اسرائیل کے مظالم کا جواب، فلسطینیوں نے ایسی پتنگیں بنا لیں کہ پورے اسرائیل میں کھلبلی مچ گئی، ان کی کیا خاصیت ہے؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

اسرائیل کے مظالم کا جواب، فلسطینیوں نے ایسی پتنگیں بنا لیں کہ پورے اسرائیل ...
اسرائیل کے مظالم کا جواب، فلسطینیوں نے ایسی پتنگیں بنا لیں کہ پورے اسرائیل میں کھلبلی مچ گئی، ان کی کیا خاصیت ہے؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

یروشلم(نیوز ڈیسک) فلسطین کے مظلوم نوجوانوں کے پاس جنگی جہاز ہیں نا میزائل، ان کے پاس تو بندوق اور پستول بھی نہیں، لیکن جائے حیرت ہے کہ ان کی پتنگوں نے غاصب اسرائیل پر ایسا خوف مسلط کیا ہے کہ سفاک اسرائیلی فوج کا سارا غرور مٹی میں مل کر رہ گیا ہے۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق فلسطینی نوجوانوں نے ایسی بڑی بڑی پتنگیں ایجاد کر لی ہیں جن کے ساتھ آتش گیر مادے کے ڈبے باندھے جا سکتے ہیں اور یہ جہاں گرتی ہیں وہیں آگ لگا دیتی ہیں۔ فلسطینی نوجوان آتشی پتنگ کو اڑاتے ہیں اور اس کے ساتھ بندھی رسی کو آگ لگا دیتے ہیں۔ جب تک پتنگ مطلوبہ ہدف پر جا کر گرتی ہے تو جلتی ہوئی رسی کی آگ آتش گیر مادے تک پہنچ چکی ہوتی ہے جس سے دھماکے کے ساتھ آگ بھڑک اٹھتی ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ گزشتہ صبح بھی غزہ کے علاقے سے آتشی پتنگیں اُڑائی گئیں جن کی وجہ سے اسرائیل پر تین مقامات پر آگ لگ گئی۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ کیبوٹس نیر آر م کے مقام پر ایک بڑی آگ لگی جبکہ غزہ کی پٹی کے شمال مشرقی علاقے میں بھی فلسطینی پتنگ کی وجہ سے آگ بھڑک اُٹھی۔ اسی طرح شمال میں موشاف نتیو حسارا کے علاقے میں بھی آگ لگی ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ فلسطینی نوجوان آتشی پتنگوں سے فصلوں اور جنگلات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ جب یہ پتنگ کسی کھیت یا جنگل میں گرتی ہے تو اس سے آگ بھڑک اٹھتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے کروڑوں کا نقصان ہو جاتا ہے۔

اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کے احتجاجی مظاہروں کی تازہ ترین لہر کا آغاز مارچ کے آخر میں ہوا اور اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس احتجاج کے دوران سینکڑوں کی تعداد میں آتشی پتنگیں اور ہیلیم گیس کے غبارے اسرائیل کی جانب چھوڑے جا چکے ہیں۔ گزشتہ روز لگنے والی آگ کی وجہ سے اسرائیلی حکام ہائی وے 232 کو بند کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اسرائیلی فائر ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ جنوبی علاقے کی یہ شاہراہ آگ پر مکمل قابو پائے جانے تک بند رہے گی۔

مزید : بین الاقوامی