بھارتی ٹینس سٹارز کا قومی کیمپ میں شمولیت سے انکار

بھارتی ٹینس سٹارز کا قومی کیمپ میں شمولیت سے انکار

  

نئی دہلی (اے پی پی) شرتھ کمل اور جی ستھیان سمیت بھارت کے ممتاز ٹیبل ٹینس کھلاڑیوں نے قومی فیڈریشن (ٹی ٹی ایف آئی) کو آگاہ کیا ہے کہ وہ کورونا وائرس وبائی امراض کے پھیلاؤ کے خدشات کے باعث اگست سے قبل مجوزہ قومی کیمپ میں شامل ہونے کو تیار نہیں ہیں۔ گذشتہ ماہ تماشائیوں کے بغیر کھیلوں کے سٹیڈیم اور کمپلیکس کھولنے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کے بعد، ٹی ٹی ایف آئی نے یکم جون سے گذشتہ ہفتے دو مرتبہ کھلاڑیوں کی تربیتی کیمپ کے لئے دستیابی طلب کی تھی تاہم موجودہ حالات کے سبب کھلاڑیوں نے دونوں مرتبہ تربیتی کیمپ جوائن کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ شرتھ کمل نے کہا ہے کہ ہم اگست کے پہلے ہفتے میں کیمپ شروع کر سکتے ہیں۔

، وہ بھی اس وقت کی صورتحال پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کے لئے ایک ہی طرح صورت حال ہے اور کسی ایونٹ یا تربیتی کیمپ کے لئے جلد ہی کسی بھی وقت سفر کرنا غیر محفوظ ہے۔ شرتھ کمل نے کہا کہ قومی فیڈریشن ٹی ٹی ایف آیی نے پہلی بار ہمیں کیمپ میں شرلت کے لئے لکھا تھا لیکن دوسری بار اس نے ہم سے زبانی طور پر (دستیابی کی جانچ پڑتال کے لئے) پوچھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میرے ساتھی ساتھیان کی طرح شاراتھ بھی چنئی میں اپنے گھر پر ہی تربیتی سینٹر قائم کر رہے ہیں۔ستھیان نے کہا کہ ابھی مناسب نہیں ہے کہ ان حالات میں ایک ہی چھت کے نیچے کھلاڑیوں کے وسیع تربیتی کیمپوں کے بارے میں بات کی جائے۔انہوں نے کہا کہ پروازیں شروع ہوگئی ہیں اور ہر ریاست میں پہنچنے کے بعد اس کے سنگرودھ پروٹوکول موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پروازیں عام طور پر کام کرنا شروع نہیں کرتی اور وبائی مرض پر قابو نہیں پا لیاجاتا تب تک میں اس کیمپ کو جوائن نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ اگست بہت دور ہے اور امید ہے کہ اس وقت تک صورتحال میں بہتری آئے گی اور پھر ہم سبھی ملکر کیمپ شروع کر سکتے ہیں۔ٹی ٹی ایف آئی کے سکریٹری جنرل ایم پی سنگھ نے کہا کہ فیڈریشن کھلاڑیوں کے فیصلے کا احترام کرتی ہے۔سنگھ نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں نے ہمیں اپنے فیصلے سے آگاہ کیا ہے کہ وہ اگست تک کیمپ کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ہم ان کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل عالمی ادارہ آئی ٹی ٹی ایف نے وبائی امراض کی وجہ سے جولائی کے اختتام تک اپنی تمام سرگرمیاں معطل کر دی تھی۔

ان کا قد بھی بالنگ میں انہیں کافی مدد فراہم کرتا ہے لہٰذا اُن کا مستقبل تابناک ہے۔دانش کنیریا کے مطابق محمد حسنین نے ٹی ٹوئنٹی میں ملک کی نمائندگی کی تاہم ان کی کارکردگی میں تسلسل نہیں۔ محمد حسنین اور نسیم شاہ کو مسلسل انجریز کا بھی سامنا ہے جو کہ اچھی بات نہیں لہٰذا کیریئر کو طوالت دینے کیلئے انہیں اس جانب دھیان دینا ہوگا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بابر اعظم، اظہر علی اور شان مسعود اچھے کھیل کا مظاہرہ کررہے ہیں تاہم اگر کسی ایک کھلاڑی کی بات کی جائے تو بابر اعظم سب سے نمایاں ہیں جنہوں نے گراؤنڈ میں اپنی کارکردگی سے خود کو ثابت کیا۔ اسد شفیق 60سے زائد ٹیسٹ کھیل چکے تاہم ان کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ وہ زیادہ متاثر نہیں کر سکے۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -