رونے والا درخت

رونے والا درخت

  

ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ایک جل پری سمندر کے کنارے ایک غار میں رہتی تھی۔شام کے وقت جب مچھیرے اپنی کشتیوں میں بیٹھ کر مچھلیاں پکڑنے آتے،تو جل پری کشتی کے ساتھ ساتھ تیرا کرتی اور اْن کی باتیں سنا کرتی تھی۔مچھیرے مزے مزے سے اپنے خوب صورت گاؤں،ہرے بھرے کھیتوں اور رنگ برنگ کے پھولوں کا ذکر چھیڑتے اور یہ جل پری بڑے شوق سے ان کی باتیں سنتی اور حیران ہوتی۔

آخر اس کے دل میں یہ سب خوب صورت چیزیں دیکھنے کا شوق پیدا ہو گیا۔ایک دن جل پری نے اپنے دل میں اس دریا میں تیرنے کا ارادہ کیا،جوان مچھیروں کے گاؤں کے ساتھ ساتھ بہتا ہوا سمندر میں گرتا تھا۔

ایک رات جب چاند نے سمندر کو اپنی کرنوں کانورانی لباس پہنا دیا،تو جل پری اْس دریا کی طرف چل کھڑی ہوئی۔

دریا کا میٹھا پانی اسے بہت عجیب معلوم ہوا۔مگر جل پری خوشی سے دریا میں تیرتی رہی اور ہرے بھرے گھاس کے میدانوں کے پاس سے گزر گئی،جہاں گائیں اور بھینسیں گھاس چررہی تھیں۔انہیں دیکھ کر وہ ڈر گئی اور پانی میں پانی چمکدار دْم جلد جلد ہلاتی ہوئی تیزی سے تیرنے لگی۔

جب ستارے چھٹک گئے۔صبح کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چلنے لگی۔آسمان پر مشرق کی طرف سے ایک زردسی روشنی نمودار ہوئی،تو جل پری اپنے دل میں ڈری کہ کہیں مجھے کوئی دیکھ نہ لے۔اس خیال کے آتے ہی اس نے اپنا رخ بدل دیا،اور نہایت تیزی سے ہاتھ اور دم مارتی ہوئی اپنے گھر کی طرف لوٹنے لگی۔

عین اس موقع پر ایک نوجوان چرواہا اپنی بھیڑوں کو پانی پلانے کے لئے دریا کی طرف چلا آرہا تھا۔اس کی نظر جل پری کے چاندی جیسے جسم پر پڑ گئی۔اس نے جل پری کو آواز دی۔جل پری نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا۔وہ اس بلا کی حسین تھی کہ اسے دیکھ کر چرواہے کو اپنے آپ کی کچھ سْدھ بْدھ نہ رہی۔وہ حیرت زدہ جوں کا توں کھڑا رہا،اور اس کے منہ سے ایک لفظ تک نہ نکلا۔

جل پری نے چرواہے پر نظر پڑتے ہی زور سے ایک چیخ ماری اور پانی میں غوطہ لگا دیا۔پھر پانی کے نیچے ہی نیچے بڑی تیزی سے سمندر کی طرف تیرنے لگی۔

چرواہا بھی دریا کے کنارے کنارے دور تک چلتا گیا۔لیکن اسے جل پری کا کچھ پتہ نہ چل سکا۔آخر مایوس ہو کر وہ واپس اسی جگہ لوٹ آیا،جہاں دونوں کی آنکھیں چار ہوئی تھیں۔کنارے پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور دریا کی لہروں کی طرف بڑے غور سے دیکھنے لگا۔مگر جل پری نظر نہ آئی۔

سارا دن چرواہا اس اْمید میں کہ شاید میں ایک دفعہ پھر اس جل پری کی پیاری پیاری صورت دیکھ لوں،وہیں بیٹھا رہا۔لیکن جل پری نظر نہ آئی۔

دوسرا دن گزر گیا،پھر تیسرا دن بھی گزر گیا۔مگر جل پری کا کچھ پتہ نہ ملا۔

آخر چرواہے نے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ہمیشہ کے لئے وہیں دریا کے کنارے بستر جما دیا۔اب تو چرواہا ہر وقت گھٹنوں کے بل بیٹھا رہتا اور ٹکٹکی لگا کر پانی کی طرف بڑے غور سے دیکھتا رہتا۔لیکن جل پری دوبارہ نظر نہ آئی۔

اْدھر جل پری کو اپنے غار میں صحیح سلامت پہنچ کر پھر کبھی انسان اور اس کی چیزوں کو دیکھنے کی جرات نہ ہوئی اور اس نے دوبارہ سمندر سے نکل کر دریا کا رخ کبھی نہیں کیا۔کچھ عرصے کے بعد چرواہے نے بھوک پیاس اور غم سے وہیں اپنی جان دے دی۔

چرواہے کے دوست جب اسے تلاش کرتے کرتے دریا پرپہنچے تو چرواہے کی لاش کنارے پر پڑی تھی۔لاش اس قابل نہ تھی کہ اسے شہر لے جا کر دفن کیا جاتا۔چنانچہ اس کے سب دوستوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اسے یہیں دریا کے کنارے پر ہی دفن کر دیا جائے۔

دوسرے سال اس کی قبر سے ایک ننھی منی کو نپل پھوٹی اور جب کئی سال گزر گئے تو وہ کونپل بڑھتے بڑھتے ایک بہت بڑا اور گھنا درخت بن گیا۔

خدا کی شان!یہ درخت بھی چرواہے کی طرح پانی پر جھکا ہوا تھا۔جیسے وہ کسی کی تلاش میں پانی میں جھانک رہا ہے۔اور جب شام کی ہوا اس کے پتوں میں سے گزرتی تو ایسی آواز پیدا ہوتی جیسے کوئی آہیں بھر رہا ہو۔لوگوں میں یہ درخت اب تک”رونے والا درخت“کے نام سے مشہور ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -