دیہی سندھ میں پیپلز پارٹی کو پہلی بار جی، ڈی، اے اتحاد ٹف ٹائم دے گا؟

دیہی سندھ میں پیپلز پارٹی کو پہلی بار جی، ڈی، اے اتحاد ٹف ٹائم دے گا؟

ملک بھر کی طرح سندھ میں بھی پیر کے دن سے کاغذات نامزدگی فارم حاصل کرنے اور جمع کرانے کا عمل بھر پور طریقہ سے شروع ہوگیا۔ آٹھ جون تک یہ عمل جاری رہے گا، اس میں تعطل لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بنچ کے اس حکم کے بعد آیا تھا، جس میں جسٹس عائشہ ملک نے اینکر پرسن حبیب اکرم کی درخواست کی سماعت کے بعد پارلیمنٹ کے پاس کردہ کاغذات نامزدگی فارم میں دستور کی دفعہ 62-63 کے مطابق الیکشن کمیشن کو تبدیلی کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے خلاف تمام قومی سیاسی جماعتوں نے بیک زبان اختلاف کرتے ہوئے اس خدشہ کا اظہار کیا تھا کہ اس سے انتخابات کے بروقت انعقاد میں تاخیر ہوسکتی ہے، اتوار کے روز لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق(سبکدوش ہونے والی اسمبلی کا اسپیکر نئی منتخب ہونے والی اسمبلی کے ارکان کی حلف برادری تک اپنے منصب پر رہتا ہے، وہی نئی اسمبلی میں منتخب ہونے والے ارکان سے حلف لینا ہے، خواہ وہ خود اس اسمبلی کا رکن منتخب نہ ہوا ہو) اور الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں اپیل کرتے ہوئے چیف جسٹس سے فوری سماعت کی درخواست کی تھی، چیف جسٹس ثاقب نثار نے لاہور ہائی کورٹ کا حکم معطل کرکے پارلیمنٹ کا پاس کردہ کاغذات نامزدگی فارم بحال کرنے کا حکم جاری کردیا تھا، جس کے بعد مختلف دفاتر میں کاغذات نامزدگی فارم وصول کرنے اور جمع کرانے والوں کا رش لگ گیا ہے۔ پیر کے دن سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کے پاس کردہ کاغذات نامزدگی فارم کے ساتھ جمع کرائے جانے والے حلف نامہ میں دوہری شہریت سمیت ان تمام امور کی تفصیل درج کرنے کا حکم جاری کردیا، جو ہر امیدوار کو کاغذات نامزدگی فارم کے ساتھ اس حلف نامہ کے ساتھ جمع کرانا لازم قرار دیا گیا تھا کہ وہ دستور کی دفعہ 62-63 کی شرائط کے ساتھ الیکشن لڑنے کا اہل ہے سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد وہ ابہام دورہوگیا جس کی وجہ سے پارلیمنٹ کے پاس کردہ کاغذات نامزدگی فارم کو متنازعہ بنایا جارہا تھا اور اسے انتخابات کے التوا کی وجہ بنانے کی کوشش کی جارہی تھی، انتخابات کے التوا کو قومی مفاد سے جوڑنے کا ’’چورن‘‘ بیچنے والے پر حبیب جالب کا یہ شعر حرف بہ حرف صادق آتا ہے:

اٹھائیں لاکھ دیواریں طلوع سحر نے

یہ شب کے پاسباں کب تک نہ ہم کو راستہ دیں گے

سپریم کورٹ کے فیصلے نے انتخابات کے التوا کے خواہش مندوں کی آرزؤں پر اوس ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، ملک کی تمام مین سٹریم سیاسی جماعتوں نے نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک کے دو ٹوک موقف الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، مسٹرجسٹس ثاقب نثار جنہوں نے 25 جون کو ہر قیمت پر انتخابات کرانے کا ذمہ داری الیکشن کمیشن پر عائد کردی ہے۔ نگران وزیر اعظم کے حلف اٹھانے کے بعد چاروں صوبوں میں صوبہ سندھ کو یہ اعزاز ملا ہے کہ وہاں حزب اقتدار اور حزب اختلاف نے اتفاق رائے کے ساتھ نگران وزیر اعلیٰ کا انتخاب کیا۔ صوبہ سندھ کے سابق چیف سیکرٹری فضل الرحمن نے سندھ کے نگران وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھالیا ہے، فضل الرحمان کا انتخاب پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کی تائید اور حمایت سے ہوا ہے، نگران وزیر اعلیٰ کا تعلق کراچی کی اردو سپیکنگ کمیونٹی سے ہے، ریٹائرمنٹ کے بعد وہ پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت میں وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر اور کئی اہم پروجیکٹس کے انچارج رہے، جس میں کراچی کے مضافات میں ذوالفقار آباد کے نام سے نیا شہر آباد کرنے کے منصوبے اور پینے کے صاف پانی کی سپلائی کے آر او پلانٹ کے منصوبے شامل تھے۔ ان کا تعلق سول سروس کے شعبہ آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سے تھا وہ سندھ کے اکاؤنٹنٹ جنرل بھی رہے اور ڈائریکٹر آڈٹ بھی۔ انہیں سول اور فوجی حکومت کے ادوار میں سندھ میں اہم پوزیشنوں پر کام کرنے کا تجربہ ہے جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں سندھ میں ڈاکٹر ارباب غلام رحیم اور ایم کیو ایم کی مخلوط حکومت میں وہ سندھ کے چیف سیکرٹری رہے، بارہ مئی 2007ء کا خون ریز سانحہ ہوا تو اس وقت سندھ کے چیف سیکرٹری وہی تھے، وہ اس خون ریز سانحہ کے عینی گواہ کی حیثیت بھی رکھتے ہیں، کبھی اس سانحہ کی آزادانہ تحقیق کی نوبت آئی تو بطور چیف سیکرٹری عینی گواہ کے طور پر ان کو ان تمام کرداروں کو بے نقاب کرنا پڑے گا، جنہوں نے ریاستی مشینری اور سرکاری وسائل کے استعمال سے جسٹس (ر) افتخار محمد چودھری کے شہر میں داخلے کو ناممکن بنانے کے لئے 50سے زائد بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلی تھی اور اسی رات اسلام آباد میں جنرل (ر) پرویز مشرف نے مکہ لہراتے ہوئے کہا تھا کہ کراچی میں ہم نے اپنی طاقت دکھائی ہے۔ اللہ کرے اس بار سندھ میں نگران سیٹ اَپ آزادانہ، منصفانہ غیر جانبدارانہ صاف شفاف انتخابات کے انعقاد میں الیکشن کمیشن کے معاون اور مددگار کا کردار کرے، کیونکہ 1988ء سے 2013ء تک نگران سیٹ اَپ کا کردار اس کے برعکس ’’بیلٹ کے تقدس کو بُلٹ کی نوک سے‘‘ پامال کرنے والوں کے سہولت کار کا نظر آتا رہا ہے۔

اگرچہ اس بار حالات بھی خاصے مختلف ہیں اور امن و امان کی صورت حال بھی 2013ء سے جاری رینجرز پولیس کے مشترکہ آپریشن نے ہتھیار بند مسلح جتھوں اور ان کے طاقت ور سرپرستوں کی کمر خاصی توڑ دی ہے، مگر ابھی مکمل اور دیرپا امن کی بحالی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے کراچی والوں کے رستے زخموں پر وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے مرہم کا پھایہ رکھنا لازم اور ناگزیر ہے۔ کراچی میں ہتھیار بند مسلح جتھے صرف ایم کیو ایم کے ہی نہیں تھے، سندھ کی دوسری طاقت ور سیاسی جماعتوں کے پاس بھی لیاری گینگ وار کی صورت میں ہتھیار بند مسلح جتھوں کی کمی نہیں تھی، رینجرز نے لیاری گینگ وار کے کارندوں کی بھی خاصی کمر توڑی ہے، مگر لیاری میں بھی مکمل اور دیرپا امن کی بحالی کے لئے علاقے کے وسائل سے محروم طبقات کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کئے گئے ہیں اور نہ ہی ان کے لئے تعلیم اور صحت کی ضروریات پوری کرنے کے لئے اقدام کئے گئے ہیں۔

لیاری 1970ء سے پیپلزپارٹی کا مضبوط ووٹ بنک والا علاقہ رہا ہے۔ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو (مرحوم) نے 1970ء کے انتخاب میں اسے پیرس بنانے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ سندھ اسمبلی کا پہلا اجلاس لیاری میں بلائیں گے۔ لیاری نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد آصف علی زرداری کو منتخب کرایا اور اب بلاول بھٹو زرداری نے بھی لاڑ کانہ کے ساتھ لیاری سے بھی الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اندرون سندھ ’’جی ڈی اے‘‘ کی شکل میں قائم ہونے والا انتخابی اتحاد پیپلزپارٹی کے لئے چیلنج بن سکتا ہے۔ آصف علی زرداری کے پرانے وفادار دوست ذوالفقار مرزا جنہوں نے ان سے ان کے دور صدارت میں بغاوت کر دی تھی۔ اب اپنی بیگم سابق اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے ساتھ جی ڈی اے میں شامل ہو گئے ہیں ذوالفقار مرزا اور ان کی بیگم پہلی بار پیپلزپارٹی کے سوا کسی دوسری سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑیں گے۔

پیپلزپارٹی کو ذوالفقار مرزا کی بہ نسبت ان کی بیگم ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی بغاوت سے حقیقی معنوں میں بڑا سیاسی دھچکہ لگا ہے۔ پیپلزپارٹی کو اب یاد آیا ہے کہ ذوالفقار مرزا نے اتنی دولت کیسے بنائی اور ان کی بیگم ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے 34 کروڑ روپے کے قرضے معاف کرائے تھے۔ ذوالفقار مرزا نے دولت آصف علی زرداری کا دست راست رہ کر بنائی تھی اور ان کی بیگم ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے 34 کروڑ روپے کے قرضے اس وقت معاف کرائے تھے جب وہ پیپلزپارٹی کی طرف سے قومی اسمبلی کی اسپیکر تھیں۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا پیپلزپارٹی کے مقابلے میں بدین سے الیکشن جیتتی ہیں یا نہیں؟ اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے، مگر اتنا کہنا غلط نہ ہوگا بدین کا الیکشن ملک بھر کے میڈیا کی توجہ کا مرکز رہے گا۔ سندھ میں پہلی بار پیپلزپارٹی کو گلی کوچوں میں جا کر انتخابی مہم چلانا پڑے گی۔

پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے گھوٹکی کے مہر سرداروں کا خاندان پہلی بار تقسیم ہو رہا ہے۔ سردار محمد بخش مہر پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑیں گے جبکہ ان کے کزن اور بہنوئی سردار علی گوہر خان پیپلزپارٹی کو داغ مفارقت دے کر پیر پگارو کی قیادت میں جی ڈی اے کا حصہ بن گئے ہیں جی ڈی اے گھوٹکی، شکار پور، سکھر، خیر پور، بدین سانگھڑ اور تھرپارکر میں پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دے سکتا ہے۔ اس کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔ تھرپارکر میں جی ڈی اے کے ڈاکٹر ارباب غلام رحیم اور تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا معاہدہ ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم قومی اسمبلی میں شاہ محمود قریشی کی حمایت کریں گے اور شاہ محمود قریشی صوبائی نشست پر ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کی حمایت کریں گے۔ شاہ محمود قریشی نے اس حلقہ سے 2013ء کے انتخاب میں بھی حصہ لیا تھا۔ تاہم کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ پیپلزپارٹی کا امیدوار کامیاب ہوا تھا البتہ شاہ محمود قریشی نے قابل ذکر تعداد میں ووٹ حاصل کئے تھے ضلع گھوٹکی کے بعد تھرپارکر میں شاہ محمود قریشی کے مریدوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے 2013ء میں ڈاکٹر ارباب غلام رحیم مسلم لیگ (ق) میں تھے۔ انہوں نے شاہ محمود قریشی کی مخالفت کی سندھ کی سطح پر تحریک انصاف اور جی ڈی اے کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے معاملات چل رہے ہیں ادھر مسلم لیگ (ن) سندھ کے صوبائی صدر شاہ محمد شاہ کی زیر صدارت صوبائی پارلیمانی بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اندرون سندھ اور کراچی میں 2018ء کے انتخاب میں بھرپور حصہ لے گی۔ نواب شاہ سے آصف علی زرداری کو بلا مقابلہ کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ کراچی سے مسلم لیگ (ن) نے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، سینٹر مشاہد اللہ خان، انکے بیٹے ڈاکٹر افنان اللہ خان اور سابق صوبائی وزیر دوست محمد فیضی، بلال اعجاز شفیع، سندھ کے سکریٹری اطلاعات طارق نذیر کراچی کے سکریٹری اطلاعات ناصر الدین محمود کئی دیگر ناموں کو فائنل کر لیا ہے۔ مفتاح اسماعیل بہادر آباد کے علاقے سے سینٹر مشاہد اللہ خان ضلع ویسٹ سے اس نشست سے جس سے 1993ء اور 1997ء میں اعجاز شفیع مرحوم دوبار کامیاب ہوئے تھے۔ دوست محمد فیضی ناظم آباد سے اور ڈاکٹر افنان اللہ خان ڈیفنس میں ڈاکٹر عارف علوی کے مقابلے میں الیکشن لڑیں گے۔ لگتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کو کراچی سے الیکشن پر آمادہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے کیونکہ جس نشست سے شہباز شریف کو الیکشن لڑنے کی تجویز تھی اب اس نشست پر سینٹرمشاہد اللہ خان لڑیں گے۔ تحریک انصاف نے کراچی میں ڈاکٹر عارف علوی، علی زیدی، مولوی محمود، فردوس نقوی، عمران اسماعیل کو ٹکٹ جاری کر دیئے ہیں۔ البتہ عامر لیاقت کو ٹکٹ نہیں ملا ہے۔ اس کا الزام عامر لیاقت نے فردوس نقوی پر لگایا ہے۔

عامر لیاقت اس نشست سے ٹکٹ چاہتے تھے جس نشست پر تحریک انصاف میں نئے شامل ہونے والے کراچی کے معروف بڑے بزنس مین مولوی محمود کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ مولوی محمود نے اپنا گھر تحریک انصاف کے دفتر کے لئے دیا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی ضلع سنٹرل یا ضلع مشرقی کے علاقے سے الیکشن لڑیں گے۔ ان کے لئے ان دو اضلاع سے تین حلقے تجویز کئے گئے ہیں فیصلہ عمران خان نے خود کرنا ہے کہ وہ کس حلقہ سے الیکشن لڑیں گے۔

ادھر ایم ایم اے بھی اندرون سندھ اور کراچی سے اپنے امیدواروں کے ناموں پر غور کر رہی ہے۔ کراچی سے شاہ اویس نورانی، حافظ نعیم الدین، ڈاکٹر معراج الہدی، قاری عثمان، اسد اللہ مہنو ایڈووکیٹ اور اندرون سندھ سے الیکشن لڑنے والوں میں نمایاں نام ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے بھائی اور بیٹے راشد سومروکا ہے تمام سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کے نام فائنل ہوں گے تو صحیح اندازہ ہوگا کہ سندھ کے انتخابی دنگل کا نقشہ کیا ہوگا۔ خبریں ہیں کہ دینی جماعتوں کا ایک نیا اتحاد بھی انتخاب میں اترنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ دیکھنا ہے کہ تحریک لبیک کا اس اتحاد میں کیا رول ہوگا؟دریں اثناء خبر ہے کہ ٹھٹھہ کے شیرازی برادران بالآخر آصف علی زرداری سے ملاقات اور مذاکرات کے بعد پیپلز پارٹی میں آگئے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 2

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...