آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی ویمن ٹیمیں ستمبر میں مدمقابل ہونگی

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی ویمن ٹیمیں ستمبر میں مدمقابل ہونگی

  

کینبر(اے پی پی) آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ چیمپین آسٹریلوی ویمن ٹیم ستمبر کے آخر میں ایکشن میں نظر آئے گی کیونکہ کرکٹ آسٹریلیا (سی اے) نے مردوں کے موسم گرما کے شیڈول کے ساتھ ساتھ ویمن کرکٹ کے شیڈول کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ آسٹریلوی ویمن ٹیم نے 8 مارچ کو میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں ورلڈ چیمپین ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا اس کے بعد کرکٹ آسٹریلیا عالمی بیماری کورونا وائرس کے باعث عملی طور پر کوئی کام نہیں کر سکا اور اب وہ بہت جلد خواتین کی کرکٹ کی بحالی کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔کرکٹ آسٹریلیا نے گزشتہ روز اعلان کیا ہے کہ ویمنز ٹیم کا مقابلہ رواں سال ستمبر کے آخر تک نیوزی لینڈ کی خواتین ٹیم سے ہوگا جس میں پہلے دونوں ٹیموں کے درمیان تین ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز اور اسکے بعد تین ون ڈے میچ کھیلے جائیں گے۔ آئندہ سال فروری میں نیوزی لینڈ میں ہونے والے 50 اوورز کے ورلڈ کپ سے قبل دونوں ٹیموں کے لیے ون ڈے سیریز انتہائی اہمیت کا حامل ہو گی۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں پہلے ہی ون ڈے ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کے لئے کوالیفائی کر چکی ہیں جبکہ تین ٹی ٹونٹی میچ نارتھ سڈنی میں کھیلے جائیں گے۔، ون ڈے میچز ٹاؤنس ول، کیرنس اور گولڈ کوسٹ کے مقام پر کھیلے جائیں گے۔

کرکٹ آسٹریلیا کے سی ای او کیون رابرٹس نے کہا ہے کہ رواں موسم گرما میں آسٹریلوی ویمن ٹیم ایکشن میں نظر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ویمن ٹیم کا کھیلا گیا آخری میچ تاریخ ساز، ریکارڈ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا فائنل تھا جو ایم سی جی گراؤنڈ میں کھیلا گیا تھا اور جیتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اعتماد ہے کہ اس موسم گرما میں پہلے سے کہیں زیادہ قوت کے ساتھ آسٹریلوی ٹیم میدان میں اترے گی۔ نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے علاوہ، ویمن ٹیم ورلڈ کپ سے چند روز قبل جنوری 2021ء میں بھارتی ویمن کے خلاف تین میچوں کی ہائی پروفائل ون ڈے سیریز کی بھی میزبانی کرے گی۔ بھارت ویمن ٹیم بھی میگا ایونٹ کے لئے کوالیفائی کرچکی ہے، جس کو رواں سال کے شروع میں ٹی 20 ورلڈ کپ کے فائنل میں آسٹریلیا سے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان باہمی سیریز، جو 22 جنوری سے شروع ہوگی کے میچز، کینبرا، سینٹ کلیڈا اور ہوبارٹ میں شیڈول ہیں۔ دفاعی چیمپین آسٹریلیا انگلینڈ کے خلاف 7 فروری کو ورلڈ کپ کے ابتدائی میچ سے مہم کا آغاز کرے گا۔

  ان کا قد بھی بالنگ میں انہیں کافی مدد فراہم کرتا ہے لہٰذا اُن کا مستقبل تابناک ہے۔دانش کنیریا کے مطابق محمد حسنین نے ٹی ٹوئنٹی میں ملک کی نمائندگی کی تاہم ان کی کارکردگی میں تسلسل نہیں۔ محمد حسنین اور نسیم شاہ کو مسلسل انجریز کا بھی سامنا ہے جو کہ اچھی بات نہیں لہٰذا کیریئر کو طوالت دینے کیلئے انہیں اس جانب دھیان دینا ہوگا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بابر اعظم، اظہر علی اور شان مسعود اچھے کھیل کا مظاہرہ کررہے ہیں تاہم اگر کسی ایک کھلاڑی کی بات کی جائے تو بابر اعظم سب سے نمایاں ہیں جنہوں نے گراؤنڈ میں اپنی کارکردگی سے خود کو ثابت کیا۔ اسد شفیق 60سے زائد ٹیسٹ کھیل چکے تاہم ان کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ وہ زیادہ متاثر نہیں کر سکے۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -