زیرو سے ہیر وتک

زیرو سے ہیر وتک

  

آیان اٹھو بیٹا! سکول کے لئے تیار ہو جاؤ۔ آیان نہ چاہتے ہوئے بھی دادا جان کی ایک آواز پر اٹھ گیا۔ تائی جان نے مزیدار پراٹھے اور چنے کے ساتھ ناشتہ کرایا اور وہ سکول کے لئے تیار ہونے لگا۔

آیان نے یونیفارم پہنا اور پھر سکول کے لئے روانہ ہوگیا۔ آیان اپنے دادا جان کے ساتھ رہتا تھا۔ بے حد شرارتی تھا۔ دراصل اپنی امی اورابو کی محبت نہ ملنے کی وجہ سے اس کے اندر بغاوت پیدا ہوگئی تھی۔ سکول جاتے ہی شرارتی بچوں کے ساتھ شرارتیں کرنا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔

بچوں کے لنچ بکس چھپا دینا، کبھی کسی کی کتاب ڈس بن میں ڈال دینا، کبھی کسی کا بستہ سڑھیوں کے نیچے چھپا دینا اور امتحان میں نقل کرنا اس کی عادت میں شامل ہوگیا تھااور یہ سب حرکتیں وہ اپنے آپ کو سب کے سامنے ظاہر کرنے کے لئے کرتا تھا۔

ایک دن اس نے سنا کہ کوئی نئے استاد رضوان آئے ہیں اور وہ بڑے سخت ہیں۔ جب اس نے امتحان میں نقل کرنے کی کوشش کی تو سررضوان نے اس کی چھڑی سے پٹائی کی۔ آیان روتے روتے گھر گیا اور کہا میں نہیں پڑھوں گا۔ دادا جان اسے سمجھانے لگے اور خود سرپکڑ کر بیٹھ گئے کہ اب میں کیا کروں؟ اسی دوران ایک نئی استانی ماریہ سکول میں آ ئیں۔

بے حد نرم اور سب سے محبت کرنے والی خاتون تھیں۔ اپنے شوہر کی وفات کے بعد وہ اس شعبے میں آئیں اور بڑا نام کمایا تھا۔ آتے ہی انہوں نے کلاس کا جائزہ لیااورکہا کہ لائق بچوں کو تو ہر کوئی پڑھا سکتا ہے، مزہ تو نالائق بچوں کو پڑھانے میں آ تا ہے اور آتے ہی مضمون ”قائداعظم“ لکھنے کو دے دیا۔

آیان نے صرف دو نمبر لئے۔ انہوں نے آیان کو پیار سے اپنے پاس بلایااور کہا کہ آپ چھٹی کے بعد میرے گھر آنا، میں آپ پر توجہ دوں گی اور آپ زیادہ نمبر لیں گے۔ آیان دادا جی سے اجازت لے کر ان کے گھر گیا۔ ماریہ نے واقعی اس کو تھوڑا تھوڑا کرکے سب یاد کروادیا اور محبت اورتوجہ ملنے سے آیان میں تبدیلی آنے لگی اور اگلے ٹیسٹ میں آیان نے بہت اچھے نمبر لئے اور پھر ماریہ نے ایک ماں کی طرح اس کوتوجہ دی اورآیان کو بدل کے رکھ دیا۔

جب آیان اپنا ”رزلٹ کارڈ“ گھر لے کرگیا تو دادا جان کوسچی خوشی ملی اور انہیں محسوس ہوا کہ انہوں نے آیان کو اپنے ساتھ رکھ کر غلطی نہیں بلکہ ٹھیک کیا ہے۔ ساتھیو! اگر ماریہ محبت اور توجہ سے نالائق بچے کو لائق بناسکتی ہے توآپ بھی اپنے اردگرد محبت کا بھوکا بچہ دیکھیں تو اسے محبت اور توجہ دیں اور وہ آسمان کا تارہ بن کر چمکے گا۔ ان شاء اللہ۔

مزید :

ایڈیشن 1 -