صاف پانی منصوبہ، افسران اضافی 44 کروڑ تنخواہوں کی مد میں اڑے رپورٹ سپریم کورٹ پیش

صاف پانی منصوبہ، افسران اضافی 44 کروڑ تنخواہوں کی مد میں اڑے رپورٹ سپریم کورٹ ...

اسلام آباد( آن لائن ) جنوبی پنجاب کے عوام کیلئے صاف پانی کی فراہمی کے نام پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف صاف پانی منصوبہ میں تعینات افسران کو 44 کروڑ 24لاکھ 85ہزار روپے تنخواہوں کی مد میں اضافی ادا کردیئے، صاف پانی منصوبہ حکومت کا تھا جس میں سرکاری افسران کو پہلے تو قواعد کے برعکس بھرتی کیا گیا پھر ان افسران کو نجی کمپنی کے قواعد کے تحت بھاری تنخواہیں دی گئی جس کو اب غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر صاف پانی منصوبہ جنوبی پنجاب کا مالی معاملات کا آڈٹ کرایا گیا جس میں واضح ہوگیا کہ اس منصوبہ میں تعینات کئے گئے افسران کو گزشتہ تین سالوں میں مجموعی طور پر چوالیس کروڑ روپے تنخواہوں کی مد میں ادا کئے گئے ہیں ۔ صاف پانی کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ان افسران کی تنخواہوں کی منظوری دی تھی جو قواعد کے برعکس تھی، وزیراعلیٰ نے من پسند افسران کو قومی خزانہ نچھاور کرتے ہوئے پنجاب کی وزارت خزانہ سے پیشگی اجازت لینا بھی گوارا نہیں کیا جس کے باعث وہ پھنس گئے ہیں۔ قواعد کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے سروسز اینڈ جنرل شعبہ کے اعلیٰ افسر شبنم نجف کو ڈیپوٹیشن پر صاف پانی کمپنی میں تعینات کیاگیا،مسز شبنم نجف سرکاری افسر ہونے کے باعث کمپنی سے چار لاکھ چالیس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ اضافی وصول کرتی رہی اور مجموعی طور پر چھیاسٹھ لاکھ روپے صاف پانی منصوبہ سے نکال کر اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کی مرتکب قرار دی گئی ہے ،وہ صاف پانی کمپنی میں پروکیورمنٹ شعبہ کی انچارج تھی لیکن زیادہ وقت شہباز شریف کے ساتھ گزارتی تھی ۔ حکام نے محترمہ شبنم نجف کو چھیاسٹھ لاکھ روپے واپس کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ دستاویزات میں سینئر انجینئر کی چار آسامیوں پر چھ لوگوں کو بھرتی کیا گیا ریجنل منیجر کی چار آسامیوں پر چھ افراد کو بھرتی کیا گیا ڈسٹرکٹ ریجنز کی انیس آسامیوں پر انتیس افسران کو بھرتی کیا گیا جبکہ ریجنل ایڈمن آفیسر کی چار آسامیوں پر چھ افسران کو بھرتی کیا گیا اور یہ فسر کی ماہانہ تنخواہ تین لاکھ روپے مقرر کردی اور قومی خزانہ کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا۔

رپورٹ پیش

مزید : کراچی صفحہ اول