سیاسی جماعتیں خاموش، سوشل میڈیا نے پانی کی قلت کو اجاگر کردیا، ڈیموں کی ضرورت بتادی!

سیاسی جماعتیں خاموش، سوشل میڈیا نے پانی کی قلت کو اجاگر کردیا، ڈیموں کی ...

اب بھلا عام آدمی کو کیا معلوم کہ ڈیم یعنی دریائی / قدرتی پانی کا ذخیرہ کرنا کتنا ضروری ہے خصوصاً کالا باغ اور بھاشا ڈیم کی اہمیت کیا ہے لیکن بھلا ہو یا برا لیکن یہ سوشل میڈیا ہی ہے جس نے صارف تک یہ پیغام تمام تکنیکی پہلوؤں پر نظر ڈال کر پہنچا دیا ہے جس سے یہ ہوا ہے کہ اب یہ ایک نعرے کی صورت اختیار کر گیا ہے کہ ہمیں میٹرو یا اورنج ٹرین اور موٹر ویز سے پہلے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے ڈیم کی ضرورت ہے ورنہ یہ نوشتہ دیوار لکھا جا چکا ہے کہ بھارت جس تیزی سے ہمارے حصہ کے دریاؤں پر اپنے ملک میں ڈیم بنا رہا ہے اس سے یہ اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں کہ راوی اور ستلج، بیاس دریاؤں کی طرح باقی ماندہ دریا بھی ریت کے ٹیلوں میں تبدیل ہو جائیں گے جس کے لئے جمہوری حکومتوں نے کچھ کام کیا اور نہ آمروں نے اس پر توجہ دی اور اب صورتحال یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی پر بھارت کے خلاف ہم اپنا موقف ثابت کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں اور عالمی عدالت میں بھارت کی طرف سے تعمیر ہونے والے کشن گنگا ڈیم پر پٹیشن ہار چکے ہیں ہیں جس کا مطلب ہے کہ بین الاقوامی اداروں سے بھی بھارت کو اپنے ملک میں آئندہ نسلوں کے لئے پانی ذخیرہ کرنے کی اجازت مل گئی ہے لیکن ہم جو دعویٰ کرتے ہیں کہ دنیا بھر کا سب سے زیادہ موثر اور خوبصورت نہری نظام ہمارے پاس ہے وہ یہ دعویٰ ہار چکے ہیں اور اب اس نہری نظام کے لئے پانی کہاں سے آئے گا اس پر کسی سیاسی جماعت نے ابھی تک اپنے منشور میں کوئی بات کی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی زبانی دعویٰ سامنے آیا ہے جس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو آئندہ انتخابات کے نتائج اپنے حق میں کرنے کا خبط سوار ہے لیکن وہ کسی ایسے ایشو پر کوئی موقف بھی اختیار کرنے کو تیار نہیں ہیں جو قومی اہمیت کا حامل ہو، جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کی تیسری نسل بھی نہ صرف کالا باغ ڈیم کے خلاف ابھی تک متحد ہے بلکہ انہوں نے اپنے مزید حمائتی بھی پیدا کر لئے ہیں لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ باقی تمام قومی سیاسی جماعتیں اس پر پراسرار خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں جس کا ذکر جماعت الدعوۃ کے امیر پروفیسر حافظ محمد سعید نے گزشتہ د نوں یہاں سینئر صحافیوں کے ساتھ افطار میں بات چیت کرتے ہوئے کیا کہ اس وقت پاکستان کے 70 فیصد پانی پر بھارت نے ڈیم بنا کر قبضہ کر لیا ہے اور باقی 30 فیصد کے لئے وہ نہ صرف پلاننگ بلکہ عمل درآمد کر رہا ہے جو قوم اور قومی سیاسی رہنماؤں کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے پانی زندگی ہے اور بھارت ہمارا پانی روک کر ہماری انسانی زندگی کے ساتھ ساتھ آبی حیات پرندوں اور جانوروں کی زندگی کو بھی ختم کرنا چاہتا ہے جس کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کشمیر ایشو پر بھی حکومت کے واضح موقف نہ آنے پر سخت تنقید کی اور بتایا کہ خود مختار کشمیر کا نعرہ دم توڑ چکا، سب پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں کشمیری شہادتیں پیش کر کے اپنا حق ادا کر رہے ہیں تاہم انہوں نے باور کرایا کہ پاکستان اس وقت خطرات کی زد میں ہے جبکہ نواز شریف نے ممبئی حملوں کا الزام فوج اور عدلیہ سے تکلیف کے باعث لگایا جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور نہ بھارت اس کو کسی بھی فورم پر ثابت کر سکا ہے ۔

دوسری طرف تحریک انصاف کے نا اہل قرار پانے والے رہنماء جہانگیر ترین نے موقف اختیار کیا ہے کہ اب بہاولپور صوبہ کا مطالبہ ختم ہو چکا ہے کیونکہ نواب آف بہاولپور صلاح الدین عباسی تحریک انصاف میں شامل ہو چکے اور ان سے طے پایا ہے کہ فائدہ اسی میں ہے کہ ملتان ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور ڈویژنوں پر مشتمل ایک ہی صوبہ بنایا جائے جو جنوبی پنجاب ہو گا خطے کے لوگوں کا اپنا صوبہ ہو گا تو وفاق سے جو حصہ ملے گا جنوبی پنجاب کے عوام اپنی مرضی سے استعمال کریں گے ملک میں تحریک انصاف کی حکومت بنی تو جنوبی پنجاب صوبہ ضرور بنے گا ورنہ عوام یہاں نہیں رہنے دیں گے اب کب ان کی حکومت بنے گی اور کب الگ صوبہ بنے گا یہ تو آئندہ انتخابات کے بعد ہی سامنے آسکے گا لیکن سرائیگی قوم پرست جماعتیں جہانگیر ترین کی اس بات سے اتفاق نہیں کرتیں خصوصاً بہاولپور صوبہ بحالی والے تو یہ بات بھی سننے کو تیار نہیں ہیں اور نہ ہی وہ اس سے کم پر راضی ہیں جس کا برملا اظہار کر چکے ہیں جبکہ سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی بھی اس موقف کو متعدد مربتہ دہرا چکے ہیں کہ بہاولپور صوبہ بحال ہو گا تو وہاں کے عوام کی اشک شوئی ہو گی اب اس حوالے سے کس کی بات بڑی ہو گی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کیونکہ ابھی تو مزید صوبے بنانے کی بجائے تمام سیاسی جماعتوں نے قومی اسمبلی میں مل کر فاٹا کو صوبہ خیبر پختون خوا میں شامل کرا دیا ہے اور اس طرح سے سینٹ آف پاکستان میں 20 سے زیادہ نشستیں بھی فارغ ہو گئی ہیں مگر اس میں بھی پوچھنا یہ تھا کہ کیا یہی سیاسی جماعتیں جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے اہم ترین ایشو پر اکٹھی نہیں ہو سکتی تھیں؟ یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے جو ملک کی مقتدر قوتوں اور سیاسی جماعتوں کے لئے جواب آنے تک زندہ رہے گا ورنہ جنوبی پنجاب کے عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے الگ صوبے کا محض سیاسی نعرہ ہے ورنہ کام کرنے کے لئے تو انہوں نے بزور قوت تمام ارکان اسمبلی کو بلوا کر بل کی تائید حاصل کر لی سینٹ سے پاس کرالیا اور پھر ایک ہی دن میں جناب صدر مملکت ممنون حسین سے بھی دستخط کروا کر عمل درآمد بھی کروا دیا اس کو کہتے ہیں ’’جو کہا وہ کیا‘‘ اپنے آپ کو قومی سیاسی جماعتیں گرداننے والوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے کیونکہ اسی لئے تو عوام اب سوشل میڈیا پر مطالبات کر رہے ہیں جن میں یہ بھی ایک پاپولر سیاسی نعرہ ہے جو آئندہ انتخابات میں کم از کم جنوبی پنجاب میں تو ضرور چلے گا اور اس کا اثر کیا ہوتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مذمت اور نعرہ تو عوام سوشل میڈیا پر الیکشن کمشن کی طرف سے جاری ہونے والے کاغذات نامزدگی فارمز کو بھی بنا رہے ہیں جس میں انتخاب لڑنے والے کو اتنی رعائت (معافی) دے دی گئی ہے کہ وہ تمام اخلاقیات سے ہی مبرا ہو گیا ہے حالانکہ اگر کوئی بھی امیدوار کسی یورپی ملک کے ویزے کی درخواست ہی پر کر لے تو وہ ملک اس کی درخواست کو صرف مسترد کر دے گا بلکہ شاید تمام عمر کے لئے پابندی بھی لگا دے لیکن چونکہ ہم پاکستانی ہیں اور ہمارے اپنے ارکان اسمبلی نے اپنے ہی لئے اسمبلی میں جو ترجیحی بنیادوں پر الیکشن رولز میں ترامیم کی ہیں اس میں یہ بھی ہے کہ نامزدگی فارم میں کچھ بھی بتانے کی پابندی نہیں ہو گی یعنی چور، ڈاکو، لٹیرا، قاتل، فراڈیا اور تمام جرائم کرنے والا بہت آسانی سے انتخابات میں معزز بن کر حصہ لے سکتا ہے اب شاید عوام کو اس کے بعد کچھ ’’آرام‘‘ ہو گا جو نعرے لگاتے پھر رہے تھے کہ وہ ان جیسے رہنماؤں کو آئندہ انتخابات میں نہیں آنے دیں گے۔

انتخابات کی گرمی اپنی جگہ لیکن قدرتی موسم کی گرمی نے عوام کو نڈھال کر دیا ہے رمضان المبارک میں ملک بھر کی طرح جنوبی پنجاب میں بھی گرمی کی شدید لہر نے درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا دیا لوگ ہیٹ سٹروک کا شکار ہو کر ہسپتال جا پہنچے، وسطی، جنوبی پنجاب سمیت اندروں سندھ میں گرمی کا 67 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے اور موسمیات والے ابھی مزید گرمی کی پیشین گوئی کر رہے ہیں لیکن دوسری طرف ریل اسٹیٹ مافیا دھڑا دھڑ ہرے بھرے باغ اور درخت کاٹ کر کنٹریکٹ کی کالونیاں بناتے جا رہے ہیں اس پر تفصیل آئندہ سہی۔

مزید : ایڈیشن 2