سیاسی آمریت کا عفریت:

سیاسی آمریت کا عفریت:

اس وقت سیاسی آمریت کا عفریت اپنی تمام تر نحوستوں کے ساتھ جمہوریت کے حسیں روپ میں وطنِ عزیز کے مقدس وجود کو مکمل طور پر جکڑ چکا ہے۔ بھولی بھالی عوام اور نام نہاد دانشور اس حسین سانپ کے نقش و نگار میں اس قدر کھو گئے ہیں کہ انہیں اس کا خطرناک زہر نظر ہی نہیں آ رہا۔ یہ اسی جعلی جمہوریت کے گھناؤنے کارنامے ہیں کہ آج ہر پاکستانی جو محض پانچ سال قبل 58 ہزار روپے کا مقروض تھا، اب سوا لاکھ روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔ آئی ایم ایف کے قرض کے سود کی پہلی واجب الادا قسط 3 بلین ڈالر (یعنی تین کھرب اڑتالیس اَرب روپے سے بھی زیادہ) فوری ادا کرنی ہے اور غیر ملکی قرضے کی مالیت 92 اَرب ڈالر ہو چکی ہے۔

کرپشن کی داستان کچھ یوں ہے کہ بڑے مگرمچھوں کو للکارنے کی جرات تو رہی نہیں، نہ ہی ان کی کرپشن کا کوئی حساب کتاب ہے، جن چھوٹے لوگوں کا پتا چل سکا ان میں اکیلے احد چیمہ نے 1850 اَرب روپے کی کرپشن کی ہے اور اداروں کی بے بسی ایسی ہے کہ وہ یہ رقم واپس بھی نہیں کرا سکے۔

الیکشن اب ایک ایسا دروازہ بن چکا ہے جہاں سے شیطانیت اپنے مکروہ عزائم کے ساتھ داخل ہوتی ہے اور جمہوریت کے لبادے میں پانچ سال تک عوام کا جی بھر کر استحصال کرتی رہتی ہے۔ اس کریہہ نظام کو برقرار رکھنے میں جہاں دیگر طاقتیں معاون ہیں وہاں ایوانِِ عدل میں بیٹھی عزت مآب شخصیات بھی اپنا بلواسطہ کردار ادا کرتی ہیں، جنہیں ہر مرتبہ الیکشن سے کچھ عرصہ قبل ہی بہت سے از خود نوٹس یاد آجاتے ہیں، جنہیں نہ تو التواء میں پڑے 38913 کیس نمٹانے کی فرصت ملتی ہے اور نہ ہی کیمرے کی آنکھوں کے سامنے سو لوگوں کو گولیوں سے بھوننے والوں کی گرفتاری کا حکم دینے کی، اگر فرصت ملتی ہے تو وقت پر الیکشن کرانے کا فرمان صادر کرنے کی اور احتساب کے دلاسے دینے کی۔

دوسری طرف ضمیر فروش صحافیوں، مصلحتوں کے جال میں جکڑے ہوئے قلمکاروں اور کرپٹ مافیا سے خفیہ مراعات لیتے اینکروں کو بادشاہوں کے قصیدے اور ظالمانہ نظام کی مدح سرائی تو یاد آتی ہے مگر جعلی جمہوریت کے مکروہ چہرے اور اس کی خباثتوں کا پردہ چاک کرنے اور اس میں اصلاحات کی تجاویز دینے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔

جمہوریت میں پارلیمنٹ کا کام ملک اور اس کی عوام کے حق میں قانون سازی کرنا اور سپریم کورٹ کا کام بنائے گئے قوانین کی تشریح کرنا اور اس بات کا جائزہ لینا ہوتا ہے کہ کہیں کوئی قانون ملکی سالمیت یا آئین یا اس کی روح کے منافی تو نہیں بن رہا، مگر بدقسمتی سے دونوں ادارے عملی طور پر ہر مرتبہ ان فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف پارلیمنٹ نااہل اور چور کو پارٹی سربراہ بنانے کا قانون منظور کرتی ہے تو دوسری طرف اعلی عدلیہ بغیر آئین کے آرٹیکل 62، 63 لاگو کیے ایسا نامزدگی فارم منظور کرتی ہے جس کے مطابق امیدوار اپنے موجودہ اثاثے نہیں بتائے گا، اپنی دوہری شہریت ظاہر نہیں کرے گا، تعلیمی قابلیت اور ڈگری نہیں بتائے گا، انکم ٹیکس اور زرعی ٹیکس کی معلومات نہیں دے گا، بچوں کی بجائے زیرِ کفالت لوگوں کا بتائے گا، بیوی بچوں کے اثاثے ظاہر نہیں کرے گا، بنک اور دیگر مالیاتی اداروں سے معاف کرائے گئے قرضوں کو ظاہر نہیں کرے گا، تھانوں اور عدالتوں کا مجرمانہ ریکارڈ ظاہر نہیں کرے گا، پچھلے تین سالوں میں غیر ملکی دوروں کا حساب نہیں دے گا، واجب الادا یوٹیلیٹی بلز ظاہر نہیں کرے گا اور کسی طرح کی غلط معلومات جمع کرانے پر الیکشن کمیشن کی طرف سے اسمبلی کی رکنیت ختم نہیں ہوگی۔۔۔۔اس فارم کے تحت تو جیل میں پڑا بڑے سے بڑا مجرم بھی الیکشن لڑنے کے لئے اہل ہے۔

مغربی جمہوریت کا راگ الاپتے دانشور اور بغیر کسی قسم کی اصلاحات کے باربار فقط الیکشن کرانے کو تمام مسائل کا حل سمجھنے والے تجزیہ نگار کسی ایک مغربی ملک کی مثال ہی دے دیں جہاں اس قدر اندھیر نگری مچی ہو اور ہر غیر اخلاقی فعل کو جمہوریت کے پردے میں چھپایا جاتا ہو؟ 

پاکستانی نظامِ انتخاب کی منظر کشی شاعر نے کچھ یوں کی ہے:

یہ انتخابی نظام ہے سبز باغ ایسا 

جو مفلسوں کے لئے اْگاتا ہے بس اْمیدیں

کہ جس کا پھل بس چند خاندانوں کا رزق ٹھہرے 

جو قوم کی سمت صرف چھلکے اْچھالتے ہیں

نچوڑ لیتے ہیں قطرہ قطرہ لہو رگوں سے 

اور اْس سے اپنی غلیظ نسلوں کو پالتے ہیں

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...