عدالت عظمیٰ نے انتخابی التوا ناکام بنادیا، کاغذات نامزدگی کی وصولی شروع

عدالت عظمیٰ نے انتخابی التوا ناکام بنادیا، کاغذات نامزدگی کی وصولی شروع

عدالت عظمےٰ میں الیکشن کمیشن اور سپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے دائر کی گئی اپیلیں سماعت کے لئے منظور کی گئیں اور ساتھ ہی لاہور ہائی کورٹ کی فاضل جج کی طرف سے کاغذات نامزدگی کے بارے میں دیئے گئے فیصلے کو معطل کردیا ہے، اس فیصلے کے مطابق کاغذات نامزدگی فارم کی موجودہ شکل کو مسترد کرتے ہوئے ہدائت کی گئی تھی کہ پہلے فارم کی جو شقیں نکالی گئیں وہ بحال کردی جائیں کہ یہ آئینی ضرورت ہے جس سے انحراف نہیں کیا جاسکتا، اس حکم کی وجہ سے یکا یک فضا تبدیل ہوگئی، الیکشن کمیشن کو جاری شیڈول روکنا پڑا، اور ملک میں اس شک کا اظہار کیا جانے لگا کہ انتخابات مقررہ تاریخ (25 جولائی) کو منعقد نہ ہوسکیں گے، نگران وزیراعظم اور چیف جسٹس کو بھی کہنا پڑا کہ انتخابات مقررہ تاریخ پر ہوں گے، جبکہ الیکشن کمیشن کا ہنگامی اجلاس طلب کرکے فیصلہ کیا گیا کہ اس حکم کے خلاف اپیل کی جائے گی تاہم اس عرصہ میں کاغذات نامزدگی کا عمل روک دیا گیا اور اپیل دائر کی گئی، فاضل عدالت عظمےٰ نے سماعت کی اور لاہور ہائی کورٹ کے حکم کو معطل کردیا، الیکشن کمیشن نے اس کے بعد کاغذات نامزدگی کے لئے 4 جون سے 8 جون کی نئی تاریخیں دے دیں اور گزشتہ دو روز سے یہ سلسلہ جاری ہے، اس دوران سیاسی جماعتوں کو اپنا ہوم ورک بھی مکمل کرنا ہے، اور یقیناً ان سطور کی اشاعت تک بڑی جماعتیں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، ایم ایم اے اور باقی پارلیمانی جماعتیں بھی اپنے اپنے امیدواروں کا چناؤ کرچکی ہوں گی اور آج سے 8 جون تک ٹکٹ یافتہ امیدوار کاغذات داخل کرادیں گے، اور پھر گرم سیاست جو مزید گرم ہوتی چلی جارہی ہے اپنا یہ سفر جاری رکھے گی۔

اس سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کے دو مسلسل اجلاس ہوئے، صدارت قائد جماعت نواز شریف نے کی، ان کے ساتھ مرکزی صدر شہباز شریف بھی تھے، اجلاس میں امیدواروں کی تعداد اور آنے والی درخواستوں کا جائزہ لیا گیا، اور ابتدائی طور پر بعض ناموں کا فیصلہ بھی ہوا، تاہم ابھی تک جماعتی سطح پر اس کا اعلان نہیں کیا گیا، وہ بھی انہی دنوں متوقع ہے، مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف نے جلسوں سے خطاب کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

تحریک انصاف بھی امیدواروں کی زیادہ درخواستوں کی وجہ سے تاحال حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کرسکی، اگرچہ مرکزی نشستوں کے حوالے سے فیصلے بھی کرلئے گئے ہیں جن کے تحت تمام مرکزی رہنماؤں اور پارٹی میں شامل ہونے والی اہم شخصیات کو ٹکٹ دیئے جائیں گے، حال ہی میں سابق گورنر سردار ذوالفقار کھوسہ بھی تحریک انصاف میں شامل ہوگئے ہیں ان کے صاحبزادے دوست محمد کھوسہ کی شمولیت پر اعتراض اٹھا کہ وہ اداکارہ سپنا مرڈر کیس میں ملوث ہیں، فواد چودھری کے مطابق ان کو جماعت میں نہیں لیا گیا، سردار ذوالفقار کھوسہ کے سرداری خون نے جوش مارا اور جواب دیا، فواد چودھری کون ہے میں نہیں جانتا، عمران خان کو دوست محمد پر کوئی اعتراض نہیں وہ میرا بیٹا ہے، سردار ذوالفقار کھوسہ کا مزید کہنا تھا، ہمیں تحریک انصاف کی طرف سے قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی کی تین نشستیں دی گئی ہیں، بات بڑھ سکتی تھی لیکن فواد چودھری کی طرف سے خاموشی اختیار کرلی گئی، شاید قیادت نے اشارہ کیا ہوگا۔

اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے پر نگران سیٹ اپ کے مسئلہ نے الجھن اختیار کرلی۔ نگران وزیر اعظم اور سندھ کے وزیر اعلیٰ کے لئے آخری روز فیصلہ ہوگیا، لیکن پنجاب اور خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی طرف سے اپنے دیئے گئے نام واپس لینے کی بناء پر رکاوٹ پیدا ہوگئی اور معاملہ پارلیمانی کمیٹی تک چلا گیا ہے۔ لاہور میں تاحال اراکین کی نامزدگی کا نوٹیفکیشن ہونا ہے جو سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال کی طرف سے جاری ہوگا، پارلیمانی کمیٹی میں فیصلہ نہ ہوا تو پھر حتمی طور پر فیصلہ الیکشن کمشن کرے گا، امکان یہی ہے کہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں بھی طے نہ ہوگا کہ اس سلسلے میں خود سابق قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید بھی ہدف تنقید بنے اور ان کا ترجمان فواد چودھری کے ساتھ مکالمہ بھی ہوگیا۔ تاہم بات یہاں بھی نہ بڑھی کہ محمود الرشید چیئرمین عمران خان کے ساتھ رابطے میں تھے اور ناصر محمود کھوسہ کا نام انہی کی مرضی سے منظور کرکے دیا گیا تھا، جسے پھر واپس لے کر یوٹرن کی شرمندگی اٹھانا پڑی۔

چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس ثاقب نثار نے حسب وعدہ چھٹیوں کے روز بھی لاہور رجسٹری میں عدالتی کام کیا اور از خود نوٹس والے امور نمٹائے، ان میں خصوصی کیس پنجاب میں بنائی جانے والی 56کمپنیاں اور گردوں کے ٹرانسپلانٹ کے ہسپتال سے متعلق تھے اور صاف پانی کمپنی کے حوالے سے وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف کو بھی عدالت میں آنا پڑا، جہاں چیف جسٹس اور ان کے درمیان مکالمہ بھی ہوا، سماعت کے بعد شہباز شریف برہم انداز میں واپس گئے، یاد رہے کہ اسی عدالت عظمیٰ کے حکم پر وزیر اعلیٰ کے صاحبزادے سابق ایم این اے حمزہ شہباز اور چھہ دیگر افراد کے خلاف عائشہ احد کی درخواست پر مقدمہ درج ہوگیا تھا اس کے بھی اثرات ہیں، حمزہ شہباز بیرون ملک ہیں جہاں سے انہوں نے واپسی کا اعلان کیا ہے، یوں بھی وہ قومی اسمبلی کے لئے پھر سے امیدوار ہیں اور کاغذات نامزدگی بھی داخل کرانا ہیں اس لئے ان کی آمد متوقع تھی اور وہ آجائیں گے۔

سیاست میں ایک نیا عنصر(ہر چند کہ نیا نہیں) بھی شامل ہوا، منہاج القرآن اور پاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر طاہر القادری اپنے نئے وطن کینیڈا سے براستہ لندن اور استنبول اتوار کو لاہور پہنچ گئے، وہ اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق شہر اعتکاف میں شرکت کے لئے آئے، لیکن تڑکا سیاست کا لگایا گیا اور انہوں نے ایر پورٹ پر ہی کاغذات نامزدگی فارم کے حوالے سے سخت تنقیدی لہجہ اختیار کیا اور کہا سوال یہ ہے کہ کیا پھر سے چور اور ڈاکو ہی اسمبلیوں میں جائیں گے؟ اس سے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا وہ فارم کی نکالی جانے والی شقوں کی بحالی کے حق میں ہیں، ان کا یہ سلسلہ بھی جاری رہے گا اگرچہ گزشتہ شب سے وہ شہر اعتکاف میں فروکش و عظ کرنا شروع کرچکے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 2