وفاقی کا بینہ میں شامل دو وزراء کانام بطور نگران وزیراعطم گعدش کرتا رہا

وفاقی کا بینہ میں شامل دو وزراء کانام بطور نگران وزیراعطم گعدش کرتا رہا
وفاقی کا بینہ میں شامل دو وزراء کانام بطور نگران وزیراعطم گعدش کرتا رہا

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

 ان سطور کو بطور تجزیہ تحریر کیا جاتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ جو معلومات دی جائیں وہ ممکنہ حد تک درست ہوں اگر آپ کے پاس معلومات ہی ناقص ہوں تو ان پر درست تجزیئے کی عمارت استوار نہیں کی جا سکتی، کچھ عرصے سے اخبارات کے لئے رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں اور کالم لکھنے والے کالم نگاروں میں یہ رجحان فروغ پذیر ہے کہ وہ اپنے آپ کو بہت باخبر کہتے ہیں دعوے بھی بڑے کرتے ہیں اور ان کا یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ ’’ہمچوں ما دیگرے نیست‘‘ کوئی ہم سا نہیں، اگر کوئی ہے تو سامنے آئے یہی وجہ ہے کہ ایک سے بڑھ کر ایک رپورٹر ایسی ایسی خبریں دے کر فخر محسوس کرتا ہے جس پر سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے ایک بزرگ کالم نگار اس وقت سے قومی اسمبلی کے ’’مصدقہ نتیجے‘‘ کا اعلان کر رہے ہیں جب ابھی کسی امیدوار کا نام بھی سامنے نہیں آیا تھا، فرض یہ کر لیا گیا ہے کہ امیدوار کوئی بھی ہو، اگر ان کا پسندیدہ ہے تو جیت ہی جائیگا، کئی مہینے تک باخبر صحافی نگران وزیر اعظم کے لئے اپنے اپنے پسندیدہ نام دیتے رہے، ایک صاحب نے ایک محترم جج کا نام اتنے اعتماد کے ساتھ پیش کر دیا کہ بڑے بڑوں کو یقین آ گیا، ایک دوسرے رپورٹر نے جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی کا نام اس وثوق سے لیا کہ ان کی شیروانی بھی سلوا دی، لیکن جب نگران وزیر اعظم کا نام سامنے آیا تو یہ جناب جسٹس (ر) ناصر الملک تھے طویل فہرست میں اگرچہ ان کا نام بھی بعض رپورٹر دیتے رہے لیکن کچھ اس طرح جیسے کہہ رہے ہوں کہ وہ بھی دوڑ میں شریک تو ہیں لیکن ان کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں، جب سے نام سامنے آنا شروع ہوئے وہ بلا مبالغہ ڈھائی درجن کے لگ بھگ ہوں گے لیکن ظاہر ہے وزیر اعظم کا عہدہ تو ایک ہی تھا سو اس پر جسٹس ناصر الملک فائز ہو گئے، اب یار لوگوں کی تگ و تاز کا نیا میدان سامنے آیا اور پیش گوئیاں شروع ہوئیں کہ وزیر کون کون بنے گا چنانچہ رپورٹروں نے وزیروں کے ناموں پر فن کاریاں دکھانا شروع کر دیں اور ماضی کے تجربات کو پیش نظر رکھ کر نئے نئے نام متوقع وزراء میں ڈالنے شروع کر دیئے۔ لیکن آج جب 6رکنی وفاقی کابینہ نے حلف اٹھایا تو سارے نام غلط ثابت ہو گئے۔ اس فہرست میں دو ایسے وزراء شامل ہیں جن کا نام متوقع نگران وزیر اعظم کی فہرست میں تھا ان میں ایک تو محترم خاتون شمشاد اختر ہیں جو سٹیٹ بینک کی گورنر رہ چکی ہیں، دوسرے عبداللہ حسین ہارون ہیں جو پیپلزپارٹی کے دور میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب رہ چکے ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوستوں میں سے ہیں، آج کل دوستی کا عالم کیا ہے یہ معلوم نہیں کیونکہ زرداری کے بہت سے دوست انہیں خیر باد بھی کہہ چکے ہیں جن میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا بھی شامل ہیں جو زر داری کے اس قدر قریب اور ممنون تھے کہ جب وہ سندھ کے وزیر داخلہ تھے تو ایک پریس کانفرنس میں جب وہ بانی ایم کیو ایم کے خوب لتے لے چکے اور انہوں نے قرآن حکیم سر پر اٹھا کر کہا کہ انہوں نے جو الزامات لگائے ہیں وہ سب درست ہیں تو ساتھ ہی ساتھ سامنے بیٹھے ہوئے رپورٹروں سے کہا کہ ان پر زرداری کے بہت احسانات ہیں،اس موقع پر انہوں نے اپنی قمیض کا کالر پکڑ کر کہا کہ یہ قمیض جو انہوں نے پہنی ہوئی ہے یہ بھی زرداری صاحب کی مہربانی ہے، دراصل اس حد تک پرسنائزڈ ہو کر وہ یہ بتانا چاہتے تھے کہ وہ زرداری کے کتنا قریب ہیں لیکن یہ سیاست اتنی سنگدل ہے کہ اب وہ زرداری کو خیر باد کہہ کر پیر پگارو کے جی ڈی اے کا حصہ بن چکے ہیں جنہیں سعید غنی ’’سیاسی یتیموں کا اتحاد‘‘ کہتے ہیں، ویسے انتخاب میں پتہ چلے گا کہ یہ اسم بامسمیٰ ہے کہ نہیں بات ہو رہی تھی وفاقی کابینہ کی، عبداللہ حسین ہارون کے بارے میں ایک اور باخبر کالم نگار نے دعویٰ کیا کہ امریکہ انہیں نگران وزیر اعظم بنوانا چاہتا تھا لیکن اسے کامیابی نہ ہوئی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کو وزیر اعظم نہ بنوایاجا سکا اسے وزیر تو بنوا لیا، چلئے پوری نہیں تو آدھی کامیابی ہو ہی گئی،

