دربار صاحب میں قتل ِ عام،دُنیا بھر میں سکھوں کا احتجاج!

دربار صاحب میں قتل ِ عام،دُنیا بھر میں سکھوں کا احتجاج!

  

دُنیا بھر میں بسے تین کروڑ سے زیادہ سکھ حضرات بھارتی حکومت کے خلاف یوم احتجاج منا رہے ہیں کہ36سال قبل آنجہانی مسز اندرا گاندھی کے دور میں سکھوں کے مقدس مقام دربار صاحب امرتسر پر بھارتی فوج نے حملہ کر کے آٹھ روز تک سکھوں کا قتل ِ عام کیا،سکھوں کا قصور یہ قرار دیا گیا کہ وہ اپنے لئے خود مختاری مانگ رہے تھے۔ 1984ء میں دربار صاحب میں بہت خون بہایا گیا،یہاں ننگے سر نہیں جانے دیا جاتا لیکن بھارتی فوجی بوٹوں سمیت گھس گئے تھے۔اگرچہ بعدازاں بھارتی حکومت نے اس آپریشن بلیو سٹار کی نشانیاں مٹانے کی کوشش کی،مگر اب بھی کئی دیواروں پر گولیوں اور خون کے نشان موجود ہیں۔مودی حکومت نے امرتسر میں مظاہروں کے خوف سے دربار صاحب کی طرف جانے والے راستے بھی بند کر دیئے ہیں اور امرتسر میں اضافی نفری بھی تعینات کر دی ہے، اتنے حفاظتی اہتمام کے باوجود مظاہرے اور احتجاج لازم ہے، جبکہ دُنیا بھر میں سکھ کورونا وبا کے باوجود احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سکھوں کی طرف سے مغربی ممالک میں باقاعدہ تحریک موجود ہے،اس میں بھارتی زیادتی کا ازالے کا مطالبہ شامل ہے، سابق بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے حکم پر یہ آپریشن بلیو سٹار کیا گیا تھا،بعدازاں مسز اندرا گاندھی کے سکھ باڈی گارڈ نے ان کو قتل کر کے بدلہ لے لیا تھا۔ سکھ برادری اپنے اِس مطالبے اور بھارتی ہندوتوا کے مسلسل جبر کے خلاف جدوجہد کرتی چلی آ رہی ہے کہ اسی وجہ سے دُنیا بھر کے سکھ مقبوضہ کشمیر میں ظلم کا شکار مظلوم کشمیریوں کے حق میں بھی آواز بلند کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب سکھ اور کشمیری سمیت اپنا حق حاصل کر لیں گے اور بھارتی حکمران جنتا کو منہ کی کھانا پڑے گی، ظلم تادیر نہیں رہتا۔

مزید :

رائے -اداریہ -