آئیے مسکرائیں

آئیے مسکرائیں

  

٭باپ: آج تک تو نے کوئی ایسا کام کیا جس سے میرا سَر اونچا ہوا ہو؟

بیٹا: ایک بار آپ کے سَر کے نیچے تکیہ لگایا تھا بھول گئے؟

٭ایک دفعہ ایک بچے نے اپنے باپ سے گاڑی لینے کی ضد کی تو باپ نے کہا.

" اگر تم امتحان میں اول آؤ گے تو میں تمہیں نئی گاڑی لے کر دونگا. "

اِس پر بیٹے نے منہ بناتے ہوئے کہا " اِس کا مطلب ہے کے آپ کبھی گاڑی لے کر نہیں دیں گے۔

٭باپ: (بیٹے سے) ہتھوڑے سے دیوار کا سیمنٹ کیوں اکھاڑ رہے ہو؟

بیٹا: پہلے تو آپ نے کبھی منع نہیں کیا تھا.

باپ: پہلے ہم اِس کا کرایہ ادا کرتے تھے اور اب ہم نے یہ خرید لیا ہے.

٭پہلا دوست: یار میں جس لڑکی کو پیار کرتا تھا اس سے میری شادی نہیں ہوئی.

دوسرا دوست: تم نے اس کو بتایا تھا کہ تمہارے ابو بہت پیسے والے ہیں؟

پہلا دوست: ہاں یار...

دوسرا دوست: تو پِھر؟

پہلا دوست: تو پِھر کیا اس نے میرے ابو سے شادی کرلی.

٭بیٹا: ابو! کیا سب باپ اپنے بیٹے سے زیادہ عقل مند ہوتے ہیں؟

باپ: ہاں بیٹا.

بیٹا: اچھا یہ بتائیں، ریڈیو کس نے ایجاد کیا؟

باپ: مارکونی نے.

بیٹا: دیکھا اس کے باپ نے تو ایجاد نہیں کیا نا؟

٭ڈیڈی! آج ہمارے کالج میں فنکشن ہو رہا ہے، مجھے کار کی چابی چاہیے. بیٹے نے فرمائش کی.

ڈیڈی نے پوچھا. " بیٹا... تمہاری موٹر سائیکل کو کیا ہوا؟ "

بیٹا بولا. " کچھ نہیں ڈیڈی! دراصل جب میں 8 لاکھ کی گاڑی میں جاؤں گا تو بہت رْعب پڑے گا. "

ڈیڈی نے جیب سے 20 روپے نکالے اور بیٹے کو دیتے ہوئے کہا. " یہ لو پیسے جب تم 60 لاکھ کی بس میں جاؤ گے تو بہت زیادہ رْعب پڑے گا. "

٭باپ: بیٹا کیوں رو رہے ہو؟ مجھے دوست سمجھ کر بتا دو

بیٹا: کچھ نہیں یار سبزی کے پیسوں سے میں نے اپنی والی کو موبائل بیلنس لوڈ کروا دیا تو تیری والی نے بہت مارا۔

٭باپ: اس بار امتحان کے بعد تمہیں موٹر سائیکل ضرور لے کردوگا چاہے تم پاس ہو یا فیل۔

بیٹا: سچ؟

باپ: ہاں بیٹا پاس ہوئے تو ہونڈا اور فیل ہوئے تو یاماہا۔

ہونڈا یونیورسٹی جانے کے لیے اور یاماہا دودھ بیچنے کے لیے۔

٭ایک ننھا بچہ اسکول سے گھر آیا تو اس نے اپنی امی سے کہا! بھوک سے پیٹ میں درد ہو رہا ہے. اس کی امی نے جلدی سیکھانا اس کے آگے لگا دیا اور کہا ظاہر ہے پیٹ میں کچھ ہو گا نہیں تو درد تو ہو گا.

" شام کو بچہ ہوم ورک کر رہا تھا، اس کے والد گھر میں داخل ہوئے اور کہا بیگم میرے سَر میں درد ہو رہا ہے. "

ننھے بچے نے یہ سنا تو کہا " ظاہر ہے سَر میں کچھ ہو گا نہیں تو درد تو ہو گا۔

٭ایک باپ کو اس کے بچے کے بارے میں اسکول ٹیچر کا خط ملا. باپ نے غصے میں بیٹے کو بلایا اور گرج کر کہا... " تمہیں معلوم ہے تمھارے ٹیچر نے اس خط میں کیا لکھا ہے؟ "

" جی نہیں...! " بیٹے نے نفی میں سَر ہلاتے ہوئے کہا...

" تمھارے ٹیچر نے لکھا ہے کہ شاید وہ زندگی بھر تمہیں کچھ نا سکھا سکے... "

" میں نے تو پہلے ہے کہا تھا یہ ٹیچر کسی قابل نہیں ہے. " بچے نے منہ بنا کر کہا..

مزید :

ایڈیشن 1 -