”تلوار اور توازن“

”تلوار اور توازن“
”تلوار اور توازن“

  

ایک جرثومے نے جہاں آدھی سے زیادہ دنیا ویرانوں میں بدل ڈالی ہے، وہاں ہزاروں صدیوں پر محیط انسانی تاریخ میں برپا ہونے والے خود ریز مناظر یاد آنے لگے ہیں۔ غرور، تکبر، سر کشی، ناانصافی، کسی بھی نوع میں آئے، اسے ہر حال ایک روز سرنگوں ہونا ہوتا ہے۔ یہی قدرت کے اٹل قوانین ہیں۔ یوں جانیئے فطرت ہر آن کسی توازن کے لئے متحرک رہتی ہے اور ظلم و بربریت اور مادیت کو سر اٹھاتے ہی کچلنے کے لئے روبکار ہو جاتی ہے۔ تخصیص، اگر کوئی ہے تو محض وقت کی۔ وقت کبھی کسی کو فقط چند لمحات ہی دیتا ہے اور کبھی قدرے طویل ہو جاتا ہے۔ ادلے کے بدلے میں وقت بہر حال اہم عنصر ہے، جسے فطرت کبھی لٹکائے رکھتی ہے، مگر اسے کوئی قابو میں نہیں رکھ سکتا کیونکہ وہ کسی کی میراث نہیں ہوتا۔ ہر آنے والے کے لئے جانا لکھا ہوتا ہے۔

جیسے کہا جاتا ہے کہ کوئی حادثہ اچانک نمودار نہیں ہوتا، اس کے پیچھے واقعات کا ایک تسلسل ہوتا ہے، جو مآل کار کسی اچھے یا برے انجام پر منتج ہوتا ہے اس بات کو سادہ الفاظ میں یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہر کی گئی اچھائی یا نیکی بظاہر فوری ردِ عمل نہیں دیتی۔ وہ مجتمع (Saturate) ہوتی رہتی ہے اور کسی خاص دن کسی خوشنما روپ میں ظاہر ہوتی ہے، بعینہ مسلسل برپا کی جانے والی درندگی اور وحشت (جو بظاہر کسی غلبے یا تفاخر کا تاثر دیتی ہے) گھر وہ بھی مجتمع ہو کر اپنا وزن بڑھاتی رہتی ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ خود ہی لڑکھڑا کر منہ کے بل ڈھیر ہو جاتی ہے۔ ان دونوں صورتوں کے برعکس، قدرت اگر کوئی مہلت نہ دینا چاہے تو ہر اچھا یا برا عمل، فوری کسی خوبصورت انجام یا بد نما حادثہ کی شکل میں ظاہر ہو کر ایک ”معجزہ“ کہلاتا ہے۔ آج انسانیت اس جرثومے کی ہلاکت آفرینیوں سے گھبرا کر کسی معجزہ کے انتظار میں ہے، مگر معجزے ہر روز نہیں ہوا کرتے۔ اقوام کی تقدیر، ان کے عمل کی عکاس ہوتی ہے، انسانوں کے اعمال کا نتیجہ آج ہلاکت و دہشت کی صورت میں جلوہ گر ہے۔ اس جرثومے کی صورت گری کس نے کی، بال و پر کس نے سنوارے، اس سوال پر ہزاروں ابہام ہیں، جنہیں صرفِ نظر کرتے ہوئے، ہمیں فی الحال نظامِ فطرت کا جائزہ لینا ہوگا کہ زمانے کے مختلف ادوار میں کئی صالحین و پیغمبر کرام آئے اور اپنے کردار و عمل کے ذریعے بدی اور برائی کے خلاف برسر پیکار ہو کر زندگی کو نیا روپ، نئے توازن سے آشنا کرنے کی تگ و دو کرتے رہے۔ مگر چند فتنہ گر فسادی اور منافق گروہ اس وحشت زدہ زمین کی آبیاری خونِ انساں سے کرتے رہے۔ تاریخ کی کتب ان کی درندگی و بربریت سے اٹی پڑی ہیں۔ شاید فطرت کے لئے یہی کوئی توازن کا معاملہ ہوگا کہ زمین پر کروڑوں انسان آتے رہے جن میں سے کچھ گروہ اپنی ذہنی اور جسمانی برتری کے جنون میں کم عقل و ناتواں انسانوں کو غلام بنا کر اک دوسرے کو قاتل و مقتول بناتے رہے۔ تاریخ کے منظر نامہ سے جو بدتر اور فتنہ گر لوگ برآمد ہوتے ہیں وہ قومِ یہود سے ہیں جو خود کو نہایت زیرک و برتر سمجھتے ہیں اور دیگر نسل انسانی کو ہمیشہ کم تر خیال کرتے ہوئے، کسی نہ کسی طرح کے فساد و فتنہ میں مبتلا کرنے کے جتن کرتے ہیں۔

اپنے پیغمبروں کی بد دعاؤں سے لیس، وہ حیران کن حد تک ہلاکتوں سے بھی گزرے، مگر اپنی فطرت بے چینی سے مجبور آزمائشوں سے بھی گزرے۔ آج نسل انسانی پر ایک قاتل وائرس اتار کر ان کے رہنما ببانگ دھل اپنی بقا کی ”نوید“ سنا رہے ہیں۔ پوری انسانی آبادی میں (جو کہ تعداد میں اربوں نفوس ہیں) یہ چند لاکھ یہود، اپنی حیرت ناک جستجو اور علم کی بدولت دنیا بھر پر اپنا تسلط جمائے، اپنے ہتھیار، اپنی ٹیکنالوجی کی بدولت انسانوں کو مقید کئے بیٹھے ہیں۔ فضاؤں میں تیرتے مصنوعی سیاروں کے مالک یہی لوگ اپنی من پسند ابلاغیات سے ذہنِ انسان کو پراگندہ کرنے کی کریہہ کوششوں میں جتے ہوئے ہیں۔ اسلام کو ایک ”وحشیانہ“ مذہب کے طور پر اجاگر کرنے کے لئے کئی نام نہاد ”دانشور“ دن رات اپنے دہن سے شعلے اُگل رہے ہیں۔ انہی فتنہ گر انسانوں کا گروہ اپنے تیار کردہ ”وائرس“ (جسے کبھی وہ چینی کہلواتے ہیں، کبھی یورپی لیبارٹریوں سے تشکیل کردہ بتاتے ہیں) کی بدولت لاکھوں ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ پوری دنیا پر ایک خوف و دہشت کی فضا تخلیق کرنے میں مصروف کار ہے اور مستقبل کے ایسے نقشے ترتیب دے رہے ہیں جو قدرت نے پہلے ہی سے طے کر رکھے ہیں اپنے انجام سے بے خبر وہ فتنہ گر اور سرکش گروہ، آج اپنی برتری پر نازاں پوری دنیا کو اپنے زیر نگیں کرنے کا عندیہ دے رہا ہے۔ اور آج بیچاری مسلم امت، جو اپنے آقاؐ کے فرمودات بھلا کر ہوسِ زر و مال میں کچھ یوں جکڑی پڑی ہے کہ کسی اُمتی کو دوسرے کی کچھ خبر نہیں۔ علم و تحقیق میں قدم آگے بڑھانے کا تو کیا ذکر کیا جائے یہ مملکت خود پر سے ”وحشیانہ“ لیبل تک نہ اتروا سکی۔ وہ عظیم الوہی تعلیمات، جو کہ ایک انتہائی توازن پر مبنی تھیں، ان کی تشریح تک نہ کر سکی۔

اسلام، جو کہ اخلاق سے مالا مال ایک تبسم سے اپنی آمد کا آغاز کرتا ہے، زندگی کو توازن میں لانے کے لئے تبلیغ کی راہ دکھاتا ہے اور تبلیغ کیا ہے؟ معاشرے سے نا انصافی کا خاتمہ، جہالت کا صفایا، ناتواں اور طاقتور کی برابری کا درس، یہی بنیادی چند باتیں، جن کے احیاء کے لئے تبلیغ کے بعد، طاغوتی طاقتوں کے لئے اگر تلوار اٹھاتا ہے تو ”وحشیانہ“ کہلاتا ہے حالانکہ یہ سب کچھ زندگی کو متوازی رکھنے کا ایک جتن ہوتا ہے۔ اور خود ساختہ ”مہذب“ دنیا کے وہ جفادری اپنی انا و تکبر اور چودھراہٹ کی تسکین کے لئے مظلوم مسلمانوں خواہ وہ عراق میں ہوں، کشمیر میں، یا شام و یمن یا افغانستان و فلسطین میں) کا خون بہانے کو ”امن“ قرار دیں تو سب ٹھیک۔

لیکن مکافات کا وقت کچھ دور نہیں، فطرت انگڑائی لے چکی ہے۔ امریکہ بہادر کی 33 ریاستوں میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں، ہندو ازم کی ہندو توا کی گردن چین کے آہنی ہاتھوں میں بھینچی سسک رہی ہے، یوپر مردم بیزار حد تک، یہود و ہنود سے نالاں نئی راہوں کی تلاش میں نکل پڑا ہے، دنیا کو قید کر کے، کوئی خوف جگا کے، ایک نئی چپ تیار کرنے والا یہود، ایک بار پھر ”چُپ“ ہونے جا رہا ہے۔ شاید ہمیشہ کے لئے۔ توازن برقرار رکھنے کے لئے قدرت تلوار سونت چکی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -