5سال کا حساب ، 200نئے کالج 19یونیورسٹیاں ، 17اضلاع میں ہیلتھ کارڈ کا اجرا ، توانائی بحران کا خاتمہ ، دہشت گردی میں کمی ، ملتان اور پنڈی میں میٹروبس ، ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن صحت کی سہولیات دیں ، ترقیاتی منصوبوں میں اربوں روپے کی بچت کی ، شہباز شریف

5سال کا حساب ، 200نئے کالج 19یونیورسٹیاں ، 17اضلاع میں ہیلتھ کارڈ کا اجرا ، ...

لاہور (جنرل رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ،ا ین این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے عمران نیازی کے دھرنوں ، انتشار،الزامات ،منفی سیاست اوررکاوٹوں کے باوجود پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے پر کامیاب رہی ہے،محمد نوازشریف کی قیادت میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت ملک کو درپیش توانائی بحران کے خاتمے ، دہشت گردی میں نمایاں کمی لانے اورپاکستان کو معاشی استحکام دینے میں بڑی حد تک کامیاب ہوئی ہے ،پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران عوام کی جو بے لوث خدمت کی ہے وہ سب کے سامنے ہے ،مسلم لیگ(ن) کو جب اقتدار ملا تو ملک کو توانائی کی قلت ،دہشت گردی و انتہاء پسندی اورکمزور معیشت جیسے مسائل کا سامنا تھا، نوازشریف کی قیادت میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرکے ہزاروں میگاواٹ بجلی کے منصوبے لگائے گئے ،دہشت گردی و انتہاء پسندی کے خاتمے کیلئے 2014ء کے اختتام پر سیاسی فیصلہ ہوا کہ کراچی میں قیام امن کے لئے آپریشن کیا جائے گا اوراس کی ذمہ داری رینجرز کودی جائے گی اوراس میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہوگی ،رینجرز نے اس ضمن میں اپنی ذمہ داری بہترین طریقے سے نبھائی اور روشنیوں کے شہر کراچی میں امن آیا ،آپریشن ضرب عضب اورردالفساد کے تحت پاک فوج کے جوانوں اورافسروں کی قربانیوں کے باعث امن قائم ہوا ،شمالی وزیرستان کے دورے کے دوران اس علاقے میں امن کی صورتحال کو دیکھ کرطبیعت خوش ہوئی۔11 کورکے ہزاروں افسروں اورجوانوں نے وطن کے امن کیلئے لازوال قربانیاں دی ہیں،انہوں نے دہشت گردی کا بہادری سے مقابلہ کیااوران کی قربانیوں کے نتیجے میں ملک میں امن آیا،صوبوں نے بھی قیام امن کے حوالے سے اپنی استعداد کار بڑھائی ،پنجاب میں محکمہ انسداد دہشت گردی بنایا گیا ،اس محکمے کے افسروں اورجوانوں نے بھی دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ،دہشت گردی میں کمی کے ساتھ پاکستان میں معاشی استحکام بھی ہماری حکومت کی شاندار کامیابی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پریس کانفرنس میں سینیٹر مشاہد حسین،سابق وفاقی وزیر مریم اورنگزیب،سابق صوبائی وزراء رانا ثناء،خواجہ سلمان رفیق، رانا مشہود احمد ،خواجہ عمران نذیر اورسابق ایم پی اے ملک محمد احمد خان بھی موجود تھے ۔وزیراعلیٰ نے پنجاب حکومت کی کا رکردگی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پنجاب میں عوام کی بے لوث خدمت کی ہے جبکہ پی ٹی آئی کی قیادت ہمیشہ شاکی رہی اورہم پر الزامات کے تیر برساتی رہی۔پی ٹی آئی یہی کہتی رہی کہ پنجاب حکومت صرف سڑکیں،پل بنارہی ہے انہیں تعلیم اورصحت کی سہولیات سے کوئی غرض نہیں۔ہم نے ان کے بھونڈے الزامات کاجواب دینے کی بجائے کام کیا،قوم ہمارے کام کا موازنہ بخوبی کرسکتی ہے ،جس سے دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ڈی پی کی حالیہ رپورٹ سے بھی واضح ہوا ہے کہ پنجاب تعلیم ،صحت اورہر لحاظ سے کے پی کے اوردیگر صوبوں سے آگے ہے،یہ رپورٹ مئی 2018ء میں شائع ہوئی ہے لیکن پی ٹی آئی نے اس رپورٹ کے بارے میں بھی غلط بیانی کی ہے ۔انہوں نے کہاکہ بجلی پیدا کرنا اگرچہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے تاہم صوبوں پر بھی کچھ ذمہ داری عائد ہوتی ہے جو ہم نے نبھائی ہے۔2012ء میں عمران خان نے کہا تھا کہ 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو بجلی پیدا کرنے کا اختیار ملا ہے تو صوبے بجلی کے منصوبے کیوں نہیں لگاتے؟اس وقت وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اورہمارے لئے بجلی پیدا کرنے کے حوالے سے رکاوٹیں تھیں لیکن جب ہمیں موقع ملاتو ہم نے بجلی کے منصوبے لگائے۔دوسری جانب خان صاحب نے کہا تھا کہ میں بجلی کے حوالے سے ملک کو خود کفیل کردوں گالیکن انہوں نے کے پی کے میں صرف منفی 6میگاواٹ بجلی پیدا کی۔پنجاب حکومت نے اپنے وسائل سے بھکی میں1180میگاواٹ کا بجلی کا منصوبہ لگایا جبکہ حویلی بہادر شاہ میں بھی 1250میگاواٹ کے بجلی کے ایک اور منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے اوررواں سال دسمبر میں اس منصوبے سے 800میگاواٹ بجلی حاصل ہونا شروع ہوجائے گی۔پنجاب حکومت نے ان دو منصوبوں میں ڈیڑھ سو ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہے جبکہ وفاقی حکومت نے بھی گیس کی بنیاد پر حویلی بہادر شاہ اوربلوکی میں بجلی کے کارخانوں میں ڈیڑھ سو ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہے ۔ اس طرح تین سو ارب روپے کی سرمایہ کاری سے پانچ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی گئی ہے۔سی پیک کے تحت ساہیوال میں 1320میگاواٹ کا کول پاور پلانٹ مقررہ مدت سے 6ماہ پہلے مکمل کیاگیا۔اس منصوبے سے مقررہ مدت سے بجلی کی پیداوار کے باعث زراعت اورصنعت کو فروغ ملا اوراربوں روپے کی آمدن ہوئی۔قائداعظم سولرپارک بہاولپور میں 400میگاواٹ شمسی توانائی کے کارخانے لگا ئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری پنجاب حکومت نے کی ہے جبکہ اس کی بجلی پاکستان کو مل رہی ہے ۔ دوسری جانب 2010ء میں سی سی آئی میں فیصلہ ہوا کہ کراچی کوواپڈا کی جانب سے ملنے والی 700میگاواٹ بجلی میں سے پنجاب کو 300میگاواٹ بجلی فراہم کی جائے کیونکہ پنجاب کو اس وقت بجلی کی شدیدقلت کا سامنا تھا لیکن آج تک ہمیں اس فیصلے کے مطابق ایک میگاواٹ بجلی بھی نہیں ملی۔ہم نے اپنے وسائل سے 5000میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کی ہے اوریہ بجلی پورے پاکستان کو جارہی ہے۔ اگر یہ بجلی پنجاب میں استعمال ہوتی تو شاید یہاں آدھے گھنٹے کی بھی لوڈشیڈنگ نہ ہوتی،لیکن ہماری سوچ قومی ہے اورہمیں سب سے پہلے پاکستان کا مفاد عزیز ہے ۔انہوں نے کہاکہ پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ پنجاب حکومت کا تاریخی اقدام ہے اوراس تعلیمی فنڈ سے 17ارب روپے کے وظائف ساڑھے تین لاکھ بے وسیلہ بچے اوربچیوں کو تعلیم کیلئے فراہم کیے گئے ہیں اوراس تعلیمی فنڈ سے ہزاروں نوجوان تعلیم حاصل کرکے ڈاکٹرزاورانجینئرزبن کر ملک و قوم کی خدمت کررہے ہیں۔صوبے کے دوردراز اورپسماندہ علاقوں میں 16دانش سکولز بنائے گئے ہیں جہاں غریب ترین گھرانوں کے 10ہزار بچے اوربچیاں تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔4لاکھ لیپ ٹاپ بچے اوربچیوں کو میرٹ کی بنیاد پر مفت دےئے گئے ہیں ۔پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت 20لاکھ غریب بچے اوربچیوں کو سکولوں میں داخل کرایاگیاہے۔ایسے سکول جن کی کا رکردگی ناقص تھی ان میں سے ساڑھے چار ہزار سکولوں کو این جی او کے حوالے کیا اوراب یہاں طلباء و طالبات کی تعداد دگنی ہوچکی ہے ۔پنجاب میں 200نئے کالج اور19یونیورسٹیاں بنائی گئی ہیں یہ کوئی معمولی بات نہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہیلتھ انشورنس کارڈ محمد نوازشریف کی حکومت کا اقدام تھا اوراس کے ذریعے عام آدمی کو مفت علاج کی سہولت دی گئی۔پنجاب کے 17اضلاع میں ہیلتھ انشورنس کارڈ متعارف کرایاگیا ہے اورلاکھوں لوگ اس سے فیض یاب ہوئے ۔ پنجاب حکومت وفاقی حکومت کے اس پروگرام میں پوری طرح شریک رہی ہے ۔پنجاب کے ضلعی اورتحصیل ہسپتالوں کو اپ گریڈ کیاگیا ہے ،سٹیٹ آف دی آرٹ پتھالوجی لیبز بنائی گئی ہیں،ضلعی ہسپتالوں میں سی ٹی سکین مشینیں نصب کی گئی ہیں،ہسپتالوں میں اعلی معیار کی ادویات مفت مل رہی ہیں۔مظفرگڑھ میں رجب طیب اردوان ہسپتال بنایاگیاہے جس کا موازنہ یورپ کے کسی بھی ہسپتال سے کیا جاسکتا ہے ۔دوردراز علاقوں میں موبائل ہیلتھ یونٹس کے ذریعے عوام کو طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں ،مختلف شہروں میں چار برن سینٹرز بنائے گئے ہیں جبکہ بہاولپور میں دل کے امراض کا شاندار ہسپتال قائم کیاگیاہے ۔دیہی علاقوں میں ایک ہزار بنیادی مراکز صحت میں 24گھنٹے زچہ بچہ سروس کا اجراء کیاگیاہے اوردیہاتوں میں 400ایمبولینسز فراہم کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جگر اورگردے کے امراض میں مبتلا مریضوں کو بیرون ملک علاج پر ڈیڑھ ارب روپے خرچ کیے گئے۔بھارت بھی گردے کی پیوندکاری کے لئے مریضوں کو بھجوایاگیا۔ہندوستان میں مریضوں کو بھجوانے پر شرم محسوس ہوتی ہے کہ وہ اس علاج سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ ہمارے خلاف استعمال کرتا ہے ،اسی سے بچنے کیلئے ہم نے لاہور میں پاکستان کڈنی اینڈ لیورٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ بنایا ہے ،یہاں کڈنی کی ٹرانسپلانٹ کے دو کامیاب آپریشن ہوچکے ہیں جبکہ جگر کی ٹرانسپلانٹ بھی جلد شروع ہوگی جس دن یہاں جگر کی ٹرانسپلانٹ کاعمل ہواتو وہ ہندوستان کے منہ پر ایک زناٹے دار طمانچہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں تعلیم ،صحت ،انفارمیشن ٹیکنالوجی اورمعیشت کے میدان میں بھارت کا مقابلہ کرنا ہے اوراسے شکست دینا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم نے نئے میڈیکل کالج اوریونیورسٹیاں بنائی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ نوجوانوں کو ہنر مند بنائے بغیر انہیں عزت اوروقار سے اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں کیا جاسکتا۔اسی مقصد کے پیش نظر ہم نے چین کے تعاون سے پنجاب تیانجن ٹیکنیکل یونیورسٹی بنائی ہے اوریہ پاکستان کی پہلی ٹیکنیکل یونیورسٹی ہے ۔ آنے والے وقتوں میں انشاء اللہ ایسی کئی یونیورسٹیاں یہاں بنیں گی ۔انہوں نے کہاکہ رحیم یار خان میں آئی ٹی یونیورسٹی بنائی ہے جہاں جنوبی پنجاب اورسندھ کے بچے اوربچیاں تعلیم حاصل کررہے ہیں ،یہ مسلم لیگ(ن) کا ایک اہم سنگ میل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کا معیشت کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ اشرافیہ پجارو،مرسیڈیز اوردیگر آرام دہ اورلمبی گاڑیوں میں سفر کریں لیکن ملک کے کروڑوں عوام دھواں چھوڑتی گاڑیوں میں سفر کرنے پر مجبور ہوں تو ایسی قوم ترقی اورپیداواری اہداف حاصل نہیں کرسکتی۔ہم نے پنجاب میں پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کو بدل دیاہے ۔راولپنڈی ،اسلام آباد،لاہور اورملتان میں میٹروبس سروس سے روزانہ لاکھوں افراد سفر کرتے ہیں ۔اورنج لائن میٹروٹرین کے عوامی فلاحی منصوبے میں پی ٹی آئی کی وجہ سے 22ماہ کی تاخیر ہوئی جو عوام پر بڑا ظلم ہے ۔ہم مختلف شہروں میں عوام کی سہولت کے لئے سپیڈوبسیں بھی لے کر آئے ہیں۔جب تک عوام کو قابل اعتماد آرام دہ ،تیزرفتار اورمحفوظ ٹرانسپورٹ نہ ملے تو قوم آگے نہیں بڑھ سکتی۔پی ٹی آئی نے ساڑھے چار سال تک جنگلہ بس جنگلا بس کی رٹ لگائے رکھی اورجب اسے پشاور میں یہ میٹروبس لگانے کا خیال آیا تو اس منصوبے کے نام پر پورے شہر کو اکھاڑ کر رکھ دیا گیا۔جن کی فیصلہ سازی اورمنصوبہ بندی کی یہ حالت ہووہ پاکستان کی معیشت کو کس طرح مضبوط کرسکتے ہیں اورکیسے برآمدات کو بڑھا سکتے ہیں ۔وہ ساڑھے چار سال تک تعلیم ،صحت کے نعرے لگاتے رہے اورمیٹرو بس کی مخالفت میں لگے رہے،لیکن جب جنگلہ بس پشاور میں شروع کی تو یہ ان کے گلے کا پھندا بن گیا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے سٹیٹ آف دی آرٹ خدمت سنٹرز بنائے ہیں جہاں عوام کو ایک ہی چھت تلے 17خدمات فراہم کی جارہی ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ خود کو آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ کہنے والوں نے اپنے صوبوں میں تعلیم کا بیڑہ غرق کیا اورپشاورہائی کورٹ نے پبلک سیکٹر کے سکولوں کے میٹرک کے امتحانات کے خراب نتیجے کا نوٹس لیا۔ہم اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے 90ہزار بچوں کو تعلیم کیلئے سکولوں میں لائے ہیں جبکہ کے پی کے ،سندھ اوربلوچستان میں بچے اینٹوں کے بھٹوں پر کام کررہے ہیں ۔اسی طرح 20لاکھ نوجوانوں کو 40ارب روپے کے بلاسود قرضے دئیے گئے ہیں جن سے 1کروڑ20لاکھ افراد مستفید ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کے پی کے ،آزاد کشمیراورگلگت بلتستان میں ڈیمز بنانے اورپن بجلی پیدا کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں لیکن وہاں کچھ نہ کیاگیا۔