اسلام آباد اور راولپنڈی میں انتخابی گہما گہمی، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف والوں نے کاغذات نامزدگی حاصل کئے، مسلم لیگ (ن) والے قائدین کے فیصلے کے منتظر!

اسلام آباد اور راولپنڈی میں انتخابی گہما گہمی، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف ...

قومی الیکشن 2018کیلئے 25جولائی کی تاریخ کااعلان ہونے کے بعد ملک بھرکی طرح راولپنڈی اسلام آباد میں بھی انتخابی گہما گہمی اورجوڑ توڑ کاسلسلہ شروع ہوگیا ہے ، اسلام آباد سے بھی عام انتخابات کیلئے سیاسی جماعتوں و آزادامیدواروں نے کاغذات نامزدگی وصول کرنا شروع کردیے ہیں،پیر کے روز این اے 52سے 14،این اے 53سے 18اور این اے 54سے 20امیدواروں نے کاغذات نامزدگی وصول کر لئے ، اسلام آباد کے حلقہ این 54 سے پاکستان جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزد امیدوار نوشین گل کھرل ایڈوکیٹ نے کاغذات نامزدگی وصول کئے ، پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے حاجی محمد افضل کھوکھر نے حلقہ این اے 52 سے انتخاب لڑنے کیلئے کاغذات نامزدگی وصول کئے ، پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء اسد عمر کیلئے ان کے سٹاف نے ریٹرننگ آفیسر سے کاغذات نامزدگی کے فارم وصول کئے، پی ٹی آئی گلالئی کی سربراہ عائشہ گلالئی کیلئے ان کی پرسنل سیکرٹری میمونہ خان نے حلقہ این اے 54 کیلئے کا غذات نامزدگی وصول کئے، جماعت اسلامی کی جانب سے حلقہ این اے 54کیلئے امیدوار میاں اسلم کی طرف سے کاغذات نامزدگی ان کے سٹاف نے وصول کئے پیپلز پارٹی کے راجہ عمران اشرف نے این اے 54 سے کاغذات نامزدگی وصول کر لیے ہیں اسلام آباد سے پہلے روز مسلم لیگ ن کے امیدواروں نے کاغذات وصول نہیں کیے۔مسلم لیگ ن کی طرف سے ڈاکٹرطارق فضل چوہدری کی جانب سے دوحلقوں سے الیکشن لڑنے کی تیاریاں ہیں جبکہ شہری حلقے سے انجم عقیل امیدوارکے طورپرسامنے آئے ہیں جنہوں نے گزشتہ روزسیکٹر ای الیون میں مسلم لیگ ن کاورکرزکنوشن بھی منعقد کرایا جس سے قائد مسلم لیگ ن میاں نوازشریف اورمریم نوازشریف نے خطاب کیا،اس موقع پر سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کاکہنا تھا کہ ووٹ کو عزت دینے کا مطلب گوعمران گو ہے،عوام کا جذبہ دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا ہے کہ عوام میرے خلاف فیصلہ واپس کرائیں گے ،جو قوتیں ماضی میں عوام کے ووٹ کی پرچی پھاڑ دیتی تھیں ان کا وقت اب ختم ہوگیا ہے،میں مسلم لیگ(ن) کی فتح کیلئے نہیں بلکہ پاکستان میں جمہوریت اور عوام کی فتح کیلئے نکلا ہوں، مجھے وزارت عظمیٰ سے نکال کر پاکستان کے عوام پر ظلم کیا گیا ہے جس کا عوام حساب لیں گے،پاکستان مسلم لیگ(ن) پاکستان اور عوام کی بالادستی کیلئے لڑ رہی ہے جبکہ ہمارے مخالفین کا کوئی پروگرام اور ایجنڈا نہیں ہے،عوام 25جولائی کو ووٹ کو عزت دینے کیلئے گھروں سے باہر نکلیں اورشیر پر ٹھپے لگائیں،ہماری حکومت کے جاتے ہی بے تحاشہ لوڈ شیڈنگ شروع کر دی گئی ہے جو ہمارے خلاف پروپیگنڈا ہے۔ آج عوام کا جذبہ دیکہ کر میرا 5کلو خون بڑھ گیا ہے ۔عوام کا جوش دیکھ کر مجھے لگ رہا ہے کہ آج سے 2ماہ بعد پاکستان میں عوام کی حکومت ہوگی۔ مجھے ان نوجوانوں کی فکر ہے جو آج ہاتھ میں ڈگریاں لیے پھر رہے ہیں لیکن ان کو روزگار نہیں مل رہا۔ ہماری حکومت ملک کو عروج کی طرف لیکر جا رہی تھی اور ملک میں روشنیوں کا سفر جاری تھا کہ اچانک مجھے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر وزارت عظمیٰ سے نکال دیا گیا اور تاحیات نا اہل کر دیا گیا۔ کیا میں نے کوئی کرپشن کی تھی، دھاندلی کی تھی یا منصوبوں پر کمیشن لیا تھا جس کی بنا پر ایسا فیصلہ کیا گیا؟ اگر میں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا پھر مجھے کیوں نکالا گیا؟ اس فیصلے سے پاکستان کے عوام پر ظلم کیا گیا ہے۔

