چوتھا صنعتی انقلاب اور تعلیم کو درپیش چیلنجز

چوتھا صنعتی انقلاب اور تعلیم کو درپیش چیلنجز

  

عالمی اقتصادی فورم کے بانی، کلاز شواب (Klaus Schwab) کے مطابق ”پہلے صنعتی انقلاب نے برطانیہ کی اقتصادی اور سیاسی طاقت کو جنم دیا۔ دوسرے صنعتی انقلاب نے امریکا کی عالمی بالادستی کو جنم دیا۔ بعدازاں، اس بالادستی کو کمپیوٹر سے برآمد ہونے والے تیسرے صنعتی انقلاب نے تقویت پہنچائی۔“ اب جب کہ چوتھا صنعتی انقلاب ہماری جانب تیزی سے بڑھتا چلا آرہا ہے، تو قیاس کیا جارہا ہے کہ اس کے بعد سب کچھ بدل کر رہ جائے گا۔ ہماری زندگی کا طرز اور طریقہ وہ نہیں رہے گا، جواَب ہے۔ ہم کچھ اور ہی بن جائیں گے، کچھ اور ہی انداز میں سوچا کریں گے، کسی اور طرز پر زندگی گزاریں گے۔

ہم چوتھے صنعتی انقلاب کے ابتدائی زینے پر ہیں۔ وہ دَور، جو ڈیجیٹل، فزیکل اور بائیولوجیکل نظام کو اس طرح یک رنگ کررہا ہے، جس کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ ورچوئل ریلیٹی، آگمینٹڈ ریلیٹی، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس ٹیکنالوجی ہمارے رہن سہن اور کام کے انداز کو بہت تیزی سے تبدیل کررہے ہیں۔خودکاریت (automation) نہ جانے ہمیں خود سے کچھ کرنے دے گی یا سب کچھ خود بخود ہی ہو جایا کرے گا۔ گویا؎ محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی۔ اس کے بعد معیشت کچھ ایسے سانچوں میں ڈھل جائے گی کہ روزگار اور کسبِ معاش کے تمام طریقے ہی یک سر بدل جائیں گے۔دیکھا جائے، تو تبدیلی کے اس عمل میں دنیا صنعتی انقلاب کے تین ادوار سے آگے نکل آئی ہے، کیوں کہ پہلا دَور میکینکل تبدیلی کا تھا، جس میں چیزیں اور ان کی پیداوار، مشینی ہوئی تھی۔ دوسرا دَور بڑے پیمانے پر پیداوار کی تیاری اور بہتات کا تھا، جب کہ تیسرا انقلاب، خودکاری یعنی automation کا تھا، جس کے بعد اب ہم صنعتی ترقی کے چوتھے دَور میں داخل ہوچکے ہیں۔

”Gig Economy“نے آجر اور اجیر کے درمیان تعلق کی نئی شکلوں کو جنم دیا ہے۔ گگ اکانومی ایسے طرزِ معیشت کا نام ہے، جس میں روزگار کے مواقع کسی پراجیکٹ وغیرہ کی بنیاد پر کام کی نوعیت اور مدت کے مطابق فراہم کیے جاتے ہیں۔ یعنی معیشت کی ایسی شکل، جس میں روزگار کے مواقع روایتی اور مستقل بنیادوں کی بجائے عارضی نوعیت کے ہوتے ہیں، جنہیں اب انٹرنیٹ وغیرہ پر بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ گویا اب کسی مقرر جگہ کی بجائے، بالکل الگ تھلگ رہتے ہوئے تنِ تنہا روزگار کمایا جاسکتا ہے۔ یہ مزدور اور کلائنٹ کے درمیان تعلق کی قطعی جدید شکل ہے، جس میں فریقین کے درمیان ملاقات بھی ضروری نہیں۔Gig (گگ) دراصل میوزک کی اصطلاح ہے، جو اپنے اندر سنگل پرفارمینس کا مفہوم لیے ہوئے ہے۔ یعنی کسی سازندے یا اُن کے گروپ کی سنگل پرفارمینس۔

جدید دَور کا مزدور، چوں کہ سنگل پرفارمینس کے ذریعے اپنا روزگار کماسکتا ہے، اس لیے اسے ”گگ اکانومی“ کا نام دے دیا گیا۔ اس لحاظ سے امید کی جاسکتی ہے کہ مستقبل میں گگ اکانومی مزید نئے سانچوں میں ڈھل جائے گی۔روزگار کے اِس نئے تصوّر کے ساتھ ظاہر ہے، تعلیم کا تصور بھی یک سر بدل جائے گا، لہٰذا اس کے بعد ہم جو کچھ سیکھیں گے، اس کی رفتار کو نئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ ہم آہنگ رکھنا ضروری ہوگا۔ بلاشبہ، ہم اب ایسے علوم حاصل کرنے یا سیکھنے کے دَور میں داخل ہوچکے ہیں، جہاں مختلف مضامین انضباطی لحاظ سے ایک دوسرے کوقطع (Cross Disciplinary) کریں گے اور یہ ذاتی نوعیت کے اور انسانی مہارتوں پر مرکوز ہوں گے۔ لہٰذا اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ حکومت اور نجی شعبے کے اشتراک سے مستقبل کے فریم میں نصب ہوجانے والی”Future-fit-Education“ کا حصول ممکن بنایا جائے۔ موجودہ عہد کو ایسا دَور کہا جا رہا ہے، جس میں سماجی اور معاشی اہمیت، تبدیلی کے مسلسل عمل سے گزر رہی ہے۔

خود کاریت اور مصنوعی ذہانت کی دَم بخود کر دینے والی پیش رفت زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کر رہی ہے۔ تغیّر اور حیرت انگیز تبدیلی کا یہ عمل اس قدر عام ہوتا جارہا ہے کہ اب لوگ غیر معمولی چیز بھی دیکھ کر حیران نہیں ہوتے۔ مختلف قسم کے اعدادوشمار اور مواد تک رسائی انتہائی سہل اور عام ہوچکی ہے۔ معیشت کا تقریباً ہر شعبہ ان ٹیکنالوجیز کے زیرِاثر ہے۔ زندگی کے تمام ہی شعبے اور پیشے گویا اپنی وسعتوں سمیت ایک حیران کُن پیش قدمی کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔ صحت، توانائی، مالیات، ذرائع آمدورفت اور صنعت وحرفت کچھ بھی تو اس کے دائرے سے باہر نہیں رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی کے صنعتی انقلاب جس طرح ہماری زندگیوں کو آرام وآسائش اور سہولتوں سے فیض یاب کرتے رہے ہیں، اسی طرح صنعت وحرفت کا چوتھا انقلاب آج ہمارے سامنے نمودار ہورہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انقلاب سورج کی طرح رات کی تاریکیوں میں سے یک دم طلوع ہو کر اُفق پر نمودار نہیں ہوجاتا، جیسے رات کی تاریکی چند ساعتوں میں دن کے اُجالے میں بدل جاتی ہے۔ انقلاب تو اپنی ہمہ گیری کے ساتھ برپا ہونے تک ہماری سماجی، معاشی اور معاشرتی زندگی میں دھیرے دھیرے اور بتدریج تغیر پذیر ہوتا رہتا ہے۔ اختراع کی نوک ہر شے میں چبھتی ہوئی نئی تراش خراش کے ساتھ اسے نئی ہیئت میں ڈھالتی چلی جاتی ہے۔

انقلاب کے نقّاروں پر کان دھر کے بیٹھنے والے پیش گوئی کررہے ہیں کہ یہ اختراعات مستقبل میں ہمارے کاموں کی نوعیت بدل کر رکھ دیں گی۔ ٹیکنالوجی کی اس ہمہ گیر پیش قدمی کی وجہ سے بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ مختلف حوالوں سے سامنے آنے والے تجزیے اور آراء چکرائے دے رہے ہیں۔ تبدیلی کے اس عمل میں نظام ہائے تعلیم، نئے نصابوں اور نئے ڈھانچوں میں ڈھالنے پڑیں گے۔ اور یہ عمل ساتھ ساتھ وقوع پزیر ہوتا رہے گا۔ تنظیم برائے معاشی تعاون و ترقی (Organization for Economic Co-operative Development) (OECD) کے ایک جائزے کے مطابق اس تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان 14 فی صد ملازمتیں تو بہت زیادہ خود کاریت کی حامل ہوجائیں گی۔ 32 فی صد کے قریب ملازمتوں کی نوعیت بالکل ہی بدل جائے گی۔ اور پھرگگ اکانومی نے تو حالیہ عرصے میں کام و روزگار کے روایتی ڈھانچے اور طرز کو بدل کر ہی رکھ دیا ہے۔ بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ معیشت اور معاشرت کے حوالوں سے ہم آہنگی، تعلیمی نظام کو جدید شکل میں ڈھالنے کے ذریعے ہی ممکن ہوگی، وگرنہ ایشیائی اور خاص طور پر مسلم ممالک جو پہلے ہی کئی قسم کے بحرانوں کا شکار ہیں، روزگار اور نوجوانوں کے مسائل کے حوالے سے مزید بحران کا شکار ہو جائیں گے۔

Mckinsey Global Institute کے مطابق امریکا اور یورپی یونین کے رکن ممالک میں کام کرنے والی آبادی، ورکنگ کلاس کا 20 سے 30 فی صد پہلے ہی enabled۔ Technology اور On-demand خود مختارانہ روزگار کمانے میں مشغولِ کار ہے اور اس تعداد میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے۔ یہ تبدیلی اور اس کے اعدادوشمار ہمارے لیے لمحہ? فکریہ ہیں کہ آنے والے وقت میں روزگار اور معیشت کی بدلتی ہوئی صورتِ حال میں اپنے نظامِ تعلیم اور نصابِ تعلیم کو کس طرح اور کن بنیادوں پر ہم آہنگ کرنا ہو گا۔مستقبل کی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ کچھ نئی منڈیاں، نئی صنعتیں اور نوکریاں تو اس طرح کی ہوسکتی ہیں، جن کا ہم آج تصوّر بھی نہیں کر سکتے۔

اب جب کہ بہت تیزی سے یہ سب کچھ ہونے جارہا ہے، بلکہ ساتھ ساتھ تغیر پذیری کا یہ عمل جاری ہے، تو یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ اس صورتِ حال میں ہم نظام ونصابِ تعلیم میں وہ کیا کیا ممکنہ تبدیلیاں لا سکتے ہیں، جو ہمیں ہماری اصل سے کاٹے بغیر جدید تقاضوں سے بھی ہم آہنگ رکھیں اور ترقی کی شاہ راہ پر گام زن بھی رہنے دیں۔ اس حوالے سے بہت سے معاملات ایسی نزاکت کے حامل ہیں کہ بے توجہی اور بے احتیاطی قومی اور ملّی سطح پر خطرناک نتائج کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ اس ضمن میں آنکھ بند کر کے تقلید کرنے کی بجائے قلب ونظر سے کام لیتے ہوئے بُرے، بھلے، بہتر اور بدتر نفع، نقصان کے تمام پہلوؤں کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہوگا۔

یہ ہمارا قومی المیہ ہی ہے کہ دنیا کی چھٹی سب سے بڑی آبادی، جوہری توانائی کی حامل واحد مسلم ریاست، اور 60 فی صد سے زائد نوجوان آبادی کا حامل ملک اب تک تعلیم کے بنیادی مسائل ہی سے نبرد آزما ہے۔ 72 سال گزرنے کے باوجود ہمارے ہاں 50 فی صد کے لگ بھگ ناخواندہ آبادی ہے، جسے روزگار کے قابل بنانے کے لیے ہماری حکومت مجموعی قومی پیداوار کا 2 فی صد سے بھی کم تعلیمی بجٹ فراہم کررہی ہے۔ مشہور ضرب المثل ہے کہ ”زمانہ کسی کا انتظار نہیں کرتا۔“ پاکستان کو نئے دَور سے ہم آہنگ کرنے کے لیے دہرے ہدف اور دہری رفتار سے آگے بڑھنا ہوگا۔ گزشتہ کوتاہیوں کا ازالہ کرنے کے لیے ایک طرف ہمیں تعلیم و تربیت اور تحقیق کی رفتار بڑھانا ہوگی، تو دوسری جانب نئے اقدامات بھی کرنے ہوں گے۔ دنیا کی اکانومی میں پاکستان کا حصّہ 0.34 فی صد ہے۔

ایک بڑی آبادی ہونے کے ناتے اندرونِ ملک اور بیرون ملک غیر ہنرمند اور ہنر مند لیبر مارکیٹ ہمارا سب سے بڑا اثاثہ تھی، جو چوتھے صنعتی انقلاب کے بعد شدید چیلنجز سے دوچار ہے۔ ہائی ٹیک انڈسٹریز، روبوٹ اور مصنوعی ذہانت کے بعد شاید یہ لیبر مارکیٹ اب اس قدر دنیا کی ضرورت پوری نہ کرسکے۔ خدشہ یہ ہے کہ اس قدر بڑی آبادی کو اس سے بھی بڑے معاشی، تعلیمی چیلنجز سے دوچار ہونا پڑے گا۔ کیا ہم بحیثیت قوم اس کے لیے تیار ہیں!!!

چوتھے صنعتی انقلاب کے بعد دنیا کو ایک بڑے انسانی بلکہ اخلاقی سوال کا سامنا بھی کرنا ہوگا کہ وہ نوکری مشین کو دیں یا انسان کو…؟ سرمایہ دارانہ سماج، ہر صُورت میں اپنے مفاد کو پیشِ نظر رکھتا ہے، خواہ اس کے لیے کسی بھی قسم کی سفّاکانہ اور بے رحم معاشی پالیسیوں کو رائج کرنا پڑے، مگر اعلیٰ اخلاقی اقدار پر مبنی نظام کو بہرحال اس سوال کا جواب بھی دینا ہوگا۔ گویا چوتھے صنعتی انقلاب کے بعد ہمیں نئے تعلیمی اور معاشی سانچے بنانے کے ساتھ ساتھ علمی، نظریاتی اور اخلاقی دائروں میں کچھ نئے سوالات کے جوابات بھی دینے ہوں گے۔ حکیم الامّت علّامہ محمد اقبال نے ایسے ہی تعجب خیز اور تغیر پذیر حالات کے لیے یہ بات کہی تھی؎جو عالمِ ایجاد میں ہے صاحبِ ایجاد.....ہر دَور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ۔

مزید :

رائے -کالم -