تیسرے وزیر علی ظفر ہیں لاہور کے ممتاز قانون دان ہیں سپریم کورٹ بار کے صدر رہ چکے ہیں، بزرگ قانون دان جناب ایس ایم ظفر کے صاحبزادے ہیں، کسی سیاسی جماعت سے باقاعدہ تعلق تو نہیں لیکن اگر یہ کہا جائے کہ سپریم کورٹ بار بھی کسی سیاسی جماعت سے کم نہیں تو غلط نہ ہو گا کیونکہ اس کے عہدیدار اکثر و بیشتر کسی نہ کسی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ اب علی ظفر کس حد تک غیر سیاسی ہو سکتے ہیں اس کا اندازہ آپ خود لگا لیں لیکن بطور قانون دان ان کا انتخاب وزارت قانون کے لئے اچھا ہے، وفاقی کابینہ میں شامل دوسری خاتون وزیر روشن خورشید برونچا ہیں جو ملک گیر سطح پر تو کم معروف ہیں لیکن جنرل(ر) پرویز مشرف کے دور میں بلوچستا ن کی صوبائی وزیر رہیں، ان کا تعلق صوبے کے پارسی قبیلے سے ہے، شیخ محمد یوسف کیڈٹ کالج لاڑکانہ کے پرنسپل رہ چکے ہیں آرمی ایجوکیشن کو ر سے بطور میجر ریٹائر ہوئے اعظم خان کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے وہ صوبے میں چیف سیکریٹری کے کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔نگران کابینہ مختصر ہے وزیروں کے پاس کئی کئی محکمے ہیں لیکن جس انداز میں کابینہ کا انتخاب ہوا ہے وہ قابل تعریف ہے کہ زندگی کے مختلف شعبوں سے کامیاب شخصیات کو چن کر وزیر بنایا گیا ہے، مستقل کا بیناؤں میں وزیروں کا انتخاب اس انداز میں نہیں ہوتا۔

کابینہ کے انتخاب کی خاص بات یہ ہے کہ جن لوگوں کے نام بطور متوقع وزراء سامنے آتے رہے ان میں سے کوئی بھی نام کابینہ میں نہیں، آج ہی ایک کالم نگار نے اپنے کالم میں سات ’’وزراء‘‘ کی فہرست دی تھی جو یہاں اس لئے نقل کی جا رہی ہے تاکہ آپ اندازہ لگا سکیں کہ اس قسم کے معاملات میں ہمارے دوست کس حد تک ’’باخبر‘‘ ہوتے ہیں کالم نگار نے جو سات نام دئے وہ یہ ہیں (1) جلیل عباس جیلانی (ان کا نام بطور نگران وزیر اعظم بھی گردش میں رہا) -2لیفٹیننٹ جنرل(ر) نعیم خالد لودھی (3) سعدیہ خان (4) سردار تنویر الیاس (5) بیرسٹر تیمور ملک (6) سینیٹر عبدالرزاق آفریدی (7) بیلا رضا جمیل، ان محترم شخصیات میں سے کوئی ایک بھی وزیر نہیں بن سکا، شاید کابینہ میں توسیع ہو تو یہ نام زیر غور آ جائیں کیونکہ اگر باخبر کالم نگار نے یہ نام دئے تھے تو کسی بنیاد پر ہی دئے ہوں گے دنیا بہ امید قائم۔

مزید : تجزیہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...