پی آئی ڈی ای کی تحقیقاتی رپورٹ اور مالی سال2021ء

پی آئی ڈی ای کی تحقیقاتی رپورٹ اور مالی سال2021ء
پی آئی ڈی ای کی تحقیقاتی رپورٹ اور مالی سال2021ء

  

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس، پاکستان کا ایک معتبر تحقیقاتی ادارہ ہے اسے 1957ء کراچی میں قائم کیا گیا،1964ء میں اسے خود مختار ادارے کی حیثیت دے دی گئی۔ نومبر2006ء میں اسے ”ڈگری جاری کرنے والے ادارے“ کی حیثیت دی گئی، ادارہ 1972ء میں اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی میں منتقل کر دیا گیا۔ یہ ادارہ معاشیات پر نظری اور ا عدا د و شماریاتی تحقیقات کرتا ہے اور پھر فکری رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیتا ہے، ادارے نے حال ہی میں ایک تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے جس میں اعداد و شمار کے ساتھ ”کورونا کے عالمی اور پاکستانی معیشت پر اثرات“ بیان کئے ہیں اور مالی سال 2021ء کی ممکنہ معاشی صورت حال اور تخمینہ جات بارے لکھا ہے اور خوب لکھا ہے اس رپورٹ میں ”ممکنہ صورت حال“ بارے ”مناسب اور حقیقت پسندانہ“ تجزیات پیش کئے ہیں۔

.

اس بارے میں تو دو آرا ہر گز نہیں ہیں کہ کورونا نے دُنیا کی معیشت کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ کورونا وائرس کی ابتداء19دسمبر2019ء چین سے ہوئی۔ 11مارچ 2020ء کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اسے عالمی وبا قرار دے دیا۔ 186ممالک میں اس وائرس نے32لاکھ سے زائد انسانوں کو متاثر کیا ہے، جبکہ 2لاکھ30ہزار سے زائد کو ہلاک کر ڈالا ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اس وائرس سے بچنے کے لئے کیونکہ ابھی تک کوئی ویکسین یا دوائی بطور علاج سامنے نہیں آئی ہے اِس لئے لاک ڈاؤن کے ذریعے ”کورونا سے بچنے“ کی پالیسی اپنائی گئی،امریکہ اور یورپ اس سے بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں، اس طرح جو ممالک عالمی تجارت کا حصہ ہیں ان کی معاشی سرگرمیاں اور بھی زیادہ متاثر ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں۔ عالمی معیشت کی مالی سال2020ء میں -3فیصد تک سکڑنے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے، ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتیں -6.1 اور -100 فیصد تک سکڑ جائیں گی، جبکہ کورونا وبا سے پہلے ان کا متوقع گروتھ ریٹ1.7اور3.7 فیصد تھا۔

پاکستان میں کورونا وائرس26 فروری 2020ء کو ظاہر ہوا۔13مارچ2020ء کو تمام تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے، فلائٹ آپریشن بھی معطل کر دیا گیا۔ ہنوز معاملات ایسے ہی چل رہے ہیں گو پاکستان عالمی تجارت و معیشت میں بہت نمایاں مقام نہیں رکھتا،لیکن امریکہ،چین، جاپان، برطانیہ اور جرمنی پاکستان کے بڑے تجارتی حصہ دار ہیں۔ پاکستان کی عالمی تجارت کا 50 فیصد تک انہی ممالک کے ساتھ وابستہ ہے چین کے علاوہ باقی چار ممالک کورونا سے شدید متاثر ہوئے ہیں ان کا معاشی نظام بیٹھ گیا ہے۔ ظاہر ہے اس سے پاکستان کو شدید پریشانی لاحق ہے، چین اور امریکہ ہمارے بہت بڑے درآمدی حصہ دار ہیں ہماری زیادہ تر درآمدات انہی دو ممالک سے ہوتی ہیں یہ درآمدات ہماری صنعتی پیداوار و تیار مال میں خام مال کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ گویا ہماری معیشت پر ترقی یافتہ ممالک کی معیشتوں کے منفی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔

آئی ایم ایف کے تخمینہ جات کے مطابق پاکستان کی معیشت2020ء میں -1.5فیصد گراوٹ ظاہر کرے گی،جبکہ ہمارے پلاننگ کمیشن کے مطابق یہ گروتھ 2/2.5 فیصد تک رہے گی۔ سٹیٹ بینک بھی اسی طرح کی گروتھ بارے پُر یقین ہے۔ ہماری قومی معیشت کورونا کے باعث شدید بحرانی کیفیت کا شکار ہے، معاشی سرگرمیاں معطل ہیں،اخراجات بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں، جبکہ ٹیکس آمدنی گھٹتی چلی جا رہی ہے۔2018ء میں ہماری جی ڈی پی کا حجم314.6 ارب ڈالر اور معیشت کی شرح نمو5.8فیصد تھی، جبکہ2020ء میں ہماری جی ڈی پی 264ارب ڈالر تک گھٹ چکی ہے اور اقتصادی نمو کی شرح منفی ہو گئی ہے۔ بہرحال یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہے۔کورونا نے ہماری معیشت کے ہی نہیں، بلکہ معاشرت کے بھی کس بل نکال دیئے ہیں۔ گزرے چند ماہ کے دوران معیشت کو ناقابل ِ تلافی نقصان پہنچ چکا ہے، اس پر مستزاد ہمارے میڈیا نے ایک طرف کورونا کے بارے میں جس طرح کی معلومات کو جس طرح پھیلایا ہے اس کے اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں۔ دوسری طرف معاشی بدحالی کے باعث ناامیدی کی ایک گھمبیر فضا طاری ہو گئی ہے۔ پوری قوم حسرت و یاس اور ناامیدی کا شکار ہو چکی ہے، ایسے میں پاکستانی انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی رپورٹ نے اعداد و شمار کے ساتھ2021ء کے بارے میں جو نقشہ ترتیب دیا ہے وہ انتہائی خوشگوار اور امید افزاء ہے۔

رپورٹ کے مندرجات کے مطابق مالی سال 2021ء کے ابتدائی مہینے زیادہ خوشگوار نہیں ہوں گے، پھر معاشی گروتھ کا سائیکل چلنا شروع ہو جائے گا اس طرح 2021ء میں معاشی نمو کی شرح 2فیصد رہے گی۔ کورونا کی وبا پھیلنے سے پہلے آئی ایم ایف کے مطابق یہ شرح نمو 3فیصد متوقع تھی،ایسے ہی پیش منظر کو سامنے رکھتے ہوئے آئی ایم ایف نے ریپڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ (RFI) کے تحت پاکستان کو 1.4ارب ڈالر کی معاونت کی درخواست قبول کر لی ہے۔

11مئی2020ء سے لاک ڈاؤن میں نرمی جاری ہے، معیشت کو بتدریج کھولا جا رہا ہے، بہت سے سیکٹرز کو احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی یقین دہانی پر کام کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ لاک ڈاؤن کے بعد سمارٹ لاک ڈاؤن ایک اچھا قدم ہے اگر ایسی صورت حال جاری رہی تو جون کے اختتام تک لاک ڈاؤن مکمل طور پر بھی ختم ہو سکتا ہے شرط یہ ہے کہ ”احتیاطی تدابیر“ پر عمل کیا جائے۔رپورٹ میں لکھا ہے کہ مالی سال 2021ء کے ابتدائی چھ مہینوں کے اندر اندر عالمی اور ملکی معاشی معاملات نہ صرف بہتری کی طرف جا رہے ہوں گے، بلکہ اس کے مضر اثرات ختم ہو جائیں گے۔مضر اثرات ختم ہوں گے، بحالی ہو گی، عالمی معیشت اور ہماری قومی معیشت بحال ہو جائے گی،لیکن اس کی افزائش (گروتھ) کورونا وبا سے پہلے وقتوں جیسی نہیں ہو گی۔.

اعداد و شمار کی جمع تفریق کے ساتھ رپورٹ کے مطابق مالی سال2021ء میں GDPمجموعی طور پر 2.16 فیصد کی بڑھوتی ہو گی، جبکہ ہمارا زرعی شعبہ3فیصد تک بڑھوتی ظاہر کر سکتا ہے، جبکہ خدمات کا شعبہ 2.33 فیصد بڑھوتی دکھائے گا۔ صنعتی شعبہ بمشکل1فیصد گروتھ دکھا سکے گا، اس طرح مالی سال2021ء ہمارے لئے ناامیدی و مایوسی نہیں، بلکہ امید اور روشنی لے کر آئے گا۔ اِن شاء اللہ

کورونا ایک آفت ہے اب یہ بحث لاحاصل ہے کہ کورونا وائرس انسان کا بنایا ہوا ہے یا قدرتی، چینی لیبارٹری سے نکلا ہے یا امریکیوں نے اسے ووہان تک پہنچایا، وغیرہ وغیرہ۔یہ اب ایک عفریت کی شکل میں کرہئ ارض پر پھیل چکا ہے وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے انسانی کنٹرول سے باہر ہو چکا ہے، اب یہ اپنے ہی قدرتی اور فطری انداز میں واپس جائے گا جیسے اس سے پہلے وبائیں اپنی ہلاکت خیزیوں کے ساتھ لوٹ جاتی تھیں، انسان کی بے بسی عیاں ہو چکی ہے ویسے تو پہلے ہی انسانی بے بسی ہمارے سامنے تھی، انسان کو اپنی صلاحیتوں پر ناز ہے،لیکن اسے اپنی حدود اور کمزوریوں کا بھی پتہ ہونا چاہئے۔ کورونا نے انسان کو اس کی حدود اور بے چارگی بارے کھل کر بتا دیا ہے،دُنیا کی عظیم الشان اقوام جنہیں اپنے میڈیکل نظام پر ناز تھا اس غیر مرئی وائرس کے ہاتھوں شکست کھاچکی ہیں، مسلمانوں کی اللہ سے دادِ فریاد تو اپنی جگہ ہے، عیسائی دُنیا کے پوپ نے بھی کورونا کو رب کی ناراضگی کہا ہے،

گویا کورونا وائرس اللہ کے نظام کے تحت کچھ معاملات سیدھے کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے ہم دیکھ رہے ہیں کہ کورونا نے پوری دُنیا کی کایا ہی پلٹ کر رکھ دی ہے۔ عالمی معیشت اور اس کے ساتھ جڑی اقوام کی معیشتوں کا دھڑن تختہ ہو چکا ہے۔ ایوی ایشن کی صنعت ہو یا ٹورازم سیکٹر و ہوٹل انڈسٹری، آٹو موبائل سیکٹر ہو یا کنسٹرکشن کا شعبہ، آپ جس شعبے کے متعلق سوچیں، آپ کے سامنے اس کی تباہی و بربادی ظاہر ہو جائے گی۔

عالمی معیشت میں امریکہ قائدانہ پوزیشن پر فائز ہے، جبکہ چین دوسری بڑی عالمی معیشت ہے، چین کورونا کے حملے سے جانبر ہو چکا ہے اس نے سو دِنوں کے اندر اندر اس وبا پر قابو پا لیا تھا اور اس کے بعد بتدریج معاشی سرگرمیوں کی بحالی ہونا شروع ہو گئی تھی۔ امریکی حکومت نے بھی معاشی سرگرمیوں کو سہارا دینے کے لئے 1.3 ٹریلین ڈالر کی رقم خرچ کی ہے تاکہ لوگوں کی قابل ِ تعریف آمدنی،یعنی طلب میں اضافہ ہو اور اسے پورا کرنے کے لئے پیداواری عمل شروع کیا جا سکے یہ سب کچھ سرمایہ دارانہ نظام کے مطابق ہی وقوع پذیر ہو رہا ہے۔

ہم بھی اپنی معیشت کی بحالی نہ سہی، اسے سہارا دینے کی کاوش کر رہے ہیں،-1.5فیصد گروتھ، تاریخی گراوٹ ہے، لیکن2021ء کے مالی سال میں معاشی سرگرمیوں میں کھلے پن کی پیش گوئی حوصلہ افزا ہے۔ رپورٹ میں درج اعداد و شمار کے مطابق لاک ڈاؤن جون کے آخر تک ختم ہو جانے کے امکانات ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -