ترکی کے لڑاکا طیارے شام کے بعد اب یورپی ملک میں داخل ہوگئے، سب سے بڑا خطرہ۔۔۔

ترکی کے لڑاکا طیارے شام کے بعد اب یورپی ملک میں داخل ہوگئے، سب سے بڑا خطرہ۔۔۔
ترکی کے لڑاکا طیارے شام کے بعد اب یورپی ملک میں داخل ہوگئے، سب سے بڑا خطرہ۔۔۔

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک)روس کے ساتھ ترکی کی کشیدگی ہوئی تو اس کا جنگی طیارہ مار گرایا، پھر اس کی افواج شام میں داخل ہوئیں، اور اب تازہ ترین واقعے میں ترک جنگی جہاز یونان کی فضائی حدود میں داخل ہو گئے ہیں۔فضائی حدود کی کھلی خلاف ورزی پر یونان بھی سخت برہم ہو گیا ہے اور خطرہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیاں کشیدگی کسی بھی لمحے سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔

دی گارڈین کے مطابق یہ واقعہ میں یونان میں قانونی کاروائی کا سامنا کرنے والے آٹھ ترک فوجی افسران کی مقدمے سے قبل رہائی کے فیصلے کے باعث پیش آیا ہے۔ یہ افسران دو سال قبل ترکی میں بغاوت ناکام ہونے کے بعد ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر یونان فرار ہو گئے تھے اور تب سے یونان میں ہی ہیں۔ ترک حکومت ان کی حوالگی کا مطالبہ کرتی رہی ہے لیکن یونان کی جانب سے اس معاملے میں پس و پیش کی جاتی رہی ہے۔ اب ان افسران کو ملک بدر کرنے کی بجائے رہا کرنے پر ترکی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یونان کو وارننگ دینے کیلئے اپنے F-16جنگی طیارے اس کی فضائی حدود میں داخل کر دئیے ہیں۔ یہ جنگی جہاز 20منٹ سے زائد وقت کیلئے اجئین آئلز کے علاقے کے اوپر پرواز کرتے رہے۔

مفرور ترک افسران کی مقدمے کی باقاعدہ کارروائی شروع ہونے سے قبل رہائی کو ترکی نے یونان کی جانب سے دہشتگردوں کو تحفظ دئیے جانے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ ترکی کے وزیراعظم بکر بزداغ کا کہنا تھا کہ ترکی ان افسران کو ڈھونڈ لے گا، یہ جہاں کہیں بھی ہیں انہیں پکڑ کر واپس ترکی لایا جائے گا۔ انہوں نے یونانی وزیراعظم الیکسس سپراس کو بھی یہ کہتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے ترکی سے فرار اختیار کرنے والے باغی فوجی افسروں کو اپنے ہاں پناہ دی ہوئی ہے اور انہیں ترکی کے حوالے نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا ”ترکی میں ناکام بغاوت کے بعد یونانی وزیراعظم کی جانب سے جاری کئے گئے بیان کے بعد ہماری رائے مثبت تھی کہ ان افسران کو ترکی کے حوالے کیا جائے گا۔ ہم نے سوچا تھا کہ مسٹر سپراس اپنے وعدے کی پاسداری کریں گے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہم نے دیکھا کہ عدالتی حکام کو متحرک کیا گیا لیکن ان افراد کو ترکی کے حوالے نہیں کیا گیا۔“

یاد رہے کہ جولائی 2016ءمیں ترک فوج نے صدر طیب اردوان کی حکومت کے خلاف بغاو ت کی کوشش کی تھی جسے عوام نے ناکام بنا دیا تھا۔ اس بغاوت کے دوران آٹھ سینئر فوجی افسران ہیلی کاپٹر کے ذریعے یونان فرار ہوگئے تھے۔ ان کا ہیلی کاپٹر بغاوت کے اگلے روز یونانی شہر الیگزینڈرو پولس کے سرحدی علاقے میں جااترا تھا اور اس وقت سے اب تک یہ یونان کی تحویل میں ہیں۔

مزید : بین الاقوامی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...