سینیٹ، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کیخلاف قرار داد منظور

  سینیٹ، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کیخلاف قرار داد منظور

  

اسلام آباد (آئی این پی) سینیٹ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف قرارداد منظور کر لی جس میں قوام عالم سے مطالبہ کیا گیا کہ نہتے کشمیریوں پر بھارتی مظالم بند کراے جائیں،اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات سے متعلق ترمیمی بل بھی سینیٹ میں پیش کردیا گیا جسے چیئرمین نے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر تے ہوے10دن میں اراکین سے اس بل پر سفارشات طلب کر لیں۔ سینیٹ اجلاس کی صدار ت چیئرمین صادق سنجرانی نے کی۔ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف قرارداد اپوزیشن لیڈر راجہ ظفر الحق نے پیش کی۔جس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کی شدید مذمت کی گئی اور اقوام متحدہ اور دیگر عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا کہ بھارتی مظالم کا نوٹس لیا جائے اور نہتے کشمیریوں پر مظالم بند کراے جائیں۔اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دیا جا ئے۔اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات کا بل مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے سینیٹ میں پیش کیا۔چیئرمین سینیٹ نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔چیئرمین نے ہدایت کی کہ کمیٹی 8 جون تک سفارشات مکمل کرے اوردس روز میں سفارشات پیش کی جائیں۔بل کے تحت اراکین پارلیمنٹ کو 25بزنس کلاس اوپن ریٹرن ائیر ٹکٹ کی جگہ مساوی مالیت کے واؤچرز جاری ہونگے۔یہ واؤچرز اراکین پارلیمنٹ کے خاندان کے اراکین بھی استعمال کر سکیں گے۔مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے جنرل الیکشن 2018ء کی جائزہ رپورٹ ایوان بالاء میں پیش کی۔سینیٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین پاکستان سٹیل ملز کی نجکاری کے فیصلے پر حکومت پر برس پڑے۔مسلم لیگ (ن) کے مشاہد اللہ خان نے کہا کہ عمران خان کا کہنا تھا کہ سٹیل ملز کو ہم چلا کر دکھائیں گے، ووٹ لینے کیلئے بڑی بڑی بڑھکیں مارنے والے اب استعفیٰ دیں۔امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ عمران خان کا دعوی ٰتھا کہ سٹیل ملز کو وہ چلا کر دکھائیں گے، عمران خان کا وہ وعدہ کہاں گیا؟پاکستان سٹیل ملز کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبد القیوم نے مطالبہ کیا کہ پاکستان سٹیل ملز کے حوالے سے ایوان میں الگ بحث کروائی جائے۔وفاقی وزیر حماد اظہر نے حکومت کی جانب سے بتایا کہ پاکستان سٹیل ملز پر 211 ارب کا قرض اور اس کا نقصان 176 ارب روپے ہے،پاکستان سٹیل ملز 2008 اور 2009 کے درمیان میں منافع سے خسارے میں چلی گئی، 2015 میں اسٹیل ملز کو بند کر دیا گیا، ساڑھے پانچ سال میں ملازمین کو 35 ارب کی تنخواہ دی جاچکی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ سٹیل ملز کو نجی پارٹنرشپ کے ساتھ چلائیں، ہم سٹیل ملز کی قرض ری اسٹرکچرنگ کے بعد نجکاری کی جانب جائیں گے، سٹیل ملز کے ملازمین کو اوسط 23 لاکھ روپے دیے جائیں گے اور بعض کو تو 70 لاکھ روپے ملیں گے۔ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے کئے گئے مطالبات کے بعد چیئرمین سینیٹ نے اسٹیل ملز ملازمین کی ملازمت سے برطرفی کا معاملہ متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔دریں اثناء سینیٹ میں وزارت خزانہ کی جانب سے جمع کرائے گئے تحریری جواب میں خدشہ ظاہر کیاگیا ہے کہ کورونا وبا کے باعث ملک میں 30 لاکھ افراد بے روزگار ہو سکتے ہیں۔ جن میں صنعتی شعبے کے 10 اور خدمات کے شعبے کے 20 لاکھ افراد بے روزگار ہو سکتے ہیں۔

سینیٹ اجلاس

مزید :

صفحہ اول -