اصغر خان کیس کے فیصلے پر عمل در آمد ہونا چاہئے :سیاسی رہنماﺅں کی رائے

اصغر خان کیس کے فیصلے پر عمل در آمد ہونا چاہئے :سیاسی رہنماﺅں کی رائے
اصغر خان کیس کے فیصلے پر عمل در آمد ہونا چاہئے :سیاسی رہنماﺅں کی رائے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں نے کہا ہے کہ اصغرخان کیس کا فیصلہ آتا چاہئے اور اس پر عمل در آمدبھی ہونا چاہئے ۔یہ سیاسی بدعتیں ہیں ان کوسیاست سے ختم کیا جائے ۔ جن لوگوں نے ماضی میں آئی ایس آئی سے پیسے لئے ان کو پارٹی ٹکٹ نہیں ملنے چاہئے ۔

جیو نیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک “ میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما طارق فضل چودھری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے الیکشن ہونے سے دوماہ قبل ترقیاتی کام بند کرا دینا نامناسب ہے۔ اس سے عوام کو بہت سے مشکلات کاسامنا کرنا پڑا ہے اور ان کی فلاح وبہبود کے کام ادھورے رہ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اصغر خان کیس کی باقاعدہ تحقیقات ہونی چاہئے اور ہورہی ہیں۔ نواز شریف کی جانب سے بیان جمع کروایا جا چکا ہے اور جو بھی بات ہم سے پوچھی جائے گی اس کا جواب دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ اگر اس وقت کسی بھی سیاسی جماعت کو فنڈنگ ہوئی تھی تو نہیں ہونی چاہئے تھی اور اگر آج بھی کسی سیاسی جماعت کی سرپرستی کی جارہی ہے تو نہیں ہونی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ اصغر خان کیس پر اگر کارروائی ہوتی ہے تو یہ خوش آئند ہے اور ہم اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

تحریک انصاف کے رہنما علی محمد نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے کاغذات نامزدگی کے فارم میں ترمیم کی حمایت نہیں کی تھی، کاغدات نامزدگی کمیٹی میں ہمارے تین لوگ تھے جن کے سامنے اس بات کو ڈسکس کیا گیا جس پر تحریک انصاف کے ارکان نے مخالفت کی اور کمیٹی کا بائیکا ٹ کیا جس پر چھپا کر اسمبلی کے فورم پر اس کو منظور کروا لیا گیا ۔ اس حوالے سے شریں مزاریں کا موقف بھی آگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کاغذات نامزدگی کے حوالے سے سپریم کورٹ نے بھی لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی توثیق کردی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر غلام مصطفی کھر اور لیاقت جتوئی نے آئی ایس آئی سے پیسے لئے تھے تو ان کو ٹکٹ نہیں ملنی چاہئے اور عمران خان کو فوری یہ فیصلہ کرنا چاہئے ۔

پیپلز پارٹی کے رہنما مولابخش چانڈیونے کہا ہے کہ نواز شریف غیبی قوتوں کی طرف اشارے کرتے ہیں لیکن نام نہیں لیتے ۔ نواز شریف کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ پہلی بار اکیلے انتخاب لڑ رہے ہیں اور کسی طرف سے حمایت کی یقین دہانی نہیں کروائی گئی ۔ نواز شریف کو ہمت کرنی چاہئے کہ یہ سارا کچھ جو ان کے سامنے آرہا ہے۔ یہ ان کا اپنا ہی کیا دھرا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اصغر خان کیس میں جو جرم ہوا ہے اس کا فیصلہ آنا چاہئے اور اس پر عمل در آمد ہونا چاہئے ۔ یہ سیاسی بدعتیں جو ضیاءالحق کے وارثوں نے سیاست میں شامل کیں ان بدعتوں کو ختم ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا علی محمد خان کو تحریک انصاف ٹکٹ نہیں دیگی کیونکہ یہ تحریک انصاف کی پہچان بن چکے ہیں اور تحریک انصاف لوٹوں کی بقاءبن چکی ہے اب دیکھیں لوٹوں میں ان کو ٹکٹ ملتی ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف لوٹوں کی کشتی بن چکی ہے اوراتنا بوجھ بن گیا ہے کہ یاتویہ ڈوبے گی اوریا اس میں سے اچھے اچھے لوگوں کونکالنا پڑے گا ۔

مزید : قومی