’مجھے جج نے اپنے کمرے میں بلایا اور کہا۔۔۔‘ 23 خنجر کھانے والی خدیجہ کےساتھ جج نے کیا کیا؟ جان کر آپ کا اس نظام سے اعتبار ہی اُٹھ جائے گا

’مجھے جج نے اپنے کمرے میں بلایا اور کہا۔۔۔‘ 23 خنجر کھانے والی خدیجہ کےساتھ ...
’مجھے جج نے اپنے کمرے میں بلایا اور کہا۔۔۔‘ 23 خنجر کھانے والی خدیجہ کےساتھ جج نے کیا کیا؟ جان کر آپ کا اس نظام سے اعتبار ہی اُٹھ جائے گا

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) ظالم کے خلاف انصاف کی اپیل لے کر مظلوم عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے لیکن اگر منصف ہی ظالم کا سفارشی بن جائے تو انصاف کی امید کس سے کی جائے؟ آپ کو یاد ہو گا کہ تقریباً دو سال قبل قانون کی طالبہ خدیجہ صدیقی کو اس کے کلاس فیلو شاہ حسین نے سرعام خنجر کے 23 وار کرکے لہو لہان کردیا۔ دو سال تک یہ مقدمہ چلتا رہا لیکن خدیجہ کے جسم پر زخموں کے درجنوں نشانات، تمام تر شواہد، اور گواہوں کے بیانات کے باوجود عدالت نے فیصلہ سنایا کہ ملزم معصوم ہے اور اسے بری کیا جاتا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے نے ہر شریف اور قانون پسند شہری کو ہلا کر رکھ دیا ہے، یعنی ایک بار پھر اس ملک کے بے بس عوام کو بتا دیا گیا ہے کہ طاقت اور حیثیت والے لوگ انصاف کا دن دہاڑے اور سب کی آنکھوں کے سامنے بھی قتل کر دیں تو ان کا کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ وطن عزیز میں انصاف کو کیسے پاﺅں تلے روندا گیا ہے اس کا لرزہ خیز احوال خود مظلوم خدیجہ نے بیان کیا ہے۔

ویب سائٹ Parhloکے مطابق خدیجہ نے سوشل میڈیا پوسٹ کی گئی اپنی ایک ویڈیو میں لرزہ خیز انکشاف کیا ہے کہ جب اس مقدمے کی کاروائی جاری تھی تو ایک دن جج نے انہیں اپنے چیمبر میں بلایا اور ملزم کے والد کے سامنے پوچھا کہ کیا وہ یہ کیس واپس نہیں لے رہیں؟ جج کا کہنا تھا کہ قتل کے بھی بہت سے ایسے مقدمات ہیں جن میں ملزم کو معاف کردیا گیا اور یہ تو قتل کا کیس بھی نہیں ہے۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ خود جج کسی ملزم کی اس طرح حمایت کر سکتا ہے؟

میڈیا پر یہ خبر بھی سامنے آچکی ہے کہ ناصرف جج نے خدیجہ کو کیس واپس لینے کیلئے کہا بلکہ گورنر پنجاب نے بھی انہیں کیس واپس لینے کیلئے قائل کرنے کی کوشش کی۔ حیرت ہے کہ ایک سفاک ملزم کو تحفظ دینے کیلئے عدالتیں اور اعلیٰ ترین سیاسی حکام اس حد تک جاسکتے ہیں۔ وہ تو بھلا ہو عام شہریوں کا جنہوں نے سوشل میڈیا پر شوربرپاکیا اور مظلوم خدیجہ کی آواز سپریم کورٹ تک جاپہنچی۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے اس کیس کا ازخود نوٹس لے لیا ہے اور 10 جون کو سپریم کورٹ میں اس کیس کی سماعت کی جائے گی۔ اب ایک بار پھر یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ دن دیہاڑے ایک نہتی لڑکی کے جسم میں 23 بار خنجر گھونپنے والے سفاک ملزم کو ’معصوم‘ قرار نہیں دیا جائے گا بلکہ خوف خدا رکھنے والا کوئی منصف اسے اس کے انجام کو پہنچائے گا ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /علاقائی /پنجاب /لاہور