کورونا وبا ہے، مذاق یا سازش نہیں!

کورونا وبا ہے، مذاق یا سازش نہیں!
کورونا وبا ہے، مذاق یا سازش نہیں!

  

یہ کیسی دنیا ہے۔ یہ کیسے لوگ ہیں کہ سرحدوں پر حالات خراب ہیں۔ معیشت تباہ حال ہے، حتیٰ کہ اندرون ملک اخراجات کے لئے بھی قرض لینا پڑتے ہیں۔ وزیراعظم دکھی ہیں کہ غریب اور مزدور کہاں سے کھائیں اور گزارہ کریں گے۔ یہ جو منطر نامہ ہے، اس میں اس کورونا نے اور رنگ بھر دیا کہ اب تواتر سے ایسی اطلاعات مل رہی ہیں کہ متاثرین بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور اموات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ اب تو بے حسی اور خود غرضی کی ایسی ایسی کہانیاں منظر عام پر آ رہی ہیں کہ منٹو زندہ ہوتے تو کئی ناول تحریر کر لیتے اور پھر مقدمے بھگت رہے ہوتے کہ اعتراض اور احتجاج بھی تو جرم ہی ہے۔ ہم نے جستہ جستہ جو احادیث اور احکام سنے یا پڑھے، ان کے مطابق آج جو نفسا نفسی اور نافرمانی کے عمل جاری ہیں اور کسی پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تو یہ سب بتا دیا گیا تھا اور ان کے لئے قرب قیامت کا ذکر کیا گیا ہے۔ ہم نے اپنے زمانہ طالب علمی میں جب حضرت علامہ ابو الحسنات سے دریافت کیا کہ یہ جو سب آگاہی ہے، سب کچھ اسی کے مطابق ہونا ہے تو پھر اس دنیا کو آباد کرنے کا مقصد کیا ہے۔

حضرت نے بڑے تحمل اور اپنے دھیمے لہجے میں بتایا کہ قرآن مجید کا مطالعہ کرو تو تمہیں نافرمان اقوام کا ذکر ملے گا اور یہ بھی معلوم ہوگا کہ اللہ کے پیغمبر ان کو آگاہ کرتے تھے، وہ باز نہ آتے اور کوئی عذاب والی کیفیت پیدا ہوتی تو پھر بھاگ کر اللہ ہی کے پیامبر کے پاس آتے۔ ان کی یہ کیفیت ٹھیک ہو جاتی تو پھر سے لہو لہب میں مبتلا اور منکر ہو جاتے تاآنکہ ان پر بڑے عذاب نازل ہوتے رہے۔ حضرت علامہؒ نے فرمایا ہم جو مسلمان کہلاتے ہیں، اس لحاظ سے خوش نصیب ہیں کہ رسول اکرمؐ نے اپنی امت کے لئے اللہ سے پناہ مانگی اور دعا کی ہے کہ انؐ کی امت پر ایے عذاب نازل نہ کئے جائیں، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم نافرمانی کرتے چلے جائیں، علامہؒ نے فرمایا ”جو پیش گوئی کہلاتی ہے، اسے انتباہ جانو! کہ اللہ کے آخری نبیؐ نے اپنی امت کو پہلے سے آگاہ کر دیا کہ ایسا کرو گے تو انجام یہ ہوگا، اس آگاہی کا یہ مقصد جانو کہ تمہارے راستے میں جو گڑھا یا گڑھے ہیں، ان سے تم کو آگاہ کر دیا گیا۔ اگر تم راستہ بدل لو تو بچ جاؤ گے، ورنہ گرنا تو مقدر ہے، اس سے ثابت ہوا کہ آج جوہو رہا اور جس کی نشان دہی چودہ سو برس پہلے سے کر دی گئی وہ سب سامنے ہیں اور ہمارے لئے آگاہی ہے، اس لئے ہمیں بچنا ہوگا۔

قارئین! یہ وضاحت یوں کرنا پڑی کہ ابھی گزشتہ شب ایک ٹی وی ٹاک شو میں ہمارے محترم تاجروں کے ایک ”بڑے اور دبنگ“ لیڈر کو مدعو کیا گیا تھا کہ وہ کورونا اور حالات حاضرہ کے ساتھ ساتھ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر اپنا موقف بیان کر سکیں۔ ہمارے یہ دوست بڑے اہتمام کے ساتھ دھوبی کے دھلے کپڑے پہنے، ماسک لگائے کیمرے کے سامنے تھے اور مطالبہ کررہے تھے کہ حکومت تاجروں کے ساتھ مشاورت کرکے قواعد و ضوابط بنائے اور فیصلے کرے،جبکہ صوبائی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ تاجر بھائی ایس او پیز پر عمل نہیں کر رہے، ہمارے یہ تاجر رہنما اس ٹاک شو میں جس اہتمام کے ساتھ شریک ہوئے ان کی عملی زندگی میں یہ کچھ نہیں ہے، ہم نے ان کی کورونا موسم میں درجنوں تصاویر دیکھیں، ان میں کسی ماسک کے بغیر سماجی فاصلوں کا لحاظ رکھے بغیر نہ صرف خود بات کررہے ہیں بلکہ دوسرے تاجر بھائی اور موقع پر موجود حضرات بھی اسی حالت میں نعرے لگا رہے ہیں، انہی کا مطالبہ تھا کہ تجارتی مراکز کھول دیئے جائیں اور اب بھی یہ کہتے ہیں کہ کاروبار 24گھنٹے ہونا چاہیے کہ اگر یہ اجازت ہو تو بازاروں میں بھیڑ ختم ہو جائے گی جس کی بڑی وجہ وقت کی پابندی ہے، اس سلسلے میں ہماری گزارش یہ ہے کہ اب تو حکومت نے اسی تاجر برادری کے دباؤ پر صبح 9 سے رات سات بجے تک کی اجازت دی ہے،

لیکن پاکستان کے سوا نہ صرف ترقی یافتہ ممالک، بلکہ حریف اور دشمن ملک بھارت میں بھی کاروباری اوقات مقرر تھے جو صبح 9سے سورج غروب ہونے تک ہیں، صرف ادویات اور کھانے پینے کی دکانوں کو استثنیٰ ہے۔ ہمارے ملک کی صورت حال یہ تھی کہ دن کو گیارہ بجے کے بعد دکانیں کھلتیں اور رات گئے بند ہوتی تھیں اور یہ تاجر بھائی کورونا وبا کے اس دور میں بھی ایسا ہی چاہتے ہیں، جبکہ حکومت کو لینے کے دینے پڑ گئے ہیں۔ ہسپتالوں کی گنجائش اور طبی عملہ کم ہوتا چلا جا رہا ہے اور اگر حالات پر اب بھی کنٹرول نہ کیا گیا تو پھر حالات اور زیادہ بگڑ جائیں گے۔ اللہ نہ کرے تحصیل فیروزوالا اور شمالی علاقے جیسے واقعات عام ہو جائیں کہ ہسپتالوں اور بازاروں میں نعشیں پڑی نظر آئیں۔ کوئی علاج والا اور تدفین والا بھی نہ ملے۔

اس لئے بہتر یہی ہے کہ اب بھی سمجھ جائیں، جان لیں کہ کورونا ایک حقیقت ہے۔ یہ کوئی مذاق اور سازش نہیں، یہ وائرس جہاں سے آیا، جیسے آیا، یہ الگ سوال ہے، اسے بڑے ممالک کی لڑائی تک رہنے دیں، خود جانیں کہ یہ ایک وباء ہے اور ہم سب نے باہمی اتفاق رائے سے اس کا مقابلہ کرنا اور اس سے بچنا ہے، اے پاکستانیو! یاد رکھو، اس وبا سے تحفظ کی ویکسین اور علاج کے لئے ادویات بھی دریافت ہو گئیں تو تمہاری بہت بھاری اکثریت ان سے یوں محروم رہے گی کہ یہ مہنگی اور تمہاری پہنچ سے باہر ہوں گی۔ اس لئے اللہ سے رحم مانگو اور احتیاط سے خود حفاظتی عمل کے تحت بچنے کی جدوجہد کرو اور سچے، دیانت دار بن جاؤ۔ اللہ سے پناہ مانگو!

مزید :

رائے -کالم -