کیا سعودی عرب نے واقعی جلدی عید کرنے پر کفارہ ادا کرنے کا اعلان کر دیا ؟سوشل میڈیا پر الجزیرہ کے حوالے سے چلنے والی ویڈیو کی حقیقت جانئے

کیا سعودی عرب نے واقعی جلدی عید کرنے پر کفارہ ادا کرنے کا اعلان کر دیا ؟سوشل ...
کیا سعودی عرب نے واقعی جلدی عید کرنے پر کفارہ ادا کرنے کا اعلان کر دیا ؟سوشل میڈیا پر الجزیرہ کے حوالے سے چلنے والی ویڈیو کی حقیقت جانئے

  


لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن )سعودی عرب میں جلد عید منائے جانے کے حوالے سے جاری قیاس آرائیو ں کی  اصل حقیقت سامنے آگئی ۔تفصیلات کے مطابق الجزیرہ نیوز کی ایک خبر کی ویڈیو کے ساتھ سوشل میڈ یا قیاس آرائیاں زیر گردش ہیں کہ خیبر پختونخواہ حکومت کی طرح سعودی عرب میں بھی عید جلد منائی گئی ہے جس کے باعث سعودی لوگوں نے ایک روزہ کم رکھا ہے ۔ادھر غیر ملکی جریدے ’مارننگ سٹار‘نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ سعودی حکام نے غرو ب آفتاب کے چند منٹ بعد ہی چاند دیکھنے کا اعلان کیالیکن چاند نظر نہیں آیا تھا ۔ڈیلی پاکستان اب ان قیاس آ رائیوں کی حقیقت سامنے لے آیا ہے ،الجزیرہ نیوز کی جس ویڈیو کو بنیاد بنا کر یہ گمراہ کن خبر سوشل میڈ یا پر پھیلائی جا رہی ہے وہ ویڈیو در اصل 2019کی نہیں بلکہ 2013کی ہے ۔

2013میں سعودی عرب میں منگل کو 28واں روزہ ہونے کے باوجود عیدالفطر کا چاند دیکھنے کے لئے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس ہوا  تاہم، ملک کے زیادہ تر علاقوں میں چاند نظر نہیں آیا۔اُس وقت  سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی نے اجلاس کے بعد اعلان کیا تھا کہ ہلال کمیٹیوں کا اجلاس بدھ کو دوبارہ ہوگاجس میں نئے سرے سے چاند نظرآنے یا نہ آنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔2013میں 28ویں روزے کو رویت ہلا ل کمیٹی کا اجلاس ہونے کی حیرت انگیز  وجہ یہ تھی کہ اس  سال 26ویں روزے کو افق پر نظر آنے والے چاند کا حجم بہت کم ہو گیا تھا اور پورے سعودی عرب میں یہ بحث شروع ہو گئی تھی کہ رواں سال ایک روزہ  قضا ہو  گیا ہے جس کے بعد اس بات کے امکانات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ عید کا چاند 28ویں روزے کو نظر آ سکتا ہے  لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوا تھا اور رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 29ویں روزے کو بھی بیٹھا تھا ۔تاہم تقریباً 36سال پہلے سعودی عرب میں ایسا ہو چکا ہے کہ جب 29ویں روزے کو سحری کے وقت عید کا اعلان کیا گیا تھا اور شہریوں نے ایک روزہ قضا کیا تھا ۔اس وقت رویت ہلال کمیٹی کی اس غلطی کا اعتراف سعودی سپریم کورٹ نے بھی کیا تھا ۔

اس حوالے سے جب ممتاز عالم دین اور پاکستان علما کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر محمود اشرفی سے گفتگو  کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کے حوالے سے اکثر و بیشتر بے بنیاد ، من گھڑت اور جھوٹی خبریں مذموم مقاصد کے تحت پھیلائی جا رہی ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق واسطہ نہیں ہے ،28 روزوں اور رویت ہلال کے حوالے سے چلنے والی یہ ویڈیو بھی من گھڑت ، جھوٹی اور بہت پرانی ہے جسے اس انداز میں چلایا جا رہا ہے جیسے رواں سال سعودی عرب میں ایسا واقعہ پیش آیا ہو ۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں عرب لیگ کے اجلاس میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبد العزیز کے حوالے سے بھی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ سعودی حکومت وزیر اعظم عمران خان کے رویے سے سخت ناراض ہے ،ایسی کوئی بات نہیں ہوئی نہ ہی عمران خان نے کوئی بد تہذیبی کی اور نہ ہی سعودی حکومت ان سے ناراض ہے،یہ صرف سوشل میڈیا کی افواہیں ہیں،وزیر اعظم عمران خان نے تو اپنی ضیافت اور روضہ رسول ﷺ کا دروازہ کھولنے پر خادم الحرمین الشریفین کا  خصوصی شکریہ ادا کیا تھا۔علامہ طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کو حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف شہروں پر کئے جانے والے میزائل حملوں پر زیادہ کھل کر پاکستان کا موقف بیان کرنا چاہئے تھا ۔

واضح رہے کہ اسلامی کلینڈر کے مطابق ایک ماہ زیادہ سے زیادہ 30اور کم سے کم 29دن پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگر نئے مہینے کا چاند 29ویں دن نظر آئے تو مہینہ بھی 29ہی دن کا شمار ہوتا ہے بصورت دیگر مہینہ 30دن کا ہوتا ہے۔ 28ویں روزے کو چاند نظر آنے کا مطلب یہ ہوتا کہ گذشتہ مہینے یعنی رمضان کا چاند دیکھنے میں کوئی مغالطہ ہوا تھا، جس کے سبب ایک روزہ قضا کرنا پڑتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویڈیو دیکھیں ۔۔۔۔۔۔

مزید : عرب دنیا