کورونا کیسز اور خوف،دونوں میں تیزی سے اضافہ

کورونا کیسز اور خوف،دونوں میں تیزی سے اضافہ
کورونا کیسز اور خوف،دونوں میں تیزی سے اضافہ

  

امریکہ سے آئی ہوئی شاعرہ، محقق اور افسانہ نگار بینا گوئندی نے جو آج کل لاہور میں مقیم ہیں، کل ایک دردناک پوسٹ فیس بُک پر شیئر کی، انہوں نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سے التجا کی کہ خدارا ہمیں اس آزادی سے بچائیں جو موت کا باعث بن گئی ہے، سخت لاک ڈاؤن کریں، کیونکہ مَیں امریکہ اپنے بچوں کے پاس زندہ جانا چاہتی ہوں، ان باتوں میں جو خوف اور درد موجود ہے وہ اب ہر گھر میں جا گھسا ہے، جتنی تیزی سے اموات ہو رہی ہیں اور کورونا امیر و غریب کا امتیاز کئے بغیر جس طرح اچھے بھلے انسانوں کو دو چار دن میں زندگی سے دور کر رہا ہے،اُس کی وجہ سے معاشرہ نفسیاتی مریض ہی نہیں خوف کی وادی بھی بنتا جا رہا ہے۔ اوپر سے ایسے واقعات ہیں جو اس خوف کو اذیت ناک بنا رہے ہیں۔ ایک پروفیسر ظہیر احمد ظہیر کی کہانی نے سب کو رنجیدہ ہی نہیں انتہائی خوفزدہ بھی کر دیا ہے۔انہیں کرونا لاحق ہوا تو گھر والوں نے انہیں ایک کمرے میں بند کر دیا۔ اُن کا بیٹا کورونا کی وجہ سے ہسپتال میں جاں بحق ہوا تو اُن کی حالت مزید بگڑ گئی،ایسے میں اُن کے ورثاء نے اُنہیں ہسپتال لے جانے کی بجائے گھر کو تالا لگالا اور اُنہیں بے یارو مددگار چھوڑ کر غائب ہو گئے ،

صرف یہی نہیں،بلکہ اردگرد کے ہمسائے بھی محلہ چھوڑ گئے، کچھ لوگ جنہیں اُن کی حالت کا پتہ تھا، پولیس کو اطلاع دی، جس نے آ کر ایس او پیز کے مطابق مرحوم پروفیسر کی تدفین کی۔یہ کورونا تو ایسا ظالم ہے کہ کسی کو لاحق ہو جائے تو خونی رشتے بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے ایک بدنصیب بیٹے کی تصویریں بھی منظر عام پر آ چکی ہیں جس کے والد کورونا کی وجہ سے جاں بحق ہوئے تو اُن کی تدفین کے لئے ہمسایوں،رشتہ داروں حتیٰ کہ اُس کے دیگر بہن بھائیوں نے آنے سے انکار کر دیا۔ اُسے خود ہی قبر کھودنی پڑی اور تن تنہا اپنے والد کو قبر میں اتارنا پڑا۔ یہ ایسے واقعات ہیں جنہوں نے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، خاص طور پر وہ لوگ جو اِس وبا کا شعور رکھتے ہیں،جو اسے ایک مذاق نہیں سمجھتے،جو ابھی جینا چاہتے ہیں۔

صرف ایک دن کے وقفے سے تین ارکانِ اسمبلی اور ایک صوبائی وزیر اس کورونا کی بھینٹ چڑھ گئے۔ یہ واقعات تین صوبوں پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ میں رونما ہوئے۔ گویا کورونا کا عفریت ہر جگہ پنجے گاڑھ چکا ہے،بہترین نگہداشت کے باوجود یہ شخصیات اس کے وار سے بچ نہیں سکیں، ہمارے ہاں کورونا متاثرین کی تعداد چین سے بڑھ چکی ہے، لیکن حکومتی شخصیات کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کم ہے،اتنی نہیں جتنی توقع تھی، ایسی باتیں زخموں پر نمک چھڑک دیتی ہیں کیا ہمیں کوئی ٹارگٹ ملا ہوا ہے کہ ہم نے ایک خاص تعداد تک جانا ہے۔ جب کورونا کیسز 20ہزار تھے تو کہا گیا توقع سے بہت کم ہیں، اب 80ہزار ہو چکے ہیں تو پھر بھی یہی کہا جا رہا ہے۔ ماہرین طب تو یہ دِل دہلا دینے والی بات بھی کر رہے ہیں کہ صرف لاہور میں 50لاکھ کے قریب لوگ کورونا وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں،مگر اُن کے ٹیسٹ نہیں کرائے جا رہے،

اس پر پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے دو ٹوک کہہ دیا ہے کہ ہم اتنے لوگوں کا ٹیسٹ نہیں کرا سکتے،روز بروز گھمبیر ہوتی صورت حال میں اندھیرا بڑھتا چلا جا رہا ہے، حکومت درمیان سے نکل جانا چاہتی ہے، وہ ساری باتیں، وہ سارے ضابطے ہوا ہو گئے ہیں جو شروع میں بڑے طمطراق سے نافذ کئے گئے تھے،اب تو بیرون ملک سے آنے والوں کو صرف ٹیسٹ سیمپل لے کر گھروں کو جانے کی اجازت دی جا ر ہی ہے،کسی کا رزلٹ مثبت آیا تو اُسے قرنطینہ کرنے کی پالیسی متعارف کرائی گئی ہے، گویا جو بیرونِ ملک سے کورونا وائرس لے کر آئیں گے وہ بلا رکاوٹ اپنے گھروں اور محلوں میں چلے جائیں گے، جب دو چار دن بعد رزلٹ آئے گا تو انہیں وہاں سے نکالا جائے گا،اُس وقت تک وہ کتنوں کو متاثر کر چکے ہوں گے،اس پر توجہ دینے کی کسی کے پاس فرصت نہیں۔

اُدھر اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر نے تقریباً آدھے اسلام آباد کو کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش ِ نظر سیل کر دیا ہے۔فوج، پولیس اور رینجرز کا پہرہ بٹھا دیا گیا ہے۔ اسلام آباد تو پھر بھی ایک کھلا شہر ہے،اگر وہاں کے ڈپٹی کمشنر کورونا سے بچاؤ کے لئے ایسا لاک ڈاؤن کر سکتے ہیں تو پھر لاہور جیسے گنجان آباد شہر میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا، جہاں کے مختلف علاقوں کی نشاندہی بھی ہو چکی ہے، جن میں کورونا بُری طرح پھیل چکا ہے۔ لاہور میں جب کورونا کیسز بڑھے تھے تو کہا یہ گیا تھا کہ وہاں لاک ڈاؤن سخت کیا جائے گا،مگر نجانے کس وجہ سے ایسا نہیں کیا گیا۔آج جبکہ یہ حالت ہو چکی ہے کہ سرکاری اعداد و شمار بھی لاہور کو سب سے زیادہ متاثر شہر ظاہر کر رہے ہیں اور غیر سرکاری تو ہیں ہی ہوش اُڑا دینے والے، لاہور کے لئے کوئی خصوصی پلان تیار نہیں کیا جا رہا، سب کچھ اللہ کے سہارے چھوڑ دیا گیا ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں اگر کورونا بے قابو ہو جاتا ہے تو باقی صوبے کا کیا بنے گا۔ہونا تو یہ چاہئے کہ لاہور کے لئے کورونا ایمرجنسی ڈکلیئر کی جائے،جہاں جہاں کیسز زیادہ سامنے آئے ہیں وہاں اسلام آباد کی طرح سخت لاک ڈاؤن کر دیا جائے۔

دو ہفتوں کے بعد پھر دوسرے ایسے ہی علاقوں پر توجہ دی جائے، اس طرح کم از کم کورونا کا پھیلا تو کسی حد تک رُک جائے گا،اب تو سب کچھ شتر بے مہار کی طرح چل رہا ہے۔ خدا نہ کرے کہ وہ وقت آئے جب ہر گھر سے لاشیں نکل رہی ہوں،لیکن اب یہ بات کوئی افسانہ نہیں،بلکہ ایک سفاک زمینی حقیقت ہے وہ بیانیہ غلط ثابت ہو چکا کہ کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے یہ بات بھی فرسودہ ثابت ہوئی کہ کورونا سے98 فیصد لوگ خودبخود ٹھیک ہو جاتے ہیں،اس کے برعکس جو حالیہ اموات ہوئی ہیں، اُن میں یہ رجحان دیکھا گیا ہے کہ کسی کو کورونا کی وجہ سے ہسپتال لے جایا گیا تو وہ ایک دو دن ہی میں زندگی ہار گیا۔ وہ باتیں بھی فرسودہ ثابت ہوئیں کہ پاکستان میں جو کورونا آیا ہے وہ تیسرے درجے کا ہے اور زیادہ ہلاکت خیز نہیں۔

کورونا کی بڑھتی ہوئی حشر سامانیوں اور کیسوں میں تیز رفتار اضافے سے لگتا ہے، حکومت پر بھی دباؤ بڑھنے لگا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ لوگوں نے احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کیا تو لاک ڈاؤن دوبارہ سخت کیا جا سکتا ہے۔ہائے ظالم تجھے کس وقت خدا یاد آیا جب پہلے یہ کہا جا رہا تھا کہ عوام نے کسی ایس او پی پر عمل نہیں کرنا، کیونکہ وہ تو کورونا کو ایک مغربی ڈرامہ سمجھتے ہیں تو یہ کہا گیا کہ لوگ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے۔حالت یہ ہے کہ آپ سڑک یا بازاروں میں نکلیں تو آپ کو سو میں سے ایک آدمی بھی ماسک پہنے نظر نہیں آئے گا۔لوگ اسے مفت کی اذیت سمجھتے ہیں۔ پنجاب حکومت نے تمام سرکاری دفاتر میں ماسک پہننا ضروری قرار دے دیا ہے،مگر صاحب سرکاری دفاتر میں کتنے لوگ جاتے ہیں، آبادی کا اصل سیلاب تو بازاروں اور سڑکوں پر گھوم رہا ہے۔اگر انہیں ماسک کے بغیر کھلا چھوڑ دیا گیا ہے، تو کورونا رکنے والا نہیں۔ کہنے کو بہت کچھ کہا جا سکتا ہے، مگر اصل المیہ یہ ہے کہ حکومت خود اس معاملے میں حد درجہ ابہام کا شکار ہے۔ یہی وہ سب سے بڑا خطرہ ہے جو کورونا وائرس کو پاکستان کے لئے تباہ کن بنا سکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -