٹرم سے ہٹنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ خوشنود علی خان آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ عدالت کا ڈیکورم کیا ہوتاہے آپ کومیڈیا کا حوالہ دیکر ریلیف نہیں ملے گا، اس دوران ایک فارم ہاؤس کے مالک کا کہنا تھا کہ ساری زندگی کی جمع پونجی سے گھر بنایا، چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کو فارم ہاؤس میں ساڑھے بارہ ہزار سکوئر فٹ پر تعمیرات کی اجازت کیسے مل گئی؟فارم ہاؤس کے لیے زمین دینے کا مقصد کیا تھا، یہ فارم ہاؤسز تو کچن گارڈن کے مقصد کیلئے دئیے گئے تھے، محلات بنا کر اصل مقصد فوت کر دیا گیا، چیف جسٹس نے کہاکہ قانون کے تحت 9500سکوائر فٹ پر تعمیر ہو سکتی ہے، 9500فٹ سے ایک انچ اوپر تعمیر نہیں ہو گی،حد سے زیادہ تعمیر کے لیے عدالت سے اجازت لینا ہوگی جن فارم ہاسز کی تعمیر حد سے زیادہ ہوگی گرا دیں گے،جن لوگوں نے بیسمنٹ بنا رکھی ان ہر جرمانہ عائد کیا جائے ،عدالت چاہیے تو ساری تعمیرات گرانے کا حکم دے سکتی ہے، اس پر فارم ہاؤس کے مالک نے کہاکہ بیسمنٹ کی اجازت سی ڈی اے نے دے رکھی ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ بیسمنٹ بنانے پر ایک لاکھ روپے فی مربع فٹ جرمانہ ہونا چاہیے، وکیل نے درخواست کی کہ عدالت 500روہے سکوئیر فٹ جرمانہ کردے تاہم چیف جسٹس نے کہاکہ یہ توجرمانہ نہ دینے والی بات ہے، کم از کم پچیس ہزار سکوئیر فٹ جرمانہ ہونا چاہیے، اس پر شہری کاکہنا تھا کہ میں سابق فوجی ہوں ہمارے پاس کوئی جمع پونجی نہیں،چیف جسٹس نے کہاکہ میرے لیے آپ ایک شہری ہیں، حد سے زیادہ تعمیرات گرا دی جائیں گی، بیسمنٹ پر بیس ہزار روپے فی مربع فٹ جرمانہ ہوگا۔عدالت نے قراردیا کہ جن فارم ہاؤسز پر 9500 مربع فٹ سے زیادہ تعمیرات ہیں وہ چھ ماہ میں گرا دیں پورے چک شہزاد فارم ہاؤسزمیں 9500سکوائر فٹ سے زیادہ تعمیرات نہ ہو اوربیسمنٹ بنانے پر سی ڈی اے چھ ماہ کے اندر فارم ہاؤسز کو جرمانہ عائد کرے، عدالت نے ہدایت کی کہ حد سے زیادہ تعمیرات کو مالکان چھ ماہ میں خود مسمار کریں، چھ ماہ کے بعد سی ڈی اے مالکان کے خرچے پر تعمیرات کرائے گا،چیف جسٹس نے خبردار کیاکہ عدالتی حکم کی عدم تعمیل پر سی ڈی اے اورذمہ دار مالکان کیخلاف کارروائی ہوگی،ان کا کہنا تھا کہ کرپشن فری کام کرنے کی ڈگر پر چل رہے ہیں، اس وقت ملک میں قانون کی حکمرانی کا کام چل رہا ہے۔

فارم ہاؤسز

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...