الیکشن کمشن کا فیصلہ، جسٹس دوست محمد نگران وزیر اعلیٰ

الیکشن کمشن کا فیصلہ، جسٹس دوست محمد نگران وزیر اعلیٰ

تحریک انصاف کی سابق صوبائی حکومت اپنے دور حکومت کے ہر شعبے کی طرح نگران وزیراعلیٰ کے تقرر میں بھی طرح ناکام ثابت ہوئی جس نے تحریک انصاف کی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچایا ۔نگران وزیراعلی کے تقرر کیلئے ماضی کے اپوزیشن لیڈرلطف الرحمنٰ اور سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے کسی بھی پارٹی سے مشاورت کئے بغیر منظور آفریدی کا نام فائنل کیا تھا مگر جلد ہی خدشات الزامات میں تبدیل ہو کر سامنے آئے صوبے سے تعلق رکھنے والی دیگر اہم پارٹیوں پیپلز پارٹی عوامی نیشنل پارٹی ،قومی وطن پارٹی اور مسلم لیگ ن نے اس نامزدگی پر اپنی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ۔دھیرے دھیرے لین دین کی باتیں سامنے آنا شروع ہو گئیں الیکٹرانکس میڈیا کے تبصروں میں دبے الفاظ میں 50 کروڑ روپے کا ذکر کیا گیا ائے این پی ۔پی پی پی اور دیگر پارٹیوں نے اپنے بیانات میں اس لین دین کا ذکر یوں کیا کہ اب نگران وزیراعلیٰ کیلئے بھی بولی لگائی جانے لگی ہے عمران خان کی طرف سے منظور آفریدی کانام واپس لینے کے بعد اپوزیشن لیڈر لطف الرحمان اپنے موقف پر ڈٹ گئے اور منظور آفریدی کے نام پر ہی بضد رہے جس کے نتیجے میں معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا پارلیمانی کمیٹی میں اپوزیشن کی طرف سے منظور آفریدی کے ساتھ جسٹس (ر) دوست محمد خان کے نام کا اضافہ کیا گیا مگر پارلیمانی کمیٹی کے اجلاسوں میں لطف الرحمن منظور آفریدی کے نام پر ہی بضد رہے خیبر پختونخوا کی دیگر سیاسی جماعتوں نے پارلیمانی کمیٹی کی نامزدگیوں کو مسترد کر دیا اور مشترکہ پریس کانفرس میں اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن صرف جے یو آئی کا نام نہیں ہے اپوزیشن میں دیگر جماعتیں بھی شامل ہیں جنہیں پارلیمانی کمیٹی میں نظر انداز کیا گیا یوں منظور آفریدی کے بعد پارلیمانی کمیٹی بھی متنازعہ ہو گئی اور معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے ہاتھ سے نکل کر الیکشن کمیشن کے پاس چلا گیا۔الیکشن کمیشن کو نگران وزیراعلی کا نام سوموار کے روز فائینل کرنا چاہے تھا مگر (سہ پہر تک)تادم تحریر مکمل خاموشی چھائی رہی تاہم یہ بات طے ہے کہ الزامات کی بھر مار اور اپوزیشن جماعتوں کی شدید مخالفت کے بعد اب الیکشن کمیشن اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ نگران وزیراعلیٰ کیلئے منظور آفریدی کا نام فائینل کر سکے البتہ دیگر امیدواروں حمایت اللہ ،اعجاز قریشی اور جسٹس (ر) دوست خان میں میرٹ کے لحاظ سے دوست محمد خان زیادہ معتبر شخصیت ہیں دیگر دو امیدوار ریٹائرڈ بیوروکریٹ ہیں جو کہ اچھی شہرت کے حامل ہیں تاہم جسٹس دوست محمد خان سخت فیصلوں کے باعث خاصی شہرت رکھتے ہیں بہر حال اب یہ فیصلہ الیکشن کمیشن نے ہی کرنا پی ٹی آئی کے کارکنوں میں اس عمل کے نتیجے میں سخت مایوسی اور شرمندگی پھیلی ہے ۔ 

روزنامہ پاکستان جیسا کہ اپنی گزشتہ اشاعت کی انہ�ئسطور میں واضح کر چکا ہے کہ حکومت چلی گئی اب سکینڈل آنا شروع ہوں گے چناچہ سابقہ صوبائی حکومت کے اکلوتے ،میگا پراجیکٹ (بی آرٹی ) کا میگا سکینڈل سامنے آ گیا اس پراجیکٹ کے ایک انجینئر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے چیف سیکریٹری کے نام تحریری مراسلے میں تمام حقائق طشت ازبام کر دئیے۔مذکورہ انجینئر نے اپنے قویل خط میں بہت ساری چونکا دینے والی باتوں کا انکشاف کیا ہے مگر سب سے بڑا اور اہم انکشاف اس پراجیکٹ میں غیر معیاری میٹیریل کا استعما ل ہے جس کے بارے میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ اس پراجیکٹ کے کئی ستون وقت سے پہلے زمین بوس ہو جائیں گے کھربوں روپے کے اس پراجیکٹ کے بارے میں ذمہ دار شخص کے انکشافات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس پراجیکٹ میں میگا کرپشن ہوئی ہے اس بات کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ قومی احتساب بیوروجلد ہی اس پراجیکٹ کی تحقیقات کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرے فی الحال قومی احتساب بیورو نے محکمہ تعلیم اری گیشن اور سی اینڈ ڈبلیو سمیت متعدد اداروں میں کرپشن کی تحقیقات شروع کی ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نت نئے سکینڈل سامنے آئیں گے۔یہ بات بھی یقینی ہے کہ عیدالفطر کے فوراً بعد جہاں انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہوں گی وہاں سابق صوبائی حکومت کی کرپشن کے ٰخلاف سرکاری ملازمین کے احتجاج مظاہرے بھی ہونگے۔یہ سرکاری ملازمین اس وقت ماہ ماہ رمضان اور شدید گرمی کے باعث خاموش بیٹھے ہیں۔

متحدہ مجلس عمل میں شامل دو بڑی مذہبی جماعتوں جے یو آئی اور جماعت اسلامی میں ابھی سے اختلافات ابھر کر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں خصوصاً دیر اپر اور دیر لوئر ،خیبر ایجنسی اور اسی طرح کے دوسرے علاقوں میں دونوں جماعتوں نے اپنے امیدوار ایک دوسرے کے مقابلے میں کھڑے کر دئے ہیں دونوں جماعتوں میں سے کوئی بھی ایک قدم پیچھے ہٹنے اور اپنا امیدوار واپس لینے کیلئے تیار نہیں ہے جبکہ دونوں جماعتوں کی سیاست میں سب سے بڑا اختلاف فاٹا کا انضمام ہے جے یو آئی اس انضمام کی مخالف اور جماعت اسلامی حامی ہے اور دونوں نے فاٹا اور پاٹا کو اپنی انتخابی سرگرمیوں اور سیاست کا مرکز بنا رکھا ہے خدشہ ہے کہ اگر دونوں بڑی پارٹیوں نے اپنے اختلا فات ختم نہ کئے تو مجلس عمل کے وجو د کو نا قابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔

تازہ ترین اطلاع کے مطابق الیکشن کمشن نے جسٹس دوست محمد کو نگران وزیر اعلیٰ نامزد کردیا ہے۔

مزید : ایڈیشن 2

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...