پیرکے روز ہی احتساب عدالت میں العزیزیہ ریفرنس کی سماعت میں پیشی کے موقع نواز شریف کاکہناتھاکہ میں صرف یہ کہتا ہوں جب تک ہماری حکومت تھی تو سب ٹھیک تھا، آخری دنوں میں شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی نے بہت سے منصوبوں کے افتتاح کیے وفاق اور پنجاب میں 39 میگا واٹ کے منصوبے شروع کئے، نیلم، جہلم اور تربیلا 4 کو مکمل کیا، گوادر کوئٹہ سڑک بنائی، برہان سے ڈی آئی خان تک سڑک زیر تعمیر ہے، یونیورسٹیاں اور اسپتال الگ ہیں، کیا یہ کام کسی ماضی کی حکومت نے کیے اور کیا کسی نے موٹر ویز بنائیں، کون تھا جو ملک کو اندھیروں میں ڈبو گیا اور کون تھا جو روشنیاں واپس لایا۔ میری خواہش تھی کہ وزیراعظم لاہور، ملتان اور سکھر موٹر وے کا افتتاح کرتے مگر بنانے والوں نے تاخیر کردی ، لواری ٹنل دیکھ لیں جس کی وجہ سے چار گھنٹے سفر کم ہوا ہے، لواری ٹنل پہلے سال میں 6 ماہ بند رہتی تھی اور اب سارا سال کھلی رہتی ہے۔ ہم تو نیب کورٹ میں پھنسے ہیں ورنہ آپ کو لے کر جاتا لواری ٹنل کی سیر کراتا چترال والے پہلے آہی نہیں سکتے تھے لیکن اب وہاں بجلی بھی آگئی اور پاور پلانٹ بھی لگ گیا۔

الیکشن کمیشن نے آئندہ الیکشن کے سلسلے میں ایک اوراہم مرحلہ طے کرتے ہوئے 103سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشانات الاٹ کر دیئے ، اس سلسلے میں نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا ، مسلم لیگ ن کو شیر،پی ٹی آئی کو بلا،پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کو تیر،پاکستان پیپلزپارٹی کو تلوار، ق لیگ کو ٹریکٹرکا نشان الاٹ کیا گیا ہے ،پاک سرزمین پارٹی کو ڈولفن،ایم کیوایم پاکستان کو پتنگ کانشان الاٹ کیاگیاہے،متحدہ مجلس عمل کو کتاب جماعت اسلامی کو ترازو،بلوچستان عوامی پارٹی کو گائے اورتحریک لبیک کو کرین کا نشان الاٹ کیاگیاہے،جے یوآئی ف کو قلم ،عوامی نیشنل پارٹی کو لالٹین کانشان دیاگیاہے، پاکستان عوامی تحریک کو موٹرسائیکل کا انتخابی نشان الاٹ کردیا گیا ، مسلم لیگ ضیاء کو ہیلی کاپٹر ، جمہوری وطن پارٹی کو پہیہ ، مسلم لیگ فنکشنل کو گلاب ، بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی )کو اونٹ ،سنی اتحاد کونسل کو گھوڑا،پاکستان مسلم لیگ (جونیجو) کو بس ،پاکستان عوامی راج پارٹی کو جھاڑو،پختونخوا ملی عوامی پارٹی کو درخت، قومی وطن پارٹی کو چراغ، سنی تحریک کو گھڑی، عوامی ورکرز پارٹی کو بلب ، تحریک جوانان پاکستان کو لیب ٹاپ، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کو سٹار، آل پاکستان مسلم لیگ کو عقاب ، پاکستان سنی تحریک کو ٹیبل لیمپ ، عوامی مسلم لیگ کو قلم دوات اور پاکستان تحریک انصاف گلالئی کو ریکٹ کا نشان الاٹ کیا گیا۔جبکہ عام انتخابات 2018 کے شیڈول پر ملک بھر میں کام شروع ہوگیا،ملک بھر کے 849 ریٹرننگ افسران سے امیدوار کاغذات نامزدگی وصول اور جمع کرا سکتے ہیں،کاغذات نامزدگی کی فیس 100 روپے ہے ،قومی اسمبلی کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی سیکیورٹی فیس 30 ہزار روپے جبکہ صوبائی اسمبلی کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی سیکیورٹی فیس 20 ہزار روپے رکھی گئی ہے ،جبکہ1 چوتھائی سے کم ووٹ حاصل کرنے کی صورت میں فیس ضبط کر لی جائے گی ۔ الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2018میں حصہ لینے والے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی سکروٹنی کیلئے آن لائن سکرونٹی سیل قائم کر دیا، یہ سیل چار ٹیموں پر مشتمل ہے جنہیں فیکس ، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی سہولت باہم فراہم کردیے گئے ہیں ،سیل 24گھنٹے کام کرے گا، ایک سپیشل سافٹ ویئر تیار کیا گیا ہے جو آن لائن سکرونٹی سیل کے تمام کمپیوٹرز میں فیڈ کر دیا گیا ہے ،جس کے ذریعے نادرا، ایف بی آر، نیب ، سٹیٹ بینک آف پاکستان کو الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ سے ایک محفوظ نظام کے تحت منسلک کر دیا گیا ہے۔

مزید : ایڈیشن 2