نیازی صاحب نے 11نکات دئیے ہیں لیکن وہ اپنی کارکردگی بھی قوم کو بتائیں۔2007ء میں مشرف نے دیامیر بھاشا ڈیم کے نام پر ڈرامہ کیااس منصوبے کیلئے ایک انچ زمین نہیں خریدی بلکہ اس کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے اس منصوبے کیلئے 100ارب روپے کی لاگت سے زمین خریدی ہے ۔اگرہمیں دوبارہ موقع ملا تو اس منصوبے کو مکمل کریں گے۔ڈیمز کے حوالے سے ہندوستان کے ساتھ مقدمہ لڑیں گے تاہم ہمیں اپنے وسائل سے بھی فائدہ اٹھانا ہے اورپانی کو محفوظ کرنے کیلئے نئے ڈیمز بنانا ہے تاکہ پانی کی قلت سے ہماری زراعت تباہ نہ ہو اورنہ ہی مویشی ہلاک ہوں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم نے ترقیاتی منصوبوں میں اربوں روپے کی بچت کی ہے میں ماہ صیام کو گواہ بنا کرکہتا ہوں کہ ترقیاتی منصوبوں میں بچت حقیقی ہے ،کم بولی دینے والوں سے اربوں روپے کم کرائے اورقوم کی لوٹی ہوئی زمین یا قدرتی وسائل کے حوالے سے بچت کی۔انہوں نے کہاکہ غریب قوم کے 682ارب روپے بچائے ہیں ،1947ء سے لیکر آج تک کسی اورنے اس کا عشرے عشیر بھی نہیں بچایا۔ترقیاتی منصوبوں میں اربوں روپے کی بچت ہی میرا سرمایہ حیات ہے اورمجھے اس پر فخر ہے اورمیں شکرادا کرتا ہوں ۔ماہ صیام کی عظمت کی قسم کھا کرکہتا ہوں کہ ایک ایک پائی کادرست استعمال کیاگیاہے ۔اسی لئے ترکی ،چین،جرمنی اورامریکہ والے کہتے ہیں کہ پنجاب میں منصوبوں کیلئے پیش کش دھیان سے کرنا کیونکہ شہبازشریف بیٹھاہوا ہے جو سو کے پچاس کردیتا ہے ۔یہ غریب قوم کی پونجی ہے جو ہم نے بچائی ہے ۔انہوں نے کہاکہ کسانوں کو سستی کھادوں کی فراہمی پر اربوں روپے کی سبسڈی دی اورچھوٹے کاشتکاروں کو بلاسود قرضے دےئے گئے۔پنجاب لینڈ ریکارڈانفارمیشن مینجمنٹ سسٹم حکومت پنجاب کا ایک تاریخی اقدام ہے اوراسی نظام کے تحت اس سال گندم خریداری مہم کے دوران باردانہ کی تقسیم کی گئی اورمجھے باردانہ کی تقسیم کے حوالے سے شکایات موصول نہیں ہوئیں۔مخالفین بتائیں کہ سندھ،بلوچستان اورکے پی کے میں ایسا نظام کہا ں ہے۔پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی پاکستان کا ٹریڈ مارک بن گیا ہے یہاں پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک سے بھی کیسز آتے ہیں ۔سیف سٹی کے پراجیکٹ بھی ہم نے لگائے ہیں۔اس منصوبے کے تحت لاہور میں 12ہزار کیمرے لگائے ہیں ،موقع ملاتو دیگرپانچ بڑے شہروں میں بھی یہ منصوبہ لگائیں گے۔انہوں نے کہاکہ پاک افغان باڈر پر باڑ لگانے کا عمل جاری ہے اورباڑ لگانے کیلئے پنجاب حکومت نے پاک فوج کو ایک ارب روپے فراہم کیے ہیں ۔ہم نے آزاد کشمیر حکومت کو اپنے وسائل سے ایک ارب روپے ،گلگت بلتستان کو 60کروڑ روپے فراہم کیے ہیں ۔پنجاب اگر بڑا بھائی ہے تو اس نے اپنا بڑا بھائی ہونے کا فرض بخوبی نبھایا ہے ۔قومی مالیاتی ایوارڈ 2010ء میں پنجاب حکومت نے اپنے حصے کے 11ارب روپے کی قربانی دی اورآج تک 88ارب روپے اپنے حصے کے دے چکا ہے ۔ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ چاروں صوبے ترقی کریں گے تو پاکستان ترقی کرے گا۔ہم نے قومی یکجہتی کے فروغ کیلئے اپنے وسائل کی قربانی دی۔پاکستان کو آگے لے جانے کا اورقائد ؒ و اقبالؒ کا پاکستان بنانے کا کوئی شارٹ کٹ نہیں۔پاکستان کی ترقی کا واحد راستہ محنت،محنت اورصرف محنت ہے۔اگر ہم ملکر ملک کی ترقی کیلئے کام کریں گے اورمحنت ،امانت اوردیانت کو شعار بنا کر آگے بڑھیں گے تو پاکستان اپنی منزل ضرور حاصل کرلے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے میڈیا کے سوالوں کے جواب میں کہاکہ کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز کی تنخواہوں کا معاملہ عدالت میں ہے میں اس کے بارے میں بات نہیں کروں گا۔انہوں نے کہاکہ یواین ڈی پی کی رپورٹ میں پنجاب کی حکومت کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے بہتر کارکردگی کا حامل صوبہ قراردیا گیاہے۔پنجاب حکومت کا موازنہ ان کے ساتھ ہے جو خالی بلند وبانگ دعوی کرتے تھے اگریہ رپورٹ 2برس پر محیط ہے تو اس عرصے کا موازنہ کر لیں کیا کے پی کے میں کوئی نیا ہسپتال بنا یا گیا کیا وہاں پر ہسپتالوں میں اصلاحات لائی گئیں یا ہسپتالوں میں سی ٹی سکین مشینیں او رایم آئی آر مشینیں مہیا کی گئیں۔انہوں نے کہاکہ پبلک سیکٹر میں کمپنیاں پہلی با رنہیں بنیں۔پرویز الہی کے دور میں بھی کمپنیاں بنیں ، اگر یہ گناہ ہے تو مجھ سے پہلے یہ ہو چکاہے ،اگر یہ نیکی ہے تو مجھ سے پہلے یہ ہو چکی ہے ۔پشاو رمیں بی آر ٹی کمپنی بنی ہے۔اسطرح کی کمپنیاں پاکستان بھر میں بنی ہیں اوران کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو ز کی تنخواہیں ایک طریقہ کار کے مطابق طے کی جا تی ہیں۔سرکاری افسران کو بھی ان کمپنیوں میں نجی شعبے کی طرح کام کرنے کی اجازت ہے۔تنخواہوں کا فیصلہ بورڈ کرتا ہے ۔پی آئی اے میں تنخواہ 30لاکھ روپے ، سوئی ناردن گیس میں 45لاکھ روپے ، ایکسپو میں 6لاکھ 98ہزار روپے، پی ایس او میں 60لاکھ روپے ، پاکستان پٹرولیم میں 40لاکھ روپے ، سوئی سدرن گیس میں 32لاکھ روپے، نیشنل پارکس مینجمنٹ کمپنی میں 21لاکھ روپے او رپاکستان نیشنل شپنگ میں 8لاکھ روپے تنخواہ ہے۔اس کے مقابلے میں یہاں پر تنخواہیں 12سے 14لاکھ کے درمیان ہیں۔لیکن ان افسروں نے کامیابی کے جو جھنڈے گاڑے ہیں اس کی ہر کوئی تعریف کرتا ہے۔پنجاب میں انہی کمپنیوں کے ذریعے 5ہزار میگا واٹ کے بجلی کے منصوبے لگائے گئے۔ہم سب ان کے شکر گزار ہیں کیونکہ انہوں نے پاکستان کے لئے بہترین کام کیاہے ۔میرا دل چاہتا ہے کہ انہیں اپنے سر کا تاج بناؤں۔جب کمپنیاں نہیں تھیں تو کیا محکموں میں سب اچھا تھا۔ا ن محکموں میں بھی اربوں روپے کی ڈکیتیاں ہوتی تھیں۔80ارب روپے کا نیلم جہلم منصوبے 500ارب روپے تک پہنچ گیا۔اس کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر سزا دینی چاہیے۔بابر اعوان جو اب پی ٹی آئی کے نائب صدر بن گئے ہیں انہوں نے نندی پور پاور پراجیکٹ میں قوم کو 20 سے 30 ارب روپے کا ٹیکہ لگایا ۔یہ منصوبہ بغیر بڈنگ شروع کیا گیا۔سپریم کورٹ نے اس کے بارے میں لکھا کہ اصل خائن بابر اعوان ہیں، اگر میں بغیر بڈنگ کوئی منصوبہ شروع کرتا تو میرے گلے میں پھندہ ڈال دیا گیا ہو تا او رنیب نے مجھے سزا دے کر پار کر دیا ہوتا۔انہوں نے کہاکہ مشرف کے دور میں کچی کینال کا منصوبہ شروع کیا گیا جس کا پی سی ون بھی نہیں بنا ۔20 ارب روپے کا یہ منصوبہ 80ارب تک پہنچا اور ہماری حکومت کے دور میں مکمل ہوا ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں اچھے کو اچھا اور برے کو برا کہنا ہوگا ۔احتسابی عمل کو شفاف بنا کر ہی یہ ملک آگے بڑھے گا۔ سزا اور جزا کا نظام شفاف ہونا چاہیئے پسند اور نا پسند کے فیصلو ں سے خرابی مزید بڑھے گیایک او رسوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اداروں میں ہم آہنگی او رمشاورت ضروری ہے۔اداروں میں محاذ آرائی نہیں بلکہ مشاورت ہونی چاہیے ، جس ملک میں چار مارشل لاء لگے ہوں او رجمہوری ادارے کمزور رہے ہوں وہاں پر ملک کو آگے لے جانے کا واحد راستہ مشاورت اور ہم آہنگی ہے۔جیو پولٹیکل کی صورتحال میں کوئی ایک ادارہ ملک کو آگے نہیں لے جا سکتا او رمیں نے اس حوالے سے اپنا کردار ادا کیا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ایک کتاب کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میں اس کا جواب نہیں دینا چاہتا۔ایک صاحب نے ٹویٹ کی کہ رقم لی گئی ہے پھر کہامیں نے ایسے ہی کہہ دیا تھا میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ۔کالا باغ ڈیم کے سوال کے جواب میں کہاکہ یہ قابل عمل منصوبہ ہے جس سے معیشت کوبے پناہ فائدہ پہنچے گا۔لیکن قومی وحدت سے او پرکوئی چیز نہیں او ر بعض اوقات قومی وحدت کے لئے بڑی قربانی دینا پڑتی ہے۔کالا باغ ڈیم کے منصوبے کو چاروں صوبوں کی منظوری کے بغیر ہاتھ لگانا پاکستان کے ساتھ زیادتی ہو گی جبکہ بھاشا دیامیر ڈیم کامنصوبہ 4ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرے گا اور آبی ذخیرہ ہوگا اور یہ منصوبہ منگلا او رتربیلا میں ڈی سیلسٹنگ کو روکے گا۔یہ منصوبہ سیلاب روکنے میں بھی مدد گار ہوگا اگر اللہ تعالی نے ہمیں موقع دیا تو سب کچھ بیچ کر بھی ہم بھاشا ڈیم بنائیں گے ، بھاشا ڈیم کے لئے ہم سب جان لڑا دیں گے ۔محمد شہبازشریف نے ایک اورسوال کے جواب میں کہاکہ میری بابر اعوان سے کوئی مخالفت نہیں،میں اپنی قوم کی بات کرتا ہوں ،زرداری صاحب کے 60ملین ڈالر سوئس بینک میں پڑے ہیں کیا کسی نے پوچھا؟کیا نیب نے ان سے پوچھا؟ جس قوم کی دولت لٹ گئی ہواوراحتساب کاعمل شفاف نہ ہووہ قوم ترقی نہیں کرے گی۔انہوں نے کہاکہ نیشنل انشورنس کمپنی لیمٹیڈ میں 22ارب روپے کی کرپشن ایمپلائزاولڈ ایج بینیفٹ میں 42ارب روپے کی کرپشن، نندی پور پاور پراجیکٹ میں 12ارب روپے کی کرپشن اوردیگر کئی کیس نیب میں موجود ہیں لیکن ان پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔انہوں نے کہاکہ میں نے اس قوم کے کئی سو ارب روپے بچائے ہیں اوریہی منشاء سپریم کورٹ ،ہائی کورٹ اورنیب کی بھی ہونی چاہیے۔کیسوں کو طوالت نہیں ملنی چاہیے۔بینوولنٹ گروپ انشورنس فنڈ میں اربوں روپے کی کرپشن،پی ٹی سی ایل کی نجکاری میں 800ملین ڈالر اورٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں10ارب روپے کے کیس بھی نیب میں موجود ہیں۔اسی طرح چنیوٹ میں خام لوہے کے قدرتی وسائل میں 450ارب روپے کی ڈکیتی کی کوشش کی گئی،2010ء میں ہائی کورٹ کے جج نے نیب کو تحقیقات کاحکم دیا لیکن نیب نے اس کیس کو خارج کردیا ہے اورکہا کہ یہ صاف ستھرے لوگ ہیں، اس طرح ہم قوم کو کیا جواب دیں گے۔ایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ آزادی صحافت کسی بھی معاشرے کیلئے ضروری ہے اورہماری ہمدردیاں صحافیوں کے ساتھ ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ صاف پانی پراجیکٹ میں 70ارب روپے کا فراڈ ہونے جارہا تھا ۔میں نے اورمیری ٹیم نے اس فراڈ کو روکاجو فراڈ کرنے والے تھے وہ اب کھلے عام پھر رہے ہیں نیب نے مجھے جب بھی بلایا ہے میں حاضر ہوا ہوں اورمیں نے کبھی انکارنہیں کیا ۔شفاف اوربے لاگ احتساب کے تقاضے پورے نہ ہوئے تو ملک آگے نہیں بڑھے گا۔ایک اورسوال کے جواب میں محمد شہبازشریف نے کہاکہ ریحام خان نے دھرنوں کے دوران عمران سے شادی سے قبل پی ٹی وی کے لئے میرا ایک انٹرویو کیا تھا اوریہ میری ان سے پہلی اورآخری ملاقات تھی۔انہوں نے کہاکہ شفاف اورآزادانہ انتخابات پاکستان کی ضرورت ہے اوراسی طرح پاکستان آگے بڑھے گا۔شفاف الیکشن ہی پاکستان کو آگے لے جانے کی ضمانت بنے گا، اسی میں پاکستان کی عزت ہوگی۔افواہیں پھیلانے والے پاکستان کی خدمت نہیں کررہے۔مجھے امید ہے کہ الیکشن شفاف ہوں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ایک کیس میں مختلف فیصلے آئے ہیں،محمد نوازشریف کا فیصلہ کچھ اور ہے ،عمران خان کا مختلف ہے اورجہانگیر ترین کا مختلف ہے ۔حالانکہ محمد نوازشریف کا پاناما میں نام تک نہیں ہے ۔انصاف وہی ہوتا ہے جو سب کے لئے یکساں ہوں ۔انصاف کا بول بالا ہوگا تو ملک ترقی کرے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ سیاست دانوں ،اشرافیہ،عدلیہ،جرنیلوں ،میڈیا اورسوشل میڈیاکی ذمہ داری ہے کہ ملک کے اندر نرم انقلاب لے کر آئیں اوراس ضمن میں سب کو ایک ساتھ کام کرنا ہے اگر ہم نرم انقلاب لے آئے تو خونیں انقلاب نہیں آئے گا۔ایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے عام انتخابات کے بعد حکومت بنانے کا موقع دیا تو سازشیں ختم ہوجائیں گی۔انہوں نے کہاکہ کشکول توڑنے کیلئے اربوں ڈالر کی کرپشن کو روکنا ہوگا۔لوٹ مار کے اربوں ڈالر جب نکلوائیں گے تو کشکول تب ٹوٹے گا،ملک میں کڑا احتساب ہوگا اورکرپشن کا راستہ بند ہوگا تو کشکول ٹوٹ جائے گا۔انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت نے منصوبوں میں 682ارب روپے کی بچت کی ہے ،بجلی کے منصوبوں میں 160ارب روپے ،اورنج لائن میٹروٹرین کے منصوبے میں 75ارب روپے ،چنیوٹ کے خام لوہے کے منصوبے میں اربوں روپے اور زمینوں کے قبضے واپس کراکر اربوں روپے بچائے ہیں ، اسی طرح میٹروبس منصوبوں میں 4ارب 60کروڑ ،سیف سٹی پراجیکٹ میں 3ارب ر وپے ،خود روزگار سکیم میں 2ارب 60کروڑ ،اعلی ادویات کی خریداری میں 1ارب روپے ،سکولوں میں سولر پینل لگانے میں ایک ارب روپے بچائے ہیں ۔اگربچائے گئے 682ارب روپے میں ایک بھی مد میں کوئی اعداد وشمار غلط ہو تو میرا گربیان اورآپ کا ہاتھ ہوگا۔

شہباز شریف

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...