پاکستان کو کیسی قیادت چاہئے 

06 جون 2018 (12:11)

ڈاکٹر رشید گِل( کینیڈا)

پاکستان میں انتخابات کا موسم پُورے عروج پر ہے۔ سیاسی پارٹیاں اپے اپنے انتخابی منشوروں کی نوک پلک سنوارنے میں مصروف ہیں۔ مُلک کے ہر شہر میں انتخابات کے علاوہ کوئی خاص قابل ذکر بات نہیں ہے۔ لیکن دو چیزوں کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ موسم گرما کی شدت اور مہنگائی نے صارفین کو شدید پریشانی کے عالم سے دوچار کر رکھا ہے۔ اُمید تھی کہ ماہ رمضان میں صارفین کا خیال رکھا جائے گا۔ اشیائے صرف کی چیزوں کی قیمتوں میں کمی واقع ہوگی۔ حکومت اپنے دعووں کے مُطابق گرانی کا قلع قمع کریگی لیکن وُہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا کے مُصداق مُسلم لیگ کی حکومت کا وعدہ نقش بر آب ثابت ہُوا ہے۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ ماہ رمضان میں پہلے سے زیادہ ہو رہی ہے۔ ابھی پچھلی حکومت کو گئے ہوئے بمُشکل چند ایام ہوئے ہیں کہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف صاحبان نے نئی حکومت پر الزام لگانا شروع کر دیا ہے اور ساتھ کریڈٹ بھی لینے کی کوشش کررہے ہیں کہ ہم نے اپنے دورحکومت میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہونے دی اور رخصت ہوتے وقت ہم نے اضافی مقدار میں بجلی چھوڑی تھی۔ 

ہم سمجھتے ہیں کہ اتنی جلدی سے کریڈٹ لینے کی کوشش شائد عوام کو پسند نہ آئے۔ سب لوگ جانتے ہیں کہ بجلی کا معاملہ مُسلم لیگ کے دورِ حکومت میں تمام تر وعدوں کے باوجود دُرست نہیں ہو سکا۔ بیان بازی سے لوگوں کی توجہ مُختلف مسائل کی طرف مبذول کروا کر عوام کو الجھاوکا شکار کرنا چاہتے ہیں۔ سیدھے سادے عوام کو گُمراہ کرکے ووٹ حاصل کرنا یہ کھُلے عام فریب دہی ہے اِسکو ووٹ کی توقیر ہرگز نہیں جا سکتا۔

ہم سمجھتے ہیں کہ شریف برادران نے اپنا وطیرہ بنا لیا ہے کہ اداروں ،عدالتوں اور عوام کو بے سرو پیر باتوں میں اُلجھا کر اپنا اُلو سیدھا کیا جائے۔ میاں نواز شریف آج کی تاریخ تک اپنے مقدمے میں منی ٹریل پیش نہیں کر سکے۔ عدالت ہو یا انٹرویو وُہ کبھی بھی ٹو دی پوائنٹ بات نہیں کرتے اور بد قسمتی سے یہی انداز چھوٹے بھائی نے عدالت عالیہ میں اپنایا اور عدالت عالیہ کے چیف جسٹس صاحب کو تنگ آکر یہ کہنا پڑا کہ میاں صاحب میں آپکے جواب سے مطمئن نہیں ہوں۔ چیف جسٹس صاحب نے ایک ہی سوال کم و بیش سات دفعہ داہریا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ میاں صاحب ہر دفعہ سوال کا غلط جواب دیتے رہے۔ ایسے لوگ جو سوال کا دُرست اور بر محل جواب تک نہیں دے سکتے کیا وُہ حکومت درُست انداز میں چلانے کے اہل ہیں؟ 

نواز شریف کا حالیہ دور حکومت انتہائی پُر آشوب رہا۔ عمران خاں نے چار قومی نشستوں پر منعقدہ انتخابات پر دوبارہ گنتی کروانے کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن میاں صاحب پی ٹی آئی کے اس مطالبے پر رضامند نہ ہوئے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عمران خاں کو اپنے مطالبے منوانے کے لئے دھرنے دینے پڑے۔ دھرنوں کی وجہ سے اقتصادی نُقصان ہونا ایک فطری امر تھا۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر انتخابات درست ہوئے تھے تو میاں صاحب کو دوبارہ ووٹوں کی گنتی کروانے پر اعتراض کیوں تھا؟ عام فہم سی بات ہے کہ میاں صاحب کو اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ انتخابات میں دھاندلی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اُن پر اپنے دوستوں کا دباؤ تھا کہ وُہ عمران خان صاحب کے مطالبے کو تسلیم نہ کریں۔ لیکن تمام تر کوشش کے باوجود میاں صاحب اپنی کرپش کو چھُپانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اور بالآخر وُہ سپریم کورٹ سے فیصلہ کروانے پر رضامند ہو گئے۔ سپریم کورٹ نے تمام شواہد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اُنکو نا اہل قرار دے دیا۔ نااہلی کی وجہ اقامہ بنی۔ لیکن وُہ حقیقت کو ماننے کی بجائے حسب معول الزام عدلیہ پر تھوپتے ہیں۔ اُن کے خیال میں یوں کرنے سے وُہ عوام میں زیادہ پذیرائی حاصل کر سکیں گے اور یہ تاثر دے سکیں گے کہ مُجھے ذاتی انتقام کی بدولت عدلیہ نے فوج کے دباؤ کیوجہ سے نکالا ہے۔ 

دیکھا جائے توفوج کو زچ کرنے کے لئے میاں نواز شریف اور اُنکی صاحبزادی نے ہر ممکن کوشش کی ہے لیکن فوج کی قیادت نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ لیکن وُہ میاں نواز شریف کی سیاست کو سمجھتے ہیں۔ میاں نواز شریف کی اب تک سیاست یہ رہی ہے کہ عدلیہ اور فوج کے خلاف بیانات دے کر اُنہوں کو اشتعال دلایا جائے تاکہ وُہ غُصے میں آ کر اُنکو پابند سلاسل کر دیں یا پھر نقص امن کے با عث نواز شریف فوج کوکوئی ایسا آپشن دے دیں جس سے اُنکو مقدمات سے خلاصی ہو سکے۔ لیکن فوج نے صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے خاموش رہنے کو ترجیح دی ہے۔ میاں نواز شریف نے فوج کو بد نام کرنے کے لئے اور اقوام عالم سے داد حاصل کرنے کے لئے فوج پر الزام تراشی کی ہے ۔ دا انشمند حلقوں کو میاں صاحب کی یہ سیاست با لکل پسند نہیں آئی ۔ مُسلم لیگ کے کئی معتبر قاید ین پارٹی کو چھوڑ چُکے ہیں۔ اب مُسلم لیگ کی اندورنی حالت یہ ہے کہ کوئی بھی ذی شعور شخص مُسلم لیگ کی ٹکٹ پر الیکشن لڑنا نہیں چاہتا۔ کیونکہ میا ں صاحبان عدالتوں میں اپنی صفائی پیش کرنے میں بُری طرح ناکام رہے ہیں۔ لن ترانی اور چرب زبانی سے مقدمات کو جیتا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے بھارت کو خوش کرنے اور اپنی فوج کو زچ کرنے کے لئے ایسا بیان دیا ہے جو کہ بھارت کے مُفاد میں ہے اور وُہ پاکستان کی فوج کے خلاف پوائنٹ سکور کرنے لئے کبھی بھی استعمال کر سکتا ہے۔ ایسے لیڈر کو منتخب کرنا واقعی ووٹ کی تحقیر ہوگی۔پاکستان کو اب ایسی قیادت چاہئے ہے جو تمام اداروں کو ایک پیج پر لانے کی قابلیت رکھتی ہو۔ امید ہے اس دفعہ عوام نہا یت سوجھ بوُجھ کے ساتھ ووٹ ڈالیں گے اور ایسے مُخلص لوگوں کا انتخاب کریں گے جو وطن کی خدمت کرنے کا سچا جذبہ رکھتے ہیں۔ 

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں