الیکشن 2018،ماضی کی طرح موروثی سیاست ہی غالب رہے گی

الیکشن 2018،ماضی کی طرح موروثی سیاست ہی غالب رہے گی

کراچی : تجزیہ مبشر میر

الیکشن 2018ء میں بھی گزشتہ ادوار کی طرح موروثی سیاست ہی غالب رہے گی ۔بہت سے پرانے سیاسی خاندانوں کے چشم و چراغ ہی امیدوارکے طور پر سامنے آرہے ہیں ،نئے آنے والوں کی تعداد زیادہ دکھائی نہیں دیتی ۔ذرائع کے مطابق گورنر سندھ محمد زبیر کا بیٹا حسن زبیر بھی سندھ اسمبلی کے لیے امیدوار ہوگا ۔مسلم لیگ ن سے ان کو ٹکٹ دیا جائے گا ۔سیاسی جماعتیں قابل انتخاب امیدواروں پر انحصار کررہی ہیں جبکہ ان کی ترجیحات میں سرمایہ دار اور اثر و رسوخ کے حامل افراد کو ٹکٹ جاری کرنا سرفہرست ہے ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق موجودہ الیکشن میں فیصلہ کن ووٹر پاکستان کے دیہی علاقو ں سے ہی ہوگا ۔شہری علاقو ں کی سیاست اگر رجحان ساز ہوتی ہے لیکن فیصلہ کن قوت دیہی علاقوں سے ہی تعلق رکھتی ہے ۔اگرچہ پاکستان میں شہری آبادی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے لیکن شہری علاقوں کا رہائشی اپنا ووٹ آج بھی آبائی علاقوں میں کاسٹ کرتا ہے جس کی وجہ برادری سسٹم کا بے پناہ اثر و رسوخ ہے ۔مردم شماری کے نتائج سے کراچی کی سیاست متاثر ہوئی ہے۔ کراچی کی آبادی جو مردم شماری میں ظاہر کی گئی ہے اسے حقیقت پسندانہ قرار نہیں دیاجارہا ۔عوامی رائے کے مطابق اگر کراچی کی مردم شماری کے نتائج منصفانہ ہوتے تو یہاں قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ یقینی تھا ۔مردم شماری کے نتائج کو عدالت میں چیلنج کیا جاچکا ہے ۔کراچی کے عوام کی رائے ہے کہ یہاں ایشوز بہت ہیں جو سیاسی جماعت ان ایشوز کی بنیاد پر الیکشن مہم میں آئی اسے پذیرائی مل سکتی ہے کیونکہ 2018ء کے الیکشن خوف کی فضا کے بغیر ہوں گے اور کسی شخصیت کا کرزمہ بھی متاثر نہیں کرسکے گا ۔عوام رخصت ہونے والی حکومت کی کارکردگی کو بھی مدنظر رکھیں گے اور دیگر جماعتوں کے منشور کو بھی زیر بحث لائیں گے اس لیے یہ ممکن دکھائی دیتا ہے کہ کراچی میں الیکشن کے نتائج حیران کن ہوسکتے ہیں ۔سوشل میڈیا الیکشن مہم میں بہت اثرانداز ہوگا ۔لوگ زیادہ آزادی سے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کررہے ہیں ۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اس مرتبہ عوام کا جرات مندانہ انداز الیکشن مہم کو موثر بناسکتا ہے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول