فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر445

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر445
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر445

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ثریا نے لگ بھگ بائیس سال فلموں میں کام لیا اور اس عرصے میں صرف 65فلموں میں اداکاری کی ۔ پانچ یا چھ فلموں میں انہوں نے نے پلے بیک سنگر کی حیثیت سے کام کیا تھا۔ ان فلموں کی فہرست میں وہ فلمیں شامل نہیں ہیں جو نامکمل ہی رہ گئیں اور کبھی نمائش کے لیے پیش نہ کی جا سکیں۔ ان ہی میں ایک فلم ’’جانور‘‘ بھی شامل ہے ۔

’’جانور‘‘ کے بارے یہ داستان مشہور ہے کہ اس فلم کے ہیرو دلیپ کمار‘ ثریا پر مہربان ہوگئے اور انہوں نے ثریا کے حصول کی خاطر یہاں تک اظہار کر دیا کہ اگر ثریا نے ان کی خواہش پوری نہیں کی تو وہ اس فلم میں نہیں رہیں گی۔ ثریا نے یہ فلم خود ہی چھوڑ دی تھی اور بمبئی کی فلمی دنیا میں کافی عرصے تک اس بات کا چرچا رہا لیکن اس واقعے نے دوباتیں ثابت کردیں۔ ایک تویہ کہ ثریا نے اپنے آپ کو کبھی ارزاں جنس نہیں بنایا اور اپنے وقار اور عزت کی ہمیشہ حفاظت کی ۔ دوسرے یہ کہ انہوں نے اس وقت کے سب سے مقبول اور عظیم ہیرودلیپ کمار کو بھی درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ حالانکہ اس زمانے میں دلیپ کمار کا نام ہی جادوئی اثر رکھتا تھا اور بہت سی بڑی بڑی نامور فلمی ہیروئنیں ان کے ساتھ کام کرنے اور ان کی نگاہ التفات حاصل کرنے کی متمنی رہا کرتی تھیں۔ یہ واقعہ ثریا کے ذاتی کردار اور مضبوط قوت ارادی کا بھی مظہر ہے ۔ اس سے اندازہ ہو سکتاہے کہ وہ دوسری ہیروئنوں سے کس قدر مختلف تھیں ہمیشہ انہوں نے اپنی یہ وضع نبھائی اور اس روشن پر قائم رہیں۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر444 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ان کی ایک اور نامکمل فلم ’’پاگل خانہ ‘‘ تھی جس میں بھارت بھوشن ہیرو کا کردار کر رہے تھے ۔ بھارت بھوشن کا کچھ عرصے قبل انتہائی کس مپرسی کے عالم میں انتقال ہوا ہے۔ ان کی عمر 80سال کے لگ بھگ تھی ۔ حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ انہوں نے زندگی کے آخری ایام بہت مفلسی اور بے بسی کے عالم میں بسر کیے ۔ یہ بات ناقابل فہم ہے کیونکہ بھارت بھوشن اپنے دور میں کافی کامیاب ہیرو تھے اور جن کی بعض فلموں نے تو کامیابی کے ریکارڈ قائم کر دیے تھے اور ان کی مالی حالت بھی اچھی تھی۔ ان کے ایک بھائی محض ان کے بل بوتے پر فلم ساز بھی بن گئے تھے جس میں خود بھارت بھوشن بھی حصے دار تھے ۔ اس کے باوجود ان کی مفلسی اور کس مپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے کی بظاہر کوئی وجہ سمجھ نہیں آئی ۔ وہ کافی عرصے سے فلموں سے کنارہ کش وہ چکے تھے یا دوسری لفظوں میں فلمی صنعت نے ان سے کنارہ کر لیاتھا۔ اس لیے ان کے بارے میں معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔ فلمی دنیا کی یہ بھی عجیب ریت ہے کہ اپنے زمانے میں دولت اور شہرت میں کھیلنے والے فنکاروں نے زندگی کی شام بہت بری حالت میں گزاری ۔ ایسی کئی مثالیں بھارت اور پاکستان کی فلمی دنیا میں موجود ہیں۔ 

بھارت بھوشن کے سلسلے میں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ ان کی اکثر فلموں نے بے حد کامیابی حاصل کی مگر اس کامیابی کے پیچھے محمد رفیع کی آواز کو ہمیشہ نمایاں حیثیت حاصل رہی ہے۔ ایک زمانے میں بھارت بھوشن کو خوش قسمت ترین اداکار کہا جاتا تھا کیونکہ ان کی متعدد فلموں نے بے انتہا کامیابی حاصل کی تھی پھر بھی بھارت بھوشن کا شمار کبھی بھارت کے اول درجے کے اداکاروں میں نہیں کیاگیا۔ کہنے والے تو یہاں تک کہ کہتے ہیں کہ محمد رفیع کی موت ہی بھارت بھوشن کے زوال اور گمنامی ک کاسبب بنی ۔ یہی آواز تھی جو ان کے کرداروں کو زندگی اور مقبولیت دیا کرتی تھیں۔ 

ثریا بائیس سالہ فلمی زندگی میں بارہ تیرہ سال تک صف اول کی ممتاز فنکارہ کے مقام پر فائر ہیں۔ اداکارہ اور گلوکارہ کی حیثیت سے ان کا طوطی بولتا تھا اور وہ سب سے زیادہ معاوضہ وصول کرنے والی ہیروئن تھیں کیونکہ گلوگارہ بھی تھیں۔ ان کا نام فلموں کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا مگر جب پلے بیک گانوں کا رواج عام ہوگیا اور نور جہاں کے پاکستان آجانے کے بعد لتا منگیشکر کی آواز نے قیامت ڈھائی تر ثریا جیسی اداکارہ اور گلوکارہ کی قدرو قیمت میں کمی واقع ہونے لگی۔ دوسری خوب صورت اور اعلیٰ پائے کی ہیروئنوں کو لتا کی چمک دار آواز کا سہارا ملا تو ثریا کی اہمیت رفتہ رفتہ کم ہونے لگی۔ 

ثریا نے کامیابیوں ‘ کامرانیوں اور مقبولیت و محبوبیت کی تما م منزلیں طے کرلی تھیں۔ دولت کی کوئی کمی نہ تھی ۔ مزید دولت اور شہر ت کی انہیں خواہش نہیں رہی تھی ۔ شاید محبت میں ناکامی اور گھریلو زندگی کی تلخیوں اور مایوسیوں نے بھی انہیں دل برداشتہ کر دیا تھا۔ نانی کے انتقال اور اپنے ماموں اور والدہ کے شکنجے سے آزاد ہونے کے بعد انہوں نے خود مختار ‘ خاموش اور پرسکون زندگی بسر کرنے کا فیصلہ کیا اور 1962ء میں فلمی دنیا سے کنارہ کش ہوگئیں۔ کنارہ کشی بھی ایسی مکمل اور جامع کہ اس کے بعد نہ انہوں نے گویا گانا ریکارڈ کرایا اور نہ کسی فلم میں کام کیا۔ کسی اسٹوڈیو میں ان کا سایہ تک نہیں دیکھا گیا۔ نہ ہی فلمی تقاریب اور دوسری سوشل محفلوں میں وہ کبھی نظر آئیں۔ انہوں نے مکمل گوشہ نشینی اختیار کرلی۔ مقولہ ہے کہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ۔ فلمی دنیا میں تو یہ ایک معمول ہے۔ رفتہ رفتہ لوگ ثریا کو بھی بھولنے لگے لیکن کبھی کبھی اخبارات و جرائد میں ان کے نغمے اور پرانی فلموں نے ان کی یادوں کو ایک نئی زندگی بخشی ۔ اس طرح ثریا بھولے جانے کے باوجود نہ بھلائی جا سکیں۔ آج بھی لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگ انہیں یاد کرتے ہیں ۔ ہماری آس پاس درجنوں ایسے حضرات بھی ہیں جو آج بھی ہم سے ثریا کی باتیں کرتے ہیں۔ ان کی فلموں اور گانوں کی باتیں کرتے ہیں ۔ ویڈیو اور کیبل پر ان کی پرانی فلمیں دیکھنے کے منتظر رہتے ہیں۔ انہوں نے ثریا کو آج بھی نہیں بھلایا ہے۔ کئی جاننے والوں کی مستقل فرمائش رہتی ہے کہ ہم ثریا کے بارے میں لکھیں۔ 

کہتے ہیں ’’بھائی ، اتنا کچھ تو لکھ چکے ہیں ۔ ‘‘

وہ کہتے ہیں ’’مگر آپ نے ثریا جیسی فنکارہ کے ساتھ انصاف نہیں کیا ہے اس لیے اور لکھئے ۔‘‘

سوچتے ہیں اور کیا لکھیں؟ کاش ہماری ثریا سے ذاتی شناسائی اور ملاقات ہوتی تو ہم ان کے بارے میں مزید لکھتے مگر یہ موقع کبھی حاصل نہیں ہوا اور ہوتا بھی کیسے۔ نہ ہم کبھی بمبئی گئے اور نہ ہی ثریا کبھی پاکستان آئیں حالانکہ یہ ان کا آبائی ملک ہے۔ البتہ 1950ء سے ہم لاہور اور پاکستان میں ثریا کے پرستاروں کے بارے میں سنتے اور خبریں پڑھتے رہے ہیں جو ان کے نام پر اپنی جان تک دینے کو آمادہ تھے ۔ لاہور کا ایک درزی ‘ایک قصاب اور ایک صحافی ۔ یہ تین اشخاص ایسے ہیں جنہیں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ان سے ملاقات کا موقع بھی ملا۔ انہیں واقعی ثریا سے عشق تھا۔ انہوں نے جتنا ثریا کو یاد کیا اور اس کا ذکر کیا اگر اتنا اللہ کو یاد کیا ہوتا تو غالباً اولیاء میں شمار ہوتے ۔ ہمارے ایک فلمی صحافی دوست کا دعویٰ تھا کہ ثریا ان سے محبت کرتی ہے۔ انہیں خط لکھتی ہیں۔ دراصل یہ خط وہ ہی ثریا کی طرف سے لکھ لیا کرتے تھے اور دوستوں کو دکھایا کرتے تھے۔ شکستہ خط میں لکھی ہوئی یہ تحریریں بہت سادہ اور مختصر ہوا کرتی تھیں مگروہ انہیں اتنی بار پڑھ کر سناتے تھے کہ سننے والوں کو بھی حفظ ہوجاتی تھی ۔ وہ قسمیں کھایا کرتے تھے کہ یہ ثریا کا ہینڈ رائٹنگ ہے۔ ثریا کا ہینڈ رائٹنگ کسی نے دیکھا ہوتا تو اس کی تصدیق یا تردید کر سکتاتھا۔ اس لیے ان کی اس بات کو سبھی تسلیم کرلیا کرتے تھے لیکن کسی کو یقین نہیں تھا ۔ سب جانتے تھے کہ یہ ان کی یک طرفہ محبت ہے جسے وہ دو طرفہ عشق کا نام دے رہے ہیں۔ وہ گھنٹوں ہمیں ثریا کی باتیں سنایا کرتے تھے ۔ راتوں کو سڑکوں پر ہمارے گلے میں ہاتھ ڈال کر گھومتے تھے اور موضوع گفتگو صرف ایک ہی ہوتا تھا ....ثریا۔ اس دوران میں ہم محض خاموش سامع کی حیثیت رکھتے تھے ۔ 

(جاری ہے )

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