مظاہرین کیخلاف کارروائی، امریکی جرنیلوں نے صدر ٹرمپ کا حکم ماننے سے انکار کر دیا، واشنگٹن کے باہر تعینات فوج واپس شمالی کیرولینا روانہ

  مظاہرین کیخلاف کارروائی، امریکی جرنیلوں نے صدر ٹرمپ کا حکم ماننے سے انکار ...

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں )امریکی جرنیلوں نے صدر ٹرمپ کے کہنے پر فوج کو مظاہرین کے خلاف استعمال کرنے سے انکار کر دیا جس پرصدر ٹرمپ اپنے موقف سے پسپا ہونے پر مجبور ہوگئے، واشنگٹن کے باہر تعینات فوجی واپس شمالی کیرولائنا بھیج دیے گئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی افواج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک میلی نے صدر ٹرمپ پر سرعام تنقید کی تھی اور فوج کو حکم دیا تھا کہ وہ آئین کی پاس داری کرے، سابق جرنیلوں نے بھی صدر ٹرمپ پر فوج کو سیاسی چپقلش میں گھسیٹنے کی کوشش کا الزام لگایا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ کے دست راست سینیٹر لنزی گراہم نے بھی تسلیم کیاکہ وہ اب یہ نہیں کہہ سکتے کہ صدر ٹرمپ پر کوئی الزام عائدہی نہیں کیا جاسکتا۔ری پبلکن سینیٹر لیزا مرکووسکی نے جیمز میٹس کے بیان کو وقت کی ضرورت قرار دیا اور تسلیم کیا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ کھڑا ہونا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔دوسری طرف شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کیخلاف امریکہ میں کرفیو کے باوجود مسلسل آٹھویں روز بھی ہزاروں افراد نے پرامن مظاہرہ کیا۔مظاہرین نے ڈینور کے میئر مائیکل ہان کاک کی جانب سے لاگو کرفیو کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی۔ تاہم پولیس نے اس خلاف ورزی کا شدت کے ساتھ جواب نہیں دیا۔مقامی اخبار کے مطابق جارحانہ مداخلت نہ کرنے کے عمل نے تفریق پیدا کردی ہے کیونکہ سفید فام پولیس افسر کے ہاتھوں کیمرے کے سامنے فلائیڈ کے قتل سے متعلق ڈینور میں بڑے پیمانے پر مظاہروں نے اقلیتوں کیخلاف پولیس کے ظلم بارے ملک اور دنیا بھرمیں شدید رنج پہنچایا ہے۔ ڈینور کے شہری مرکز پارک میں فلائیڈ کی یاد میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ان کی زندگی کو گانوں اور دعاں کے ذریعے اعزاز بخشا گیا۔8منٹ45سیکنڈ کی خاموشی اختیار کی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کیدوسری طرف نیلسن منڈیلا فانڈیشن نے امریکہ میں سیاہ فام لوگوں کے خلاف پولیس کی وحشیانہ کارروائی کی مذمت کی ہے۔فانڈیشن کا کہنا ہے کہ ہر سال امریکی پولیس کے ہاتھوں 1 ہزار سے زیادہ سیاہ فام لوگ مارے جاتے ہیں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں،پیشگی پولیسنگ، ہدف کی بنیاد پر نگرانی اور دیگر ہتھکنڈوں نے دوسرے لوگوں سے زیادہ سیاہ فاموں کی زندگیاں خطرات سے دوچار کردی ہیں۔تنظیم کا کہنا ہے کہ سیاہ فاموں کی زندگی بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے کہ انہیں بھی سڑکوں پر نکل کر اس نظام کے خاتمے کا مطالبہ کرنے کا حق دیا جائے، جس کے تحت ایسے عوامل پیدا کئے جاتے ہیں جس کے ذریعے سیاہ فاموں کے خلاف تشدد کو بڑھاوا دیا جاتا ہے۔

جرنیل انکار

واشنگٹن(اظہرزمان، بیوروچیف) امریکہ کے مختلف شہروں سے سیاہ فام جارج فلائیڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ واشنگٹن ڈی سی میں احتجاج کرنے والے افراد نے اب اپنے مطالبات کی ترجیح تبدیل کرلی ہے اور ان کا نیا نعرہ پولیس افسروں کو سزا دینے اور نومبر کے انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دینے پر مرکوز ہے۔ 25مئی کو منی سوٹا کی ریاست میں ایک زیر حراست سیاہ فام ملزم کو چار پولیس افسروں نے قابو کر لیااور ایک افسر نے اس کی گردن پر گھٹنا ٹیک کر اس کا سانس بند کر دیا اور اس کی موت واقع ہوگئی۔ اس کے فوراََبعد اسے نسلی منافرت کا واقعہ قرار دے کر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا اور متحدہ شہروں میں شدت اختیار کر گیا۔مظاہرین نے سیاہ فام باشندپر ہونے والے ظلم کو اجاگر کیا۔ تاہم اب واشنگٹن ڈی سی میں احتجاج نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ دارلحکومت میں گزشتہ تین روز سے مظاہرین نے جوپلے کارڈ اٹھا رکھے ہیں یا نعرے لگارہے ہیں ان میں ان کا بڑا مطالبہ اب یہ بن گیا ہے کہ قتل کے ذمہ دار پولیس افسروں کو قرار واقعی سزا دی جائے اور یہ عہد کیا جارہا ہے اس نسلی امتیاز کے سلوک کے اصل ذمہ دار صدر ٹرمپ کو آئندہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں شکست دی جائے۔ میڈیا میں چند مظاہرین کے انڑویونشر کئے گئے ہیں جس میں وہ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایک پولیس افسر کے خلاف قتل کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے اور باقی تین افسروں کو اعانت کرنے کے الزام میں جیل میں ڈالا جائے۔ انٹرویو دینے والے تمام افراد نے آئندہ انتخابات میں صدر ٹرمپ کے خلاف اور جوبیڈن کے حق میں ووٹ ڈالنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک گیر مظاہروں کا اہتمام کرنے والی تنظیم ”انتیفا“ جسے صدر ٹرمپ دہشت گرد قرار دینا چاہتے ہیں ایک سیاسی ایجنڈے کے تحت اس قتل کو صدر ٹرمپ کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس طرح یہ واضح ہورہا ہے کہ سخت گیر پالیسیوں کی حامی ”انتیفا“ ان مظاہروں کے ذریعے صدر ٹرمپ کے خلاف جذباتی فضاء بنانے کیلئے کوشاں ہے اس دوران منی سوٹا کے اٹارنی جنرل نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ تفشیش کاروں کی رپورٹ کے مطابق سیاہ فام کے خلاف تشدد کی کارروائی جان بوجھ کی گئی ہے۔امریکی ٹیلی ویژن نشریات کے مطابق جمعہ کے روز مظاہرے گیارہویں دن میں شامل ہو گئے جو واشنگٹن ڈی سی،نیو یارک سمیت متعدد شہروں میں جاری رہے نارتھ کیرولینا میں سیاہ فام کے خاندان کے افراد ہفتے کے روز وہاں سوگ منانے کی تقریب منعقد کر رہے ہیں جہاں اس سے قبل مظاہرین نے شدید نعرے بازی کی اس دوران معلوم ہوا ہے کہ منی سونا کی ریاست میں جہاں گھٹنے سے سیاہ فام کا گلا دبانے کا واقعہ پیش آیا وہاں اس طرح کی کارروائی کے ذریعے ملزموں سے سلوک کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

احتجاج جاری

مزید :

صفحہ اول -