حکا م ا کی غفلت سے پنجاب کی 40کیلوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹ نہ لگ سکے ، کروڑوں کے فنڈز واپس

حکا م ا کی غفلت سے پنجاب کی 40کیلوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹ نہ لگ سکے ، کروڑوں ...

 لاہور(رپورٹ: یونس با ٹھ)مسلم لیگ (ن) میاں شہباز شریف کی طرف سے پنجاب کی 40جیلوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹ کی تنصیب کے واضح احکامات اور کروڑوں روپے کے فنڈز جاری کیے جانے کے باوجود جیل حکام کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔پلانٹ نصب نہ ہو سکنے پر فنڈز واپس کر دیئے گئے ،اور لاکھوں قیدی ،حوالاتی جیل حکام کی مجرمانہ غفلت کا خمیازہ بھگتتے ہوئے جراثیم ملا مضر صحت اور ناقص پانی پینے پر مجبور ہیں ۔جیلوں کی طویل عرصہ سے صاف نہ کی گئی ٹینکیوں میں کیڑے مکوڑوں کے ساتھ ساتھ غلاظت کے بھی ڈھیر لگے ہیں ۔جیلوں میں اسیران گندا پانی پینے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے سینکڑو ں قیدی و حوا لا تی ہیپا ٹائٹس سمیت دیگر موز ی بیماریوں کا شکار ہو گئے ہیں ۔جیلوں میں بنائی گئی پانی کی ٹینکیوں کی سالہا سال سے صفائی نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے پینے کے پانی میں کیڑے مکوڑے چلتے ہوئے صاف دکھائی دیتے ہیں ۔پنجاب حکومت نے اسیران کی ان بیماریوں کے خاتمے کے لیے واٹر فلٹریشن پلانٹ لگانے کی منظوری دی تھی اور سالانہ ڈویلپمنٹ پروگرام 2016-17میں اس مد میں فنڈز بھی جاری کر دیئے تھے ۔تاہم جیل انتظامیہ کی غفلت لا پر واہی اور بروقت واٹر فلٹریشن پلانٹ کے کام کا آغاز نہ کروانے کی وجہ سے فنڈز واپس کر دیے گئے ۔ پنجاب کی تمام جیلوں میں ہوم ڈیپارٹمنٹ کی ہدایت پر پینے والے پانی اور اس کے خراب ہونے کے متعلق رپورٹ طلب کی گئی تھی جس کی روشنی میں پنجاب کے تمام جیل سپرنٹنڈنٹ صاحبان نے ایک رپورٹ مرتب کر کے آئی جی جیل خانہ جات کو بھجوائی جس میں نشاندہی کی گئی کہ پینے کا پانی انتہائی خراب اور ناقص ہے اور اس گند ے پا نی کے با عث قیدیوں اور حوالاتیوں میں بیماریاں بڑھ رہی ہیں خاص طور پر ڈاکٹروں نے نشاندہی کی ہے کہ جیلوں میں ہیپا ٹائٹس کی بڑھتی ہوئی بیماری کے اصل اسباب پانی کا صا ف نہ ہونا ہے اس پر جب پانی کے خراب ہونے پر جیلوں سے پانی کے نمونے لیکر لیبارٹری بھجوائے گئے ،پانی کے نمونے حاصل کرنے والی ٹیم نے انکشاف کیا کہ جیلوں میں عرصہ دراز سے تعمیر کی جانے والی ٹینکیاں خراب پڑی ہیں اور ان ٹینکیوں میں جیل ذرائع کے مطابق لمبے لمبے کیڑے تیرتے ہوئے صاف دکھائی دیتے ہیں جبکہ ان کیڑوں مکوڑوں کے ساتھ ساتھ یہ ٹینکیاں ان میں غلا ظت کے بھی ڈھیر لگے ہوئے ہیں اس اطلاع کے بعدگزشتہ سال کے دیگر فنڈز کے ساتھ اس وقت وزیر اعلیٰ پنجاب نے پنجاب کی تمام جیلوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹ کی تنصیب کا حکم دیا اور اس کے لیے فنڈز بھی جاری کر دیئے گئے مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ گزشتہ سال کا پورا مالی سال گزر جانے کے باوجود جیل انتظامیہ ان فنڈز کا استعمال نہیں کر سکی اور وزیر اعلیٰ کی واضح ہدایت کے باوجود جیلوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹ نہیں لگ سکے فنڈ جاری کرنے والے محکمہ نے اس کا استعمال نہ ہونے پر فنڈز کی یہ رقم واپس لے لی ہے جیلوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹ کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے پینے کا صاف پانی میسر ہونا مشکل ہو گیا ہے اور قیدیوں ،حوالاتیوں میں بڑھتی ہوئی بیماریوں کی روک تھام بھی مشکل دکھائی دے رہی ہے جیل انتظامیہ نے اس بارے میں موقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے واٹر فلٹریشن پلانٹ لگانے کے لیے پنجا ب حکومت کو سمری بھجوائی تھی اس کے لیے کام ہو رہا ہے اور امید ہے کہ آئندہ چند ماہ میں جیلوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹ نصب کر دیئے جائیں گے۔

فنڈز واپس

مزید : صفحہ اول