محنت کا جادو

محنت کا جادو

  

دور دراز کے کسی قصبے میں ایک محنتی لکڑ ہارا رہتا تھا۔وہ دن بھر قریبی جنگل میں لکڑیاں کاٹتا اور شام ہوتے ہی وہ لکڑیاں قصبے کے بازار میں بیچ آتاہے۔ان لکڑیوں کے بدلے اسے جتنے پیسے ملتے وہ بہت زیادہ تونہ ہوتے تھے،مگر سادہ مزاج لکڑ ہارے اور اس کی بیوی کی گزر بسر کے لئے کافی تھے۔

لکڑہارے کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی، گھر کا سونا پن دور کرنے اور اپنی بیوی کا دل بہلانے کے لئے اس نے ایک طوطا پال رکھا تھا۔طوطے کی ٹیں ٹیں اور بول چال چھوٹے سے گھر میں رونق لگائے رکھتی تھی۔اس طوطے کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اس کے پروں میں دو چمکتے ہوئے سنہرے پر بھی تھے۔ان پروں کی چمک اتنی تھی کہ وہ سونے کے معلوم ہوتے تھے۔سارے قصبے میں لکڑ ہارے کے اس طوطے کی دھوم تھی۔

بہت سے لوگوں نے لکڑ ہارے اور اس کی بیوی سے اس طوطے کو منہ مانگے داموں میں خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا،مگر دونوں میاں بیوی اس طوطے کو اپنی اولاد کی طرح پیار کرتے تھے،اس لئے انھوں نے طوطے کو فروخت کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

اس قصبے میں رحمو نام کا ایک لڑکا بھی رہتا تھا۔جو قصبے کے واحد حلوائی کا اکلوتا،مگر نکما بیٹا تھا۔حلوائی کی شدید خواہش تھی کہ رحمو کاروبار میں اس کا ہاتھ بٹائے، مگر رحمو کا کام دن بھر شیخیاں بگھارنا اور جادوئی کہانیاں پڑھنا تھا۔

اس نے جانے کہاں سے سن لیا کہ لکڑہارے کا طوطا کوئی عام طوطا نہیں ہے،بلکہ یہ ایک جادوئی طوطا ہے،اس کے دونوں سنہرے پروں کو روشنائی میں ڈبو کر جو بھی لکھا جائے گا وہ سچ ہو جائے گا۔وہ لکڑ ہارے اور اس کی بیوی کے پیچھے پڑ گیا کہ وہ کسی نہ کسی طرح طوطا اس کے ہاتھ فروخت کردیں، مگر دونوں نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی صاف انکار کر دیا۔

ان کے اس حد درجہ انکار نے رحمو کا شک یقین میں بدل دیا کہ ہونہ ہو یہ طوطا جادوئی طوطا ہے۔رحمو طوطا حاصل کرنے کے لئے دن بھر مختلف منصوبے بناتا رہتا تھا۔بہت سوچ بچار کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ اس طوطے کو چرائے بغیر کوئی چارہ نہیں۔

لکڑ ہارے کے گھر کی دیوار زیادہ اونچی نہیں تھی۔رحمو کے خیال میں رات کے اندھیرے میں وہ آسانی سے اس دیوار کو پھلانگ کر طوطے کا پنجرہ اْٹھا کے لا سکتا تھا۔ایک رات جب سب گہری نیند سو رہے تھے،رحمو اپنے گھر سے نکلا۔وہ احتیاط سے چلتا ہوا لکڑ ہارے کے گھر جا پہنچا۔

آگے پیچھے نظر دوڑا کر وہ دیوار پر چڑھ گیا،مگر جب دوسری طرف اْترنا چاہا تو ایک دم اس کا پاؤں پھسلا اور زور دار آواز کے ساتھ صحن میں جاگرا۔لکڑہارا صحن میں بچھی ہوئی چار پائی پر سورہا تھا۔وہ زور دار آواز سے آنکھیں ملتا ہوا جاگ گیا۔

حواس بحال ہونے پر کیا دیکھتا ہے کہ گھر کے صحن میں ایک اجنبی شخص سر سے لے کر پاؤں تک کالے کپڑوں اور چہرے پر نقاب لگائے پڑا کراہ رہا ہے۔لکڑہارے نے چور چور،کا شور مچا دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے آس پاس کے گھروں سے لوگ ڈنڈے لے کر لکڑ ہارے کے گھر میں داخل ہو گئے اور اس کا نقاب اْلٹ دیا۔

رحمو کا چہرہ سب کے سامنے آگیا۔لوگوں پر حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔رحمو کے ابا سب کی نظر میں ایک شریف انسان تھے،کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ان کا بیٹا اس طرح چوری کرتے ہوئے پکڑا جائے گا۔رحمو کا بھی شرم اور درد سے حال بْرا تھا۔اس کا دل چاہتا تھا کہ زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے،تاکہ اسے لوگوں اور اپنے ابا کا سامنا نہ کرنا پڑے،مگر اب پچھتائے کیا جب چڑیا چگ گئی کھیت۔ اس کے والد کو گھر سے بلوایا گیا۔وہ آئے اور غصے میں لگے اس کو مارنے پیٹنے۔

بڑی مشکل سے قصبے والوں نے رحمو کو بچایا۔ سب اس کی اس گھٹیا حرکت کی وجہ جاننا چاہتے تھے۔پہلے تو ندامت کے مارے رحمو کی آواز نہ نکلی،مگر جب لوگوں کا دباؤ بڑھا تو نا چار اس نے اپنا منہ کھولا اور اپنی بے وقوفی کا سارا ماجرا قصبے والوں کو سناڈالا۔

اس کی بات سن کر کچھ لوگ تو قہقہہ لگا کر ہنس پڑے اور رحمو کا مذاق اْڑانے لگے، جب کہ کچھ لوگ،جواب بھی بھوت پریت اور جادو ٹونے کو حقیقت مانتے تھے،وہ اس بات کو آزمانے کا مشورہ دینے لگے۔لکڑ ہارا اور اس کی بیوی اس بات کے سختی سے مخالف تھے،کیونکہ اس سے ان کے طوطے کو تکلیف پہنچتی،مگر جب سب کا اصرار بہت بڑھا تو انھیں بھی اجازت دینا پڑی۔

طوطے کی ٹیں ٹیں کی پروانہ کرتے ہوئے،اس کے دونوں سنہرے پَروں کو کتر دیا گیا۔روشنائی لاکر، رحموکو دی کہ وہ جس طرح چاہے،اپنی اور مجمع میں موجود اپنے جیسے دوسرے لوگوں کی تسلی کرلے۔اس نے ایک چھوٹا سا پرندہ بنایا اور انتظار کرنے لگا کہ کب اس کے بنائے ہوئے پرندے میں جان آئے، مگرکافی دیر بعد بھی اس تصویر میں کسی قسم کے زندگی کے آثار نظر نہ آئے تو رحمو کی پشیمانی اور بھی بڑھ گئی۔

وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے لکڑ ہارے کے قدموں میں گر پڑا اور معافی مانگنے لگا۔ لکڑ ہارے نے اسے اْٹھا کر گلے سے لگا کر کہاکہ بیٹا!میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھ۔ا صل جادو انسان کے اندر ہوتاہے اور وہ ہے محنت کا جادو۔

اپنے بازووں کے زور پر حاصل کی گئی دولت چاہے جتنی بھی کم ہو،مگر اس میں برکت اور سکون دنیا کے کسی بھی خزانے سے زیادہ ہوتاہے۔ لکڑہارے کی باتوں نے رحمو کی آنکھیں کھول دیں۔ وہ آگے بڑھ کر اپنے والد کے گلے لگ گیا اور ان سے معافی مانگ کر اس نے آئندہ ان کا دست وبازو بننے کا عہد کیا اور محنت سے روزی کمانے لگا اور محنت کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا اْصول بنالیا